84

امریکہ ایران کشیدگی اورعالمی برادری

Spread the love

(تحریر:چودھری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ)

امریکہ ،سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں کی ایران کیساتھ الفاظ کی جنگ

میں گزشتہ چند ہفتوں میں خوفناک تیز ی آگئی ہے، لفظو ں کی یہ جنگ اس وقت

حقیقی جنگ میں تبدیل ہوتے ہوتے رہ گئی جب ایران نے اپنی فضائی حدود میں

داخل ہونے والے امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا،امریکہ نے پہلے تو اسکی

تردید کی مگر چند گھنٹوں بعد یہ کہتے ہوئے طیار ے کی تباہی تسلیم کرلی کہ

ڈرون ایرانی حدود میں داخل نہیں ہواتھا۔اس پر امریکی صدر نے اپنی فضائیہ کو

ایران پر حملے کا حکم دیدیا،مگر حملے سے پہلے ہی یہ حکم واپس بھی لے لیا

،یوں یہ خطہ ایک خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آتے آتے رہ گیا،اس دن سے جہاں

ایران اور امریکہ کے درمیان الفاظ کی جنگ میں مزید تیزی آگئی ہے ،وہیں روس

اور یورپی ممالک امریکہ کو بار بار تنبیہ کررہے ہیں کہ ایران پر حملے سے

جنگ کا دائرہ بہت وسیع ہوجائے گا جسے کنٹرول کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن

ہوجائیگا کیونکہ اس کے نقصانات کا اندازہ لگانا کسی کے بس میں نہیں ۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ’’ عالمی پانیوں میں

اڑنے والے ایک ڈرون کو مار گرائے جانے کے بعد ہم گزشتہ رات ایران میں تین

مختلف مقامات پر جوابی کارروائی کیلئے تیار تھے جب میں نے پوچھا کہ اس

کارروائی میں کتنی ہلاکتوں کا خطرہ ہے تو ایک جنرل نے جواب میں بتایا کہ سر

150۔ لہٰذا حملے سے دس منٹ پہلے میں نے فیصلہ تبدیل کر دیا‘‘۔امریکی صدر

مزیدکہاکہ ’’ایک ڈرون کو مار گرائے جانے کا جواب دینے کی مجھے کوئی جلدی

نہیں ۔ ہماری فوج تیار اور دنیا کی بہترین فوج ہے اور اگر جنگ چھڑی تو ایران

تباہ وبرباد ہوجائے گا،پابندیاں ایران کوتنگ کر رہی ہیں اور یہ کہ ایران امریکہ

اور دنیا کیخلاف کبھی بھی جوہری ہتھیار استعمال نہیں کر سکے گا‘‘۔ایران پر

امریکی حملے کی سفارش پینٹاگون نے دی تھی۔

امریکہ نے حال ہی میں ایران پر خطے میں موجود آئل ٹینکروں پر حملوں کا

الزام عائد کیا تھا جس کے جواب میں ایران نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی اپنے

جوہری پروگرام کی عالمی طور پر طے شدہ حدود کو عبور کرے گا۔ایران نے

خبردار کیا کہ اسکے خلاف کسی بھی حملے کے علاقائی اور بین الاقوامی نتائج

برآمد ہوں گے۔ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہاہے کہ جب آپ ایران کی فضائی

حدود کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم اپنی سر زمین کا دفاع کریں گے۔ٹرمپ کے

اس اقدام کی عالمی برادری سمیت امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے

والی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے

بھی شدید مخالفت کردی ہے ،انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ

کی ضرورت نہیں ،ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمت عملی ’’خود کش سانحہ ‘‘

ہے۔ روس کے صدر ولادی میرپیوٹن نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور ایران

کے درمیان جنگ ’’ایک ایسا سانحہ ہو گا جس کے نتائج کی پیشگوئی نہیں کی جا

سکتی‘‘۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گیٹریس نے بھی فریقین پر زور

دیا ہے کہ وہ تناؤ بڑھانے سے زیادہ سے زیادہ گریز کریں۔

یہ بھی پڑھیں:— مشرق وسطی پر جنگ کے منڈلاتے بادل

امریکہ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر فضائی حملے کرنے کا حکم

واپس لینے کے بعد ایرانی ہتھیاروں کے نظام کو سائبر حملے کا نشانہ بنایا ۔

واشنگٹن پوسٹ کے دعویٰ کے مطابق سائبر حملے کی مدد سے ایران کے ان

کمپیوٹر سسٹمز کو متاثر کیا گیا جن سے راکٹ اور میزائل لانچر کنٹرول کیے

جاتے ہیں۔اس کا مقصد پاسدارانِ انقلاب کے ہتھیاروں کو کمزور کرنا تھا۔ ایران نے

ان ہی ہتھیاروں کی مدد سے امریکی ڈرون گرایا تھا اور امریکہ کے مطابق تیل

کے ٹینکروں پر حملہ بھی ان سے کیا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق حملے کا

مقصد سسٹمز کو کچھ دیر کیلئے آف لائن کرنا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

صرف اسی پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنا اگلا قدم اٹھاتے ہوئے کہاکہ امریکہ ایران

