184

عراق جنگ، فلسطین پر صہیونی مظالم اور نوجوان حسن

Spread the love

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بنگالی نژاد برطانوی شہری ’’محمد‘‘ اور909 میں

تعلقات مضبوط ہونا شروع ہو گئے تھے، ابھی برطانیہ میں 7 جولائی 2005 کا

واقعہ پیش نہیں آیا تھا، 909 ہر روز اس کی پرسوز تقریر سنتا، فلسطین، عراق میں

ہونیوالا ہر واقعہ اسے مزید طیش دلاتا تھا اور وہ اس کی پرزور مذمت کرتا تھا،

اس کا موقف تھا کہ دشمن کو جب تک چوٹ نہ لگے اس پر دوسروں کے غم کا

کوئی اثر نہیں ہوتا، 909 اس کے برعکس بات کرتا کہ ایسی بربریت کہیں نہیں

ہونی چاہئے اور وہ ہمیشہ کی طرح اس بات پر جذباتی ہو جاتا اور ردعمل میں کہتا

کہ اگر وہ شادی شدہ ہوتا اور اس کے اہل و عیال کسی بم حملے میں مارے جاتے

تو اس کا ری ایکشن کیا ہوتا؟ وہ ضرور بدلہ لیتا، 909 کو مجبوراً اس کی تصدیق

کرنا پڑتی، آخر کار دو ہفتوں بعد ’’محمد‘‘ نے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی

وہ 909 سے کسی کو ملانا چاہتا تھا، وہ لڑکا حسن تھا اور فلسطین سے ڈاکٹر بننے

کیلئے لندن میں قیام پذیر تھا، 909 کی اس سے ’’محمد‘‘ کے گھر میں ملاقات

ہوئی تھی، وہ بہت ہی تحمل مزاج اور پرسکون دکھائی دے رہا تھا، لیکن اندر سے

وہ اتنا ہی خونخوار تھا، اس نے بتایا کہ اس کے والدین اور بیوی بچے فلسطین میں

ایک کثیر المنزلہ عمارت میں رہائش پذیر تھے، ایک دن صہیونی فوج کی بمباری

سے وہ بلڈنگ مسمار ہو گئی اور درجنوں افراد موت کی بھینٹ چڑھ گئے، اس میں

اسکے اہلخانہ بھی شامل تھے، اس نے اسی دن سے بدلہ لینے کا سوچا تھا، پھراس

نے ایک دن حزب اللہ میں شمولیت اختیار کر لی، حسن اپنی دکھ بھری کہانی سناتا

رہا، آخر کار سب کو بھوک لگنے کا احساس ہوا، 909 نے فوراً فون پر ہی ایک

لارج پیزے کا آرڈر کر دیا، پیزا ہٹ والوں نے اس علاقے میں ڈلیوری کرنے سے

معذرت کر لی، 909 کو فون پر ہی بینک کارڈ کی تفصیل دیکر ادائیگی کرنا پڑی،

دراصل یہ عمارت بلیک لسٹ ہو چکی تھی، یہاں کے رہائشی پیزا آرڈر کرنے کے

بعد پیسے دینے کی بجائے کھانا چھین لیتے تھے، بلکہ ایک روز برکسٹن کے

علاقے میں ایک بھارتی لڑکا پیزا ڈلیور کرنے آیا تو آرڈر کرنے والی خاتون نے

چاقو کے زور پر اسے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنا ڈالا، واپسی پر اسے نہلا دھلا

بھی دیا تاکہ کوئی طبی ثبوت نہ رہ جائے، لڑکا فلیٹ سے نیچے اترا تو 50 سی سی

موٹر سائیکل کے پیچھے نصب ڈلیوری کا بڑا ڈبہ بھی غائب تھا، اس میں 100

پائونڈ مالیت کا فوڈ کو گرم رکھنے والا آہنی پلیٹوں پر مشتمل بیگ تھا، جب وہ

خالی موٹر سائیکل پر جانے لگا تو چند افریقی نژاد لڑکوں نے اسے آن گھیرا، ایک

نے الزام لگایا کہ وہ اس کی گرل فرینڈ کیساتھ اوپر کیا کر رہا تھا، بھارتی نوجوان

نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اپنا مدعا بیان کیا تو انہوں نے اسے مارا پیٹا اور

