227

نن، سلیب، برہنہ مجسمہ، مندر، اسلامک سینٹر اور 909

Spread the love

909 کی دکھی فلسطینی باشندے حسن اور بنگالی نژاد ’’محمد‘‘ سے دوبارہ ملاقات

ہوئی نہ رابطہ ہوا، البتہ اسے ٹوٹنگ اسلامک سینٹر کے وزٹ کا ٹاسک دیا گیا تھا،

اس کے ساتھ ساتھ لندن کے معروف علاقے ویسٹ ہیم میں بننے والے مسلمانوں

کے سب سے بڑے مدرسے میں جانے کا بھی کہا گیا تھا، برطانوی امیگریشن

اسلام کی تبلیغ کیلئے جانیوالے وفد کو خاصی تعداد میں ویزے جاری کرر ہی تھی،

یہ بھی پڑھیں: عراق جنگ، فلسطین پر صہیونی مظالم اور نوجوان حسن

یورپ کی طرح برطانیہ میں بھی ویران چرچوں کو مسجد اور مندر میں تبدیل

کرنے کا عمل جاری تھا، لندن کے علاقے میں کئی چرچ ویران پڑے تھے، مسلم

اور ہندو کمیونٹی اپنی عبادت کیلئے انہی چرچوں کو استعمال میں لا سکتی تھی ،

نئے سرے سے مسجد اور مندر کی تعمیر کی اجازت نہیں تھی البتہ اکا دکا مثالیں

موجود تھیں، ان میں قادیانیوں کی مسجد اور چند ایک مسلمانوں کے اسلامک سینٹر

تھے، جنہیں مسلم کمیونٹی سینٹر کا لائسنس دیا گیا تھا، بعض چرچز کا ایک حصہ

مسجد اور ایک مندر میں تبدیل کر دیا گیا تھا، مسلمان اور ہندو اس پر بھی خوش

تھے کہ کم از کم ان کو اپنے علاقے میں مذہبی آزادی تو حاصل تھی، لندن کی

وانڈز ورتھ کونسل نے ایک علاقے میں مندر کے نیچے ’’اڈے‘‘ کا بھی لائسنس

دیا ہوا تھا، گاہک وہاں اپنی ’’پیاس‘‘ بجھانے آتے تھے، اوپر مندر کی گھنٹیاں

بولتی تھیں تو نیچے دل کی۔

برطانوی حکومت کی جانب سے ہندوئوں کو بھگوان کرشنا اور رادھا کی مورتی

رکھنے کی ہی اجازت تھی ’’کالی ‘‘ کی مورتی نہیں رکھی جا سکتی تھی، ایسے

بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں کالی دیوی کا مندر بنانے پر پابندی لگائی گئی

تھی، ادھر زمبابوے میں پروان چڑھنے والی عیسائیوں کی تنظیم نے برطانیہ کے

ویران چرچز کو سنبھالنے کیلئے ٹیک اوور شروع کرد یا تھا اور وہ اہم علاقوں

میں واقع چرچز کو مسلمانوں کے قبضے سے بچانے کیلئے ہر اتوار کے روز

خصوصی عبادت کا انعقاد کرتے تھے، برطانیہ کے تمام چرچز میں 90 فیصد

آنیوالے صرف کالے تھے، گورے ان کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہ چھوڑتے

تھے، خاص طور پر میڈیا پر عیسائیت کا بھرپور مذاق اڑایا جاتا تھا، تاریخ میں

برطانیہ میں چڑیل کے نام پر لاکھوں گوری خواتین کو جس طرح برہنہ کر کے

سلیب میں پرو دیا جاتا تھا یہ علم انہیں تاریخ کی کتابوں میں بار بار پڑھایا جاتا تھا

جس کے باعث برطانوی شہری عیسائیت و مذہب سے مکمل بے زار ہو چکے تھے

ایک مرتبہ مزاح سے بھرپور ایک پروگرام میں مقامی ٹی وی چینل پردکھایا گیا کہ

نوکری کیلئے ایک نن جاب کیلئے جاتی ہے تو مالک اس سے پوچھتا ہے وہ کیا

جاب آسانی سے کر سکتی ہے، نن فوراً میز پر چڑھ کر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں

