83

عالمی عدالت انصاف،کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد

Spread the love

دی ہیگ(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس

کلبھوشن جادھو کی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کردی۔عالمی عدالت انصاف

کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف دی ہیگ کے پیس پیلس میں کلبھوشن کیس کا

فیصلہ سنادیا۔عالمی عدالت انصاف نے بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرتے

ہوئے مؤقف اپنایا کہ کلبھوشن جادھو کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن

کے آرٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا۔عالمی عدالت انصاف نے

یہ بھی پڑھیں:بڑھکیں مارنے والا بھارت کلبھوشن کی رہائی کے مطالبے سے دستبردار

پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے اور اسے دی

جانے والی سزا پر نظر ثانی کرے۔فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ پاکستان

کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ

پڑھتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے، بھارت نے کلبھوشن کیلئے

قونصلر رسائی مانگی ہے، پاکستان کا مؤقف ہے کہ کلبھوشن کیس میں ویانا

کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ کلبھوشن کو قونصلر رسائی

نہیں دی جا سکتی، پاکستان کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے، پاکستان نے

ویانا کنونشن میں طے شدہ قونصلر رسائی کے معاملات کا خیال نہیں رکھا۔عالمی

عدالت انصاف کے فیصلے میں کہا گیا کہ ویانا کنونشن جاسوسی کے الزام میں قید

افراد کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا۔جج نے کہا کہ دائرہ اختیارِ سماعت

کے حوالے سے پاکستان کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔پاکستانی وقت کے

مطابق کیس کا فیصلہ شام 6 بجے سنایا جانا تھا جس میں معمولی تاخیر ہوئی،

فیصلہ سننے کے لیے پاکستان کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں دی ہیگ پہنچی

تھی جو عالمی عدالت انصاف میں موجود ہے۔ڈی جی سارک اور ترجمان دفتر

خارجہ ڈاکٹر فیصل بھی پاکستانی ٹیم میں شامل ہیں۔ بھارت نے نیوی کمانڈر

مزید پڑھیں:بھارتی وکیل عالمی عدالت میں کلبھوشن سے متعلق سوالات کے جواب دینے میں ناکام

کلبھوشن جادھو کی بریت کی درخواست دائر کررکھی تھی جسے اب عالمی عدالت

انصاف نے مسترد کردیا ہے۔کلبھوشن کیس کی آخری سماعت 18 سے 21 فروری

تک ہوئی تھی جس میں بھارت اور پاکستان کے وفود نے شرکت کی تھی۔بھارتی

وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی جب کہ پاکستانی وفد کی

سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان کر رہے تھے۔عالمی عدالت انصاف نے

کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا۔