70

ویڈیو سکینڈل، جج صاحب محض پریس ریلیز ناکافی

Spread the love

(تحریر:… ابو رجا حیدر)

مسلم لیگ ن کے قائد، سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب کی طرف سے بنائے

العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سزا کا فیصلہ سنانے والے احتساب عدالت کے جج

ارشد ملک کی ایک مبینہ ویڈیو جس میں وہ ناصر بٹ نامی مسلم لیگ ن کے

اوورسیز رہنما کےساتھ ملاقات میں اپنے دیئے گئے فیصلے کو دبائو کا نتیجہ قرار

دیتے دیکھے اور سنئے جا سکتے ہیں چند روز قبل جناب نواز شریف کی

صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس

کانفرنس میں منظر عام پر لائیں تو پورے ملک میں ہاہا کار مچ گئی ، آئو دیکھا نہ

تائو وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات و نشریات محترم ڈاکٹر فردوس عاشق

اعوان بھی ردعمل دینے کیلئے میڈیا پر آ گئیں اور حکومت کا تحفظ، مبینہ ویڈیو کو

عدلیہ پر حملہ قرار دینے سمیت اس کے فرانزک ٹیسٹ کرانے کا اعلان کر دیا پھر

کیا تھا ملک کے تمام سنجیدہ مسائل پس پردہ چلے گئے اور ایک بحث شروع ہو

گئی جو معلوم نہیں کب تک جاری رہے، لیکن گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان

نے کہا عدلیہ کو جج کی مبینہ ویڈیو کا نوٹس لینا چاہیے، ( ن) لیگ ماضی میں بھی

عدلیہ پردباؤ ڈالتی رہی ہے، نیا پاکستان ہے، اب ایسا نہیں چلے گا عدلیہ وڈیو لیک

کا نوٹس لے، جو فیصلہ کرے حکومت مکمل سہولت دیگی۔ ان خیالات کا اظہار

وزیر اعظم عمران خان نے اپنی زیر صدارت ترجمانوں کا اجلاس سے خطاب میں

کیا اجلاس میں ملکی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی۔ وزیر

اعظم کا مزید کہنا تھا ملکی وقار اور قومی اداروں پر حملے برداشت نہیں کیے

جائیں گے، اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے مسلم لیگ ن کے

ایسے ہتھکنڈوں کا بھرپور جواب دیا جائے۔ اب ایسا نہیں چلے گا۔ اپوزیشن کا کوئی

حربہ کارگرثابت نہیں ہوسکے گا۔ احتساب کا عمل جاری رہے گا۔ عدلیہ آزاد اور

خود مختار ہے،وہ مبینہ ویڈیو کا نوٹس لے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو

سکے، اپوزیشن حکومتی اقدامات پر اعتراضات اٹھا سکتی ہے اس لیے معاملہ

عدلیہ پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔ مبینہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ ضروری ہے، چاہتے ہیں

عدلیہ حکم دے۔ حکومت مکمل سہولت دے گی۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی نظام اجازت دے تو پریس کانفرنس کر سکتا ہوں، جج ارشد ملک

ادھر ایک روز قبل احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے دستخطوں سے ایک

پریس ریلیز جاری ہوئی جس میں انہوں نے اس ویڈیو کو ’’جعلی، جھوٹی اور

مفروضوں پر مبنی‘‘ قرار دیا اور کہا العزیزیہ ریفرنس میں مجھ پر بالواسطہ یا

بلاواسطہ نہ تو کوئی دبائو تھا نہ ہی کوئی لالچ پیش نظر تھا، اگر میں نے دبائو یا

رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمے میں سزا اور دوسرے میں

بری نہ کرتا، میں نے انصاف کرتے ہوئے شواہد کی بنیاد پر نوازشریف کو

العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کردیا۔ یہ فیصلے

خدا کو حاضر ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر کئے، مریم صفدر کی پریس

کانفرنس محض میرے فیصلوں کو متنازعہ بنانے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے

کے لئے کی گئی، مریم صفدر کی پریس کانفرنس اور مجھ سے منسوب ویڈیو میں

نے دیکھی، پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے

ادارے، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔

وہ راولپنڈی کے رہائشی ہیں اور جج بننے سے قبل وکالت کرتے رہے ہیں۔ ویڈیو

میں دکھائے گئے ناصر بٹ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے اور میری اس سے

پرانی شناسائی ہے، ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ مختلف مقامات پر

عرصہ دراز سے مجھے ملتے رہتے ہیں۔ ویڈیو نہ صرف حقائق کے برعکس ہے

بلکہ اس میں مختلف مواقع پر کی جانے والی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر

توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ پریس ریلیز میں یہ بھی

کہا گیا ہے کہ نوازشریف کیس کی سماعت کے دوران بارہا ان کے نمائندوں کی

طرف سے رشوت کی پیش کش کی گئی اور تعاون نہ کرنے کی صورت میں

سنگین نتائج کے دھمکیاں دی گئیں، جن کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے

حق پر قائم رہنے کا عزم کیا۔ وڈیو میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی

کی جانی چاہئے۔

مزید پڑھیں: ویڈیو سکینڈل، مرکزی کردار ناصر بٹ کیخلاف مقدمات کا ریکارڈ سامنے آ گیا

جج ارشد ملک نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے بعض نئی باتیں بھی کیں جن کا

جواب دینا تو ’’نواز شریف کے نمائندوں‘‘ کے ذمے ہے، وہ جواب دیں یا نہ دیں،

ان کی مرضی، لیکن ویڈیو کے بارے میں جج نے اتنا تو تسلیم کیا ہے کہ گفتگو

وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی، ’’جسے سیاق و سباق سے ہٹ کر توڑ مروڑ کر پیش کرنے

کی مذموم کوشش کی گئی‘‘ اب چونکہ اس ویڈیو سے، جو سازش کے تحت تیار

اور ایڈٹ کی گئی اور پھر ان کی اور ان کے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی

کوشش کی گئی، اس لئے ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس ویڈیو کو منظر عام پر

لانے والوں کے خلاف بلاتا خیر قانونی کارروائی کریں۔ انہوں نے اپنی پریس

ریلیز کے آخر میں یہ جملہ شامل کیا کہ ویڈیو میں ملوث افراد کے خلاف قانونی

چارہ جوئی کی جانی چاہئے، بظاہر یہ مطالبہ تو حکومت سے ہے اور حکومت کے

اعضا و جوارح تو اس وقت سے ان کے دفاع میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں، جب

سے یہ وڈیو منظر عام پر آئی ہے، لیکن اس سلسلے میں کس قسم کی قانونی

کارروائی ہونی چاہئے اور کس فورم پر ہونی چاہئے اس کی کوئی تفصیل تاحال

میسر نہیں ہے۔

جانیئے: مریم نوازاور فری نوازشریف ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا

ویسے براہ راست متاثرہ فریق تو جج صاحب خود ہیں اس لئے وہ کسی دوسرے کا

انتظار کئے بغیر قانونی کارروائی کا آغاز کرسکتے ہیں، سب سے پہلے تو وہ یہ

کریں کہ یہ ویڈیو ریلیز کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں۔ اس کی

تفتیش ہو، اور اگر یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہو، تو ملزم یا ملزمان گرفتار

کئے جائیں اور جو جو اس ’’سازش‘‘ میں ملوث پایا جائے وہ قانون کے مطابق

قرار واقعی سزا بھی پائے۔ عدالتیں ہر کسی کے لئے کھلی ہیں وہ کوئی بھی ہو،

جج ہو یا چیف جسٹس، انہی عدالتوں سے رجوع کرتے رہے ہیں اور شاید آئندہ بھی

کرتے رہیں، جنرل پرویز مشرف نے جب اس وقت کے چیف جسٹس افتخار

چودھری کو غیر قانونی طور پر برطرف کیا تو انہوں نے حکومت یا کسی ادارے

سے مدد طلب نہیں کی تھی وہ سیدھے سپریم کورٹ میں گئے جہاں سے انہیں

بحالی کا پروانہ مل گیا۔ وہ اگر دوسروں پر بھروسہ کرکے بیٹھے رہتے تو وقت

گزر جاتا، ان کی برطرفی قصہء پارینہ ہو جاتی اور وہ میر کی طرح خوارو زبوں

پھرتے رہتے اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہ ہوتا۔ اگرچہ سرپم کورٹ سے فیصلہ