اٹھا دیں، اس مزاحیہ کلپ پر احتجاج بھی ہوا لیکن مسکراہٹ اپنی جگہ پر قائم تھی،

پھرتین دنوں پر مشتمل ایک سروے بھی دکھایا گیا کہ ایک مقام پر دو میز رکھے

گئے ایک پرسلیب کا نشان اور مقدس تشبیہ جبکہ دوسرے پر ایک نیم برہنہ حسینہ

کا مجسمہ رکھ دیا گیا، قریب سے گزرنے والے شہریوں سے ان کی رائے لی گئی

کہ وہ کس میز کے آگے جھکنا پسند کریں گے تو ماسوائے تین فیصد کے 97 فیصد

شہریوں نے حسینہ کے مجسمے کے آگے سر جھکایا، یہ سروے بھی برطانیہ میں

خاصا مقبول ہوا اور تنقید کا نشانہ بھی بنا-

اسی طرح 2 اپریل 2005 کو جب پوپ جان پال دوئم کا انتقال ہوا تو برطانیہ کے

سب سے مقبول اخبار دی سن نے3 اپریل کو اپنے فرنٹ پیج کے سب سے نیچے

ایک خاتون ماڈل کی تصویر شائع کی اور اس کی صرف برا پہنے چھاتیوں کے

عین نیچے پاپ جان پال کا چہرہ لگا دیا اور سرخی لگائی پاپ چل بسے، اس

حرکت پر کیتھولک والوں نے بہت برا منایا-

برطانوی شہری چرچ میں جانے والے کو بیمار شخصیت جانتے تھے، شادی کا

رجحان بھی گوروں میں نہ ہونے کے برابر تھا، اکثریت بوائے اور گرل فرینڈ کے

رشتوں میں جڑے تھے، انکے بچے بھی تھے لیکن باقاعدہ شادی بچوں کی پیدائش

کے دس یا گیارہ برس بعد کرنا فیشن بن چکا تھا، اس شادی میں ان کے بچوں کی

شرکت کو جوڑے کی ذہنی اور معاشی مضبوطی کی علامت سمجھا جاتا تھا، بیوی

مزید پڑھیں: سکنک اورمائیکل کی گرل فرینڈ شیلے

کو چھوڑنے کی صورت میں اسے بچوں کا خرچہ اور جائیداد میں سے حصہ دینا

پڑتا تھا، جبکہ بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کھیل میں ایسی کوئی شرط اور قانونی

رکاوٹ نہ تھی اسلئے سکولوں میں تمام بچوں کو ان کی والدہ کے نام سے ہی

رجسٹرڈ کیا جاتا تھا، باپ کے بارے میں نہیں پوچھا جاتا تھا، کون ہے اور کہاں

سے تعلق ہے-

ملکہ برطانیہ کی حکمرانی میں عورت کو بہت مقام حاصل تھا،اس کے رونے پر

مرد قصوروار تھے یہ لازمی تھا اور پولیس کو ہر حال میں عورت کو تحفظ د ینے

کا حکم تھا، ایک مرتبہ ایک گوری خاتون کا بوائے فرینڈ اسے کلب کے سامنے

اکیلا چھوڑ کر دوسری گرل فرینڈ کیساتھ جانا چاہتا تھا لیکن وہ اسے ایسا نہیں

کرنے دے رہی تھی دونوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی، پولیس آ گئی، لڑکی نے بتایا

کہ اس کے پاس واپسی کیلئے پیسے نہیں اور اس کا بوائے فرینڈ اسے دھوکہ دے

کر کسی دوسری لڑکی کے ساتھ اپنی گاڑی پر جانا چاہتا ہے، پولیس نے تمام

مجمعے کے سامنے لڑکے سے درخواست کی کہ اسے گھر چھوڑ کر آئے لیکن وہ

نہ مانا اور بالآخر یہ کام پولیس کو کرنا پڑا،

یہ بھی پڑھیں: بوسہ اور 50 پائونڈ

پاکستانی بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے تھے، نکاح پاکستان میں کیا یا پھر

برطانیہ کی کسی مسجد میں لیکن اس کی رجسٹریشن ممکن نہ تھی صرف شادی

رجسٹرڈ ہوتی تھی، طلاق برطانوی قانون میں کوئی معنی نہ رکھتی، اسکی جگہ

لفظ علیحدگی استعمال کیا جاتا تھا، پاکستانی ایک طرف بیوی کو طلاق نہ دیتے اور

دوسری جانب سرکاری کھاتے میں علیحدگی دکھا کر الگ ہو جاتے تھے، حکومت

بیوی بچوں کا بوجھ اٹھاتی، میاں صاحب رات کے اندھیرے میں چوری چھپے آتے

بیوی سے اچھی طرح ملکر بچوں کو پیار کر کے خرچہ پانی دے کر یا لے کر

واپس چلے جاتے، نیبر ہڈ واچ ایریاز میں اگر کبھی شکایت بھی ہو جاتی تو بیان

دیتے کہ ایک بچے کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی تھی، باپ ہونے کے ناطے

اسے دیکھنے کیلئے جانا پڑا کیونکہ بچے کی ضد تھی کہ اسے اپنے باپ سے

فوری ملنا ہے، موصوف خود کو بیمار، نکھٹو درج کروا کر کام کاج بھی کرتا تھا،

اس وقت کے وزیر خزانہ گورڈن برائون نے اس پر سخت نوٹس لے لیا اور دھوکہ

دہی کرنیوالوں کی سخت نگرانی کا بھی حکم جاری کر دیا گیا، اس کے باوجود

حکومت کروڑوں پائونڈ کی بے ضابطگی پر کڑھ رہی تھی، وزیر خزانہ نے اسے

معیشت پر بڑا بوجھ قرار دے دیا تھا۔

ویسٹ ہیم مدرسہ میں شکایات ملیں تھیں کہ وہاں جہادی سوچ رکھنے والے نماز

پڑھنے آتے تھے، خفیہ طور پر جہاد کے اوپر لیکچر بھی دیا جاتا تھا، برطانیہ

حکومت کی 24 گھنٹے نگرانی کے باوجود بھی اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ

مدرسہ کسی تشدد پسند سوچ کی پروان کیلئے استعمال ہو رہا ہے، حقیقت اس کے

جانیئے: جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن انگلش ورژن

برعکس تھی، دراصل جرائم پیشہ افریقی باشندوں کو مسلمان کرنے کیلئے پلاننگ

ہو رہی تھی جس کا حکومت کو علم تھا لیکن کیسے اس کے بارے میں آگاہی نہیں

تھی، البتہ 909 نے اس کے حوالے سے پیشگی آگاہ کر دیا تھا کہ آئندہ چند سالوں

میں برطانوی جیلوں میں کیا کچھ ہونے والاہے ۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