233

فرانسیسی ماں بیٹی کا ریاست کیخلاف منفرد مقدمہ، سماعت بھی شروع

Spread the love

پیرس (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز ڈیسک)

یورپی ریاست فرانس میں ایک ماں اور بیٹی نے آلودگی کی وجہ سے خود کو لاحق

طبی مسائل کی بنیاد پر ریاست کے خلاف مقدمہ کر دیا ہے۔ فرانس میں یہ اپنی

نوعیت کا یہ اولین واقعہ ہے۔ ماں، بیٹی نے ریاست سے بطور ہرجانہ 160,000

یورو کا مطالبہ کیا ہے۔ دارالحکومت پیرس کی ایک عدالت میں اس کیس کی

سماعت منگل کے شروع ہوئی۔ متعلقہ ماں اور بیٹی نے کیس میں یہ موقف اختیار

کیا ہے کہ ریاست فضائی آلودگی کے انسداد یا اس سے نمٹنے کے لیے مناسب

یہ بھی پڑھیں: ہوائی جہاز میں دھرنا

اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے

ان کی صحت متاثر ہوئی۔ ماں بیٹی کی رہائشگاہ پیرس کے نواح کے ایک علاقے

میں ہے، جو دسمبر 2016 میں آلودگی کی بلند شرح سے کافی زیادہ متاثرہ علاقہ

ہے۔ دونوں ماں اور بیٹی پیرس میں ایک اہم سڑک کے پاس رہتی ہیں، جس پر

یومیہ اوسطا 1.1 ملین گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ ڈرائیوروں کے لیے ایک

مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ آس پاس مقیم ایک لاکھ افراد کے لیے بھی اس سڑک

اور اس کے قریب پائی جانے والی فضائی آلودگی پریشان کن ہے۔ مقدمہ کرنے

والی باون سالہ ماں کو سانس لینے میں دقت کے باعث ملازمت سے کچھ وقت کے

لیے وقفہ لینا پڑا جبکہ سولہ سالہ بیٹی آستھما(دمہ) کے مرض میں مبتلا ہو گئی۔

بعد ازاں اپنے معالج کے مشورے پر انہوں نے پیرس چھوڑ کر کسی اور شہر میں

رہائش اختیار کر لی تھی۔ اب ان کی صحت کافی بہتر ہے۔ ان کے وکلا کی ٹیم نے

مزید پڑھیں: فارن کوالیفائیڈ چور

موقف اختیار کیا ہے کہ فرانسیسی حکام فضائی آلودگی سے بچائو کے لیے قوانین

پر عملدرآمد میں ناکام رہے اور انہوں نے خود کو میسر تمام اقدامات بھی نہیں

کیے۔ غیر سرکاری تنظیم رسپائر کے بانی سباستیان ورے کا کہنا ہے کہ یہ صرف

شروعات ہے اور ملک بھر میں تقریبا پچاس افراد حکومت کے خلاف اسی نوعیت

کے کیسز دائر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول یہی کامیابی ہے کہ کیس عدالت تک پہنچ

گیا ہے۔ فرانس میں فضائی آلودگی کے سبب سالانہ اڑتالیس ہزار افراد قبل از وقت

موت یا اوسط عمر تک پہنچنے سے قبل ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