153

پی ٹی آئی حکومت کا اتحادیوں سے جان چھڑانے کا فیصلہ

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز)

تحریک انصاف حکومت نے اتحادیوں جماعتوں سے جان چھڑانے کیلئے اصولی

فیصلہ کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنمائوں کو اہم ٹاسک سونپ دیدیا، آئندہ مالی

سال کے بجٹ سے قبل ایم کیو ایم ،بی این پی اور ق لیگ کو حکومتی اتحاد سے

نکال دیا جائیگا۔ معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے رواں مالی سال کا بجٹ 2019-20

کو قومی اسمبلی سے پاس کرانے کیلئے حکومت کو کافی مشکلات کا سامنا رہا۔

قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے سے وزیراعظم عمران خان کو ذاتی طور پر

اتحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی سے ملاقات ان کے مطالبات تسلیم کرنا پڑے۔

ذرائع نے بتایا وزیراعظم عمران خان نے اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں سے

ملنے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم پارٹی کے سینئر

رہنما جہانگیر ترین اور پرویز خٹک نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کو

اتحادی جماعتوں کے مطالبات تسلیم کرنے پر آمادہ کیا۔ وزیر اعظم کا موقف تھا کہ

ملک معاشی طور پر ایک گھمبیر صورتحال سے گزر رہا ہے اور اتحادی

جماعتوں کے مطالبات پورے کرنا ناممکن ہے جبکہ اکثریت نہ ہونے سے اتحادی

جماعتیں ان کو بلیک میل کررہی ہیں جو کسی صورت قبول نہیں۔ وزیراعظم

عمران خان نے گزشتہ روز بنی گالہ میں پارٹی کے سینئر رہنمائوں سے ملاقات

کی اور انہیں اس تشویش سے آگاہ کیا اور آئندہ اتحادی جماعتوں کا کسی بھی قسم

کا مطالبہ تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اپنے موقف کو دوہراتے ہوئے

کہا حکومت کی قربانی دے دوں گا لیکن بلیک میلنگ برداشت نہیں کروں گا،

یہ بھی پڑھیں: ق لیگ پی ٹی آئی اختلافات ختم، ایک اور وزارت ملے گی

ذرائع نے دعوی کیا ہے تحریک انصاف حکومت نے مسلم لیگ (ن) پارٹی میں

توڑ پھوڑ کرنے کیلئے متبادل پلان ’’اے اور بی ‘‘ پر کام شروع کر دیا ہے،

پنجاب اور قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کے اراکین اسمبلی سے رابطے شروع کر

دیئے ہیں جس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، جہانگیر ترین، گورنر پنجاب

اور علیم خان اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے پلان ’’اے‘‘ کے

مطابق پہلے مرحلے میں پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے30 سے زائد

ناراض اراکین سے بات چیت جاری ہے۔ پلان ’’بی‘‘ میں مسلم لیگ (ن) کے

اراکین قومی اسمبلی سے بات کی جائے گی۔ یاد رہے مالی سال2019-20 کے

بجٹ قومی اسمبلی سے پاس کرانے سے قبل وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کے

رہنمائوں سے ملاقات کی اور ان کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا۔ ایم کیو ایم نے

کراچی اور حیدرآباد کیلئے اربوں روپے مانگے۔ وزیراعظم عمران خان نے مسلم

لیگ (ق) سربراہ چوہدری شجاعت حسین ، چوہدری پرویزٰالٰہی اور مونس الٰہی

کے ساتھ ملاقات کی اور جس میں چوہدری شجاعت نے ترقیاتی منصوبوں کے نام

پر اربوں روپے کے مطالبات کے ساتھ ساتھ مونس الٰہی کو وفاقی کابینہ میں شامل

کرنے پر اصرار کرتے رہے، تیسری اتحادی جماعت کے سربراہ اختر مینگل نے

بھی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے دیگر مطالبات کے ساتھ

ساتھ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر دس ارب روپے کے مطالبات پیش کئے جسے

وزیر اعظم کو منظور کرنا پڑا-