یہ بھی پڑھیں: بلیک منی، جہادی، نوجوان اور 909 کا مشن

جیب میں موجود رقم بھی چھین لی، کچھ آگے بڑھا تواسی گینگ نے اس کا موبائل

فون بھی چھین لیا، گلی کے اندر ہی کچھ دور کھڑے چند لڑکوں نے اس سے رات

11 بجے کے قریب سخت سردی کے باوجود پیزا ہٹ کا بلیک جمپر بھی اتروا لیا،

جانے کیلئے شرط رکھی گئی کہ اسے نشہ آور سگریٹ کے کچھ کش کھینچنا پڑیں

گے، آخر کار اسے ایسا ہی کرنا پڑا، رو دھو کر اسے معافی مل گئی اور جانے دیا

گیا، اس واقعہ کی پولیس رپورٹ بھی درج ہوئی تھی، اخبارات میں بھی تذکرہ ہوا،

لوگوں نے اسے ہنسی مذاق کا واقعہ سمجھ کر پڑھا اور خوب لطف اندوز ہوئے،

کمپنی کا کیا تھا اسے نقصان کی انشورنس مل گئی تھی، اس واقعہ کے بعد تمام فوڈ

سپلائرز خبردار ہو گئے تھے اور برکسٹن کا 90 فیصد علاقہ ڈلیوری کیلئے بین کر

دیا گیا تھا، رات کے وقت کیب ڈرائیور بھی ادھر جانے سے کتراتا تھا، حالانکہ

برکسٹن سے 4 یا 5 میل کی مسافت پر بکنگھم پیلس واقع ہے اور یہ علاقہ ویسٹ

منسٹر کہلاتا ہے اس کے باوجود یہاں سیاسی پناہ گزینوں اورافریقی نژادوں نے

ادھم مچا رکھا تھا، پولیس بھی کم ہی آتی تھی، مذہبی آزادی اتنی زیادہ کہ برکسٹن

ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی یوں گمان ہوتا کہ بندا گوالمنڈی چوک میں آ گیا

ہو، بھیک مانگنے والے منہ سے خیرات نہیں مانگتے تھے بلکہ کوئی عیسائیت کا

پرچار کر رہا ہوتا تو کوئی مبارک آیات کا ورد کر رہا ہوتا تھا، سب لائسنس یافتہ

بھکاری تھے، جس نے کان کے اوپر بجھا ہوا سگریٹ لگایا ہوتا تھا وہ منشیات

فروشی کی علامت تھا، پیزا کھانے کے بعد ’’محمد‘‘ اور حسن 909 کے فین ہو

گئے تھے وہ جانتے تھے کہ یہ مالدار ہے اور مستقبل میں کام آئیگا یہی وجہ تھی

کہ حسن نے 909 کو اپنا ذاتی فون نمبر دے دیا۔ یہ ملاقات 909 کیلئے کافی سود

مند ثابت ہوئی کیونکہ وہ فوڈ کیفے میں کام کرکے اکتا چکا تھا، اب اسکی ضرورت

نہیں تھی، اس نے اگلے روز ہی پکی چھٹی مار لی، کیفے کا مالک اس کے دئے

گئے فون پر رابطہ کرتا ہو گا لیکن 909 نے اپنے اس اضافی نمبر کو ایک ہفتے

کیلئے بند کر دیا تھا، اسوقت موبائل فون کی رجسٹریشن کا کوئی رواج بھی نہ تھا،

سم خرید و اور ٹاپ اپ کروائو، اور بس، 3G ٹیکنالوجی کو آئے 6 ماہ ہی ہوئے

مزید پڑھیں: “جو” کی قسمت کا حال، 909 کی نصیحت

تھے اور لوگوں کی اکثریت 2G پر ہی اکتفا کر رہی تھی، 909 کو اب حسن کی

فکر تھی کہ کون شخص اسے فنڈنگ کرتا تھا، اسے چند نامعلوم افراد کی جانب

سے فنڈنگ ہو رہی تھی وہ کوئی کام کاج نہ کرتا بلکہ اپنے گھر ہی میں رہتا، وہ

اپنے کاندھے پر بیگ لٹکائے سارا دن مٹر گشت کرتا، 909 نے ’’محمد‘ کے گھر

اس ملاقات میں ہی موقع جانتے ہوئے اس کے بیگ کے نیچے خفیہ بٹن چپکا دیا

تھا، اس کی نقل و حرکت کا پتہ چلانا ضروری تھا، 909 ہر روز باقاعدگی سے

رپورٹ کر رہا تھا کہ چانک ’’محمد‘‘ کا ٹرانسفر ہو گیا اسکا لندن بالم سٹیشن سے

کسی دوسرے اسٹیشن پر تبادلہ ہوا تھا، وہ اس پر کافی رنجیدہ تھا، 909 کو اس سے

کوئی غرض نہ تھی، البتہ حسن پر اس کی کڑی نظر تھی، وہ لندن کے مختلف نیٹ

کیفوں میں جا کر ای میل کرتا اور واپس آ جاتا، 909 پر ایک اہم انکشاف یہ ہوا کہ

جو شخص ان لوگوں کو مالی سپورٹ کر رہا تھا وہ فرانس کا ایک ڈیزائنر تھا،اس

کا دفتر لندن کے سب سے گنجان آباد علاقے کلیفم جنکشن کے قریب واقع تھا، خفیہ

بٹن کے باعث 909 کو کافی معلومات مل چکی تھیں البتہ انکے ساتھیوں کی تفصیل

نہ مل سکی کیونکہ سب کا رابطہ انٹر نیٹ پر تھا اور سب انتہائی منظم انداز میں

سادہ کوڈ ورڈ میں گفتگو کرتے تھے جنہیں ڈی کوڈ کرنا عام بات نہ تھی، 909 نے

حسن سے ملنے اور اسکے کسی بھی کام آنے کا اس کو پوری طرح یقین دلایا تھا۔

۔۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔۔۔