افتخار چودھری کے حق میں آیا، لیکن پرویز مشرف انہیں ہرحال میں ہٹانے پر

تلے ہوئے تھے، کیونکہ وہ ایک جعلی ریفرنڈم کے ذریعے صدر بنے تھے اس

لئے اگر یہ مقدمہ ان کے روبرو پیش ہوتا تو فیصلہ دیوار پر لکھا تھا، اس لئے

صدر نے ایمرجنسی لگا کر انہیں دوبارہ برطرف کردیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بھی پرویز

مشرف کے اقتدار کی جڑوں میں بیٹھ گیا اور زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ انہیں وہ

صدارت بھی چھوڑنا پڑی جس کے لئے انہوں نے بڑے پاپڑ بیلے تھے اور ایک

چیف جسٹس کو دوبار غیر قانونی طور پر ہٹا دیا تھا۔

یہ بھی جانیئے: عدلیہ ویڈیو کا نوٹس لے، وزیراعظم عمران خان

جج ارشد ملک قانون دان ہیں ان سے زیادہ کون جانتا ہے اس کیس میں انہیں کیا

کرنا چاہئے اور جو لوگ ان کی شہرت کو داغدار کرنے کی سازش کے مرتکب

ہوئے ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا کتنا ضروری ہے، اس لئے وہ خود اللہ

کا نام لے کر سامنے آئیں، مقدمہ درج کرائیں اور جس عدالت میں بھی یہ زیر

سماعت آتا ہے وہاں اپنا کیس پیش کریں۔ حکومت پر زیادہ انحصار نہ کریں،

کیونکہ اس کے وزیر تو خود کسی معاملے میں یکسو نہیں ہیں، ایک معاون

خصوصی کہہ رہی ہیں ویڈیو کا فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ ہوگیا ہے جبکہ

وزیرقانون فروغ نسیم کا فرمانا ہے ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ایک تیسرے مشیر

صاحب نے فرمایا سپریم کورٹ معاملے کی تحقیقات کرے، اب ایسے میں آپ کس

پر اعتبار کریں گے، ہم یہ تو نہیں کہتے کابینہ کے وزیروں، مشیروں کو ایک

صفحے پر ہونا چاہئے، یہ ان کے اپنے من کی موج ہے وہ ایک صفحے پر ہوں یا

دس صفحوں پر، جیسے بیان چاہے دیتے رہیں لیکن باہمی رابطے میں کوئی حرج

بھی نہیں، تاہم جج صاحب سے ہماری درخواست یہی ہے وہ اپنا مقدمہ خود لڑیں،

دوسروں پر انحصار نہ کریں، انہیں معلوم ہے ان مقدمے بازیوں میں کتنا وقت

صرف کرنا پڑتا ہے، نامور اور لائق فائق وکیلوں کی خدمات کتنے معاوضے پر

حاصل کرنا پڑتی ہیں، اس لئے بہتر یہ ہے وہ فی الحال اپنی ذمہ داریوں سے

رخصت لے لیں اور ساری توجہ اپنے مقدمے پر مرکوز رکھیں، اپنا مقدمہ اتنی

توجہ سے لڑیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہوسکے، تبھی یہ ثابت ہوگا کہ جعلی

ویڈیو کی سازش کس طرح پروان چڑھی، ان کی جو ساکھ ان کے اپنے بقول متاثر

کرنے کی سازش کی گئی اس کی بحالی کے لئے محض ایک پریس ریلیز جاری

کردینا کافی نہیں ہوگا۔