170

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی “بد” اور “خوش” خبریاں

Spread the love

کراچی (جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن خصوصی رپورٹ)

دنیا بھرمیں پٹرولیم مصنوعات، اجناس و کھادیں سستی، پاکستان میں مہنگی

سٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں جہاں پیٹرول، دھاتیں،

اجناس سستی ہوئی ہیں وہیں پاکستان میں مہنگی ہوگئیں، حکومت کی جانب سے

پٹرول مہنگا کرنے کے باعث نجی شعبے کوبھی اشیاء مہنگی کرنے کی کھلی

چھٹی مل گئی۔ عالمی مارکیٹ میں ایک سال میں خام تیل 17 فیصد تک سستا ہوا

لیکن پاکستان میں اسوقت پیٹرول گزشتہ سال کے مقابلے میں13.4فیصد اور فرنس

آئل 27.5 فیصد مہنگا فروخت ہورہا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت ایک

سال کے دوران 4 فیصد کم مگر پاکستان میں الٹی گنگا چلی اورگزشتہ سال کے

مقابلے میں 31 فیصد مہنگی کردی گئی، چاول عالمی مارکیٹ میں 8 فیصد سستے

ہوچکے ہیں مگر وطن عزیزمیں7 سے11 فیصد تک مہنگے ہوگئے ہیں۔ عالمی

یہ بھی پڑھیں: ڈالر 152روپے کا،دنیا میں سونا سستا، پاکستان میں مزید مہنگا

مارکیٹ میں سویا بین آئل سستا جبکہ پام آئل کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ ہوا لیکن

پاکستان میں کوکنگ آئل 11.5 فیصد مہنگا کیا جا چکا ہے، فرٹیلائزرکی بات کریں

تو عالمی مارکیٹ میں ڈی اے پی کھاد 16 فیصد سستی ہوئی جبکہ پاکستان میں 10

فیصد مہنگی، یوریا کی قیمت دنیا بھر میں4 فیصد کم ہوئی مگر پاکستان میں 22.6

فیصد بڑھ گئی، کاٹن کی عالمی مارکیٹ میں قیمت گزشتہ سال سے 26 فیصد کم

ہوچکی لیکن پاکستان میں 2 فیصد زیادہ ہوگئی ہے۔

حکومت نے 6 ارب روپے یومیہ قرض لیا، 1 ارب 73 کروڑ کے نئے نوٹ چھاپے

سٹیٹ بینک آف پاکستان ہی کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال2018-19 کے

دوران قرض لینے اور نئے نوٹ چھاپنے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔ اخراجات کے

لیے بینکوں سے اوسطاً یومیہ 6 ارب روپے قرض لیا اور اوسطاً ہی یومیہ ایک

ارب 73 کروڑ روپے مالیت کے نئے نوٹ چھاپے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران

حکومت کی طرف سے روز مرہ بجٹ اخراجات پورے کرنے کے لیے بینکنگ

سیکٹر سے مجموعی طور پر 21 کھرب 82 ارب روپے کے نئے قرضے لیے

گئے جو پہلے سے 69 فیصد زیادہ ہیں۔ کمرشل بینکوں کی طرف سے قرض نہ

مزید پڑھیں: نئے کرنسی نوٹوں کی بلیک میں فروخت جاری

ملنے کی وجہ سے حکومت کا سارا انحصار مرکزی بینک پر ہی رہا۔ 12 ماہ کے

دوران حکومت نے مرکزی بینک سے پہلے کے مقابلے میں 108 فیصد زیادہ

قرضے لیے کیونکہ شرح سود میں مسلسل اضافے کے پیش نظر کمرشل بینکوں

نے حکومت کو قرض دینے سے گریز ہی کیا۔ الٹا 755 ارب روپے کی وصولیاں

بھی کیں جو پہلے سے 20.6 فیصد زیادہ ہیں، نئے نوٹوں کے اجرا سے مالی سال

کے اختتام پر ملک میں زیر گردش نوٹوں کا مجموعی حجم 53 کھرب 19 ارب

روپے رہا۔

کرنٹ اکائونٹ خسارہ کنڑول میں، سال بعد بہتری کیلئے پر امید، رضا باقر

گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے گزشتہ دنوں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں

ایک تقریب سے خطاب میں پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہونے کی بات

کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ نوید بھی سنائی کہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور ایک

سال بعد حالات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ رضا باقرکا مزید کہنا تھا ملکی معیشت

کو 2 چیلنجز درپیش ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تاریخی بلند سطح یعنی ماہانہ 2 ارب

ڈالر تک پہنچ گیا تھا، کچھ سال قبل ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیرو تھا، دوسرا بڑا

چیلنج مالیاتی خسارہ ہے، قرضوں اور بجٹ خسارے میں نمایاں اضافہ ہوا-

دونوں مسائل کو حل کیا جارہا ہے، اب کرنٹ اکا ؤنٹ خسارہ کم ہوکرماہانہ ایک

ارب ڈالر پر آگیا ہے، نئے بجٹ میں مالیاتی خسارے میں کمی کیلئے اقدامات کیے

گئے ہیں، وزیراعظم نے کفا یت شعاری کی پالیسی اختیار کی، ہمیں مستقبل کیلئے

پرامید رہنا چاہیے، ہمیں برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرنی ہے، ایکسچینج

جانیئے: آئی ایم ایف کے تنخواہ دار کو گورنر سٹیٹ بینک بنانا خلاف قانون،بلاول

ریٹ سے برآمد کنندگان کو فائدہ ہوا تاہم یہ مستقل حل نہیں، جو لوگ ٹیکس نیٹ

سے باہر ہیں ان سے مدد کی ضرورت ہے، ٹیکس چوری کرنیوالوں کو ٹیکس نیٹ

میں لانا ہوگا، پاکستان کی معاشی آؤٹ لک مثبت اور ہماری سمت درست، منصفانہ

ٹیکس سسٹم پر کام جاری، ہمیں مل کر سخت محنت کرنی ہے۔ سال بعد اکنامک

نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔ برآمدات کی صورتحال بھی کچھ بہتر نہیں، پرائیویٹ

سیکٹرز کو عالمی ایکسپورٹرز کے مقابلے میں لانا ہو گا۔ ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے

گلوبل سیکٹر کی طرز پر اقدامات کر رہے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں

لیا جا رہا ہے۔ ٹیکس پیئرز کی حوصلہ افزائی، نان ٹیکس پیئرز کو ٹیکس نیٹ میں

لانا ہے۔ ایف بی آر میں اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کیساتھ پاکستان کا

معاہدہ کامیابی سے ہو چکا۔ انٹرنیشنل کمیونٹی کیساتھ بھی پارٹنر شپ پروگرام

جاری ہیں۔ ایف اے ٹی سے نکلنے کیلئے جامع اقدامات کئے گئے ہیں۔ ٹیکس سسٹم

کا شفاف نظام لانا چاہتے ہیں، مجموعی طور پر پاکستان کی معاشی آؤٹ لک مثبت

ہے۔

100 ارب روپے کے کامیاب جوان پروگرام کا آغازکردیا، سٹیٹ بینک

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں نئے کاروبار کے آغاز، چھوٹے و درمیانی

کاروباری طبقے کی سہولتوں کیلئے 100 ارب روپے کا معاونتی مالیاتی پروگرام

شروع کر دیا۔ اس خوشخبری کا اعلان مرکزی بینک کی جانب سے جاری وزیر

اعظم کامیاب جوان پروگرام کے ایک نوٹی فکیشن میں کیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے

مطابق اس مالیاتی معاونتی پروگرام سے 18 سے 45 برس کی عمر کے تمام

مزید جانیں: آئی ایم ایف معاہدہ میں کئی چیزیں غریب طبقہ کیلئے فائدہ مند

شہری مستفید ہوسکتے ہیں اور 50 لاکھ روپے تک کی مالیاتی سہولت حاصل

کرسکتے ہیں، یہ رقم 6 سے 8 فیصد شرح سود کے حساب سے انھیں فراہم کی

جائے گی۔ کامیاب جوان پروگرام کی تمام تر تفصیل معلوم کرنے کیلئے نیشنل بینک

کی قریبی برانچ، پروگرام کی ویب سائٹ کا وزٹ کیا جا سکتا ہے-