271

صدر ٹرمپ کا یوٹرن،مردم شماری میں شہریت کا سوال واپس لے لیا

Spread the love

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مردم شماری میں شہریت

کا متنازعہ سوال پوچھنے کا مطالبہ واپس لے لیا۔ میڈیا کے مبصرین کے مطابق انہوں

نے عوامی دبائو پر یوٹرن لیتے ہوئے فیصلہ تبدیل کیا، تاہم اس دوران انہوں نے اس کی

بجائے وفاقی ایجنسیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ شہریوں اور غیر شہریوں کی نشاندہی

کرتے ہوئے ان کی معلومات جمع کریں اور واپس اس مقصد کیلئے موجودہ ڈیٹا استعمال

یہ بھی پڑھیں:عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات 22 جولائی کو طے، وائٹ ہائوس

کریں۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس کے روز گارڈن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے

یہ اعلان کیا اور بتایا امریکہ کی آبادی میں شہریوں اور غیر شہریوں کی صحیح تعداد کا

تعین کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا وہ اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹ

رہے، دراصل صدر ٹرمپ کو سوال کرنے کا اپنا مطالبہ اسلئے واپس لینا پڑا کیونکہ

سپریم کورٹ نے انہیں اس پر اصرار کرنے سے روک دیا تھا، جس کا موقف یہ تھا

مردم شماری کا طویل اور مہنگا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور اس سوال کے

بغیر ہی چھپائی کا آرڈر دیا جاچکا ہے، سپریم کورٹ کی ہدا یت کے بعد اب صدر ٹرمپ

نے اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا وہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے تمام

وفاقی ایجنسیوں کو ہدایت دے رہے ہیں شہریوں اور غیر شہریوں کے ریکارڈ کے بارے

مزید پڑھیں:ٹرمپ کا ایک اور جنسی سکینڈل منظر عام پر آگیا

میں معلومات کامرس کے محکمے کو فراہم کریں۔ انہوں نے کہا ہم ہر ایک کی گنتی کرنا

چاہتے ہیں۔یاد رہے امریکی کمیونٹی سروے ہر سال تقریباً 35 لاکھ گھرانوں سے رابطہ

قائم کرکے جو جائزہ پیش کرتی ہے اس میں شہریت کے بارے میں سوالات بھی شامل

ہوئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے مردم شماری میں شہریت کا سوال کرنے سے غیر قانونی

طور پر رہنے والے شرکت نہیں کریں گے کیونکہ ان کا خدشہ ہوگا مردم شماری میں

شرکت کے سبب ان کی غیر قانونی حیثیت ظاہر ہوگی اور وہ امیگریشن حکام کا نشا نہ

بن جائیں گے۔