247

آج کی ہڑتال پر تاجر دوحصوں میں تقسیم

Spread the love

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک )مالی سال 2019-20 کے بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار

اور مہنگائی کے خلاف تاجر تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال کی کال

پر تاجر دو حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ تاجروں کے ایک گروپٹریڈرز الائنس نے

حکومت سے مذاکرات کے بعد ہڑتال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تاجروں کے

دوسرے بڑے گروپ انجمن تاجران میر گروپ جس میں بالخصوص لاہور سے

تعلق رکھنے والی بیشتر تاجر تنیظمیں شامل ہیں نے آج لاہور سمیت ملک بھر میں

مکمل شٹر ڈائون ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آل پاکستان انجمن تاجران کے

یہ بھی پڑھیں:کاغذاور سٹیشنری20 فیصد مہنگی ہونے سے خریداری کا رجحان کم

سیکرٹری جنرل نعیم میر نے ٹیکسوں کے خلاف آج(ہفتہ )13 جولائی کی شٹر

ڈائون ہڑتال کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تاجر تحریک

پررات کے اندھیرے میں شب خون مارا گیا،شب خون مارنے والے کوئی اور نہیں

تاجر ہی تھے،معاہدے میں واضح لکھا تھا کہ ہڑتال سے بھاگنے والے تاجر

تاجروں کے غدار ہوں گے،ہڑتال سے بھاگنے والے سند یافتہ غدار ہیں۔انہوں نے

مزید کہا کہ یہ ہڑتال اب ہماری نہیں ملک بھر کے 31لاکھ تاجروں کی ملکیت

ہے،کراچی سے خیبر تک کشمیر سے گوادر تک 13 جولائی کو ہڑتال ہوگی،یہ

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال ہوگی،تاجر غداروں کا احتساب خود

تاجر برادری کرے گی۔انہوں نے کہا کہ قومی تاجر اتحاد، لاہور بزنس مین فرنٹ،

آل پاکستان ٹرک ٹرالہ اونرز ایسوسی ایشن ، جیولرز ، کار ڈیلرز ایسویس ایشن اور

دیگر تاجر تنظیموں نے بھی 13جولائی کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔پریس

کانفرنس میں ملک امانت، امجد چوہدری، وقار میاں، میاں خلیل عبیر، عمران بشیر،

شیخ عمر حیات، سہیل محمود بٹ، شیخ عرفان اقبال، میاں طاہر سبحانی، ملک

فاروق حفیظ، لالہ یاسر، آغا ذوالفقار، ذوالفقار بھٹی، سید عظمت شاہ، صدام خان،

علی نصرت بٹ سمیت دیگر نے شرکت کی اور آج مختلف تجارتی مراکز کو مکمل

بند رکھنے کا اعلان کیا