کو جوہری بم بنانے سے روکنے کیلئے اس پر مزید پابندیاں عائد کرے گا۔جب تک

تہران میں موجود مقامی قیادت اپنا ارادہ تبدیل نہیں کرتی ان پر اقتصادی دباؤ قائم

رکھا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں اپنے اوول آفس میں ایک ایگزیکٹو

آرڈر پر دستخط کئے جسکے تحت امریکی ڈرون طیارے کو مار گرانے کے جواب

میں ایران پر مزید انتہائی سخت اقتصادی پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے

نئی پابندیوں کو ’’انتہائی سخت‘‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت ایران کے

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اہم حکومتی عہدیداروں کی مالیاتی نیٹ

ورکس تک رسائی ممکن نہیں رہے گی۔ وائٹ ہائوس کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت

امریکی وزارت خزانہ نے پاسداران انقلاب کے 8بحری ،بری اور فضائی

کمانڈروں کیخلاف مالیاتی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ انکی تمام جائیداد وں کو

’’بلاک‘‘ کر دیا گیا ہے۔جسکے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای

نے کہاکہ امریکہ جنگوں، تنازعات اور لوٹ مار کی کارروائیوں کا ماخذ ملک ہے۔

ایرانی عوام عزت، آزادی اور ترقی چاہتے ہیں لہٰذا ظالم دشمنوں کا دباؤ ایرانی

عوام کو متاثر نہیں کرسکتا،شیطانی حکومت معزز ایرانی قوم کی توہین کررہی ہے

لیکن ایرانی قوم کسی توہین آمیز رویے کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔ ایرانی

صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے خامنہ ای پر نئی پابندیوں کے

عملی اثرات نہیں ہوں گے کیونکہ خامنہ ای کے یورپ میں کوئی اثاثے نہیں ۔

اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو غیر مشروط مذاکرات کی

بھی پیشکش کردی تاہم ساتھ ہی یہ واضح کردیاکہ ایران کو ایٹم بم نہیں بنانے

دینگے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو یقین دلایا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق

رائے پیدا ہو جاتا ہے تو اس صورت میں امریکہ ایران کو معاشی طاقت بننے اور

معاشی لحاظ سے ترقی کرنے کیلئے ہر ممکن امداد فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے

واضح کیا کہ وہ کسی صورت جنگ چھیڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔دوسری طرف

ایران پر علاقائی پریشر بڑھانے کیلئے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو نے

سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز سمیت دیگر علاقائی رہنماؤں سے

ملاقاتیں کیں ،اس کے علاوہ سوموار ہی کے روز امریکہ نے برطانیہ، سعودی

عرب اور متحدہ عرب امارات کیساتھ ملکر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا جس

میں ایران پر زور دیا گیا کہ وہ ایسی کارروائیوں سے پرہیز کرے جس سے

کشیدگی بڑھے اور علاقائی استحکام کیلئے خطرات پیدا ہوں۔ امریکی وزیر خارجہ

مائیک پومپیو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ ایران کیساتھ

مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور امید ظاہر کی کہ جلد دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر

آ جائیں گے۔

مزید پڑھیں:— عالمی امن کیلئے ایک اور خطرہ

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ کی فوجی

دھمکی کے بعد واشنگٹن میں ہی جنگ مخالف مظاہرہ بھی کیا گیا۔بظاہر ایران اور

امریکہ کے درمیان ناخوشگوار اور بے رحمانہ ممکنہ جنگ کی طرف بڑھتی

صورتحال سے خطے اور دنیا پر مرتب ہونیوالے ممکنہ تباہ کن نتائج اب دنیا کو

زیادہ دور دکھائی نہیں دیتے۔ابتدائی طور پر تو تنازع محدودہوسکتا ہے مگر اس

میں تیزی سے شدت بھی آسکتی ہے، یعنی ہرمز میں تیل ٹینکروں پر مزید حملے

ہوسکتے ہیں، پاسداران انقلاب اور دیگر بحری بیڑوں کیخلاف جوابی حملہ ہوسکتا

ہے، ایرانی اور شیعہ ملیشیا کی جانب سے عراق، شام، افغانستان اور دیگر جگہوں

پر موجود امریکی تنصیبات پر حملوں کے ساتھ امریکی اور جی سی اہداف پر

ایران میزائل حملے کرسکتا ہے اور حزب اللہ اور دیگر ایرانی اتحادی گروہوں کی

جانب سے اسرائیل اور اس کے زیر قبضہ زمینوں پر حملے کیے جاسکتے ہیں۔ ان

متوقع حملوں سے بچنے کیلئے امریکہ اور ممکنہ طور پر اسرائیل ایران کی

میزائل اور بحری صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے پیش بند فضائی حملے بھی

کرسکتے ہیں۔

تاہم اگر یہ حملے کامیاب ہوجاتے ہیں تو بھی ایران آسانی سے گھٹنے ٹیکنے

والا نہیں ہے (ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران انکی دوبارہ قوت اکھٹا

کرنے کی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر دیکھیں تو) بیرونی حملے کے نتیجے میں

ایران میں ایسی کوئی مقبول تحریک نہیں جو حکومت کو گرا دے (ہاں البتہ صدر

روحانی اور متعدل افراد کی جگہ سخت گیر افراد اور پاسداران انقلاب ضرور لے

سکتے ہیں) اسے ہٹانے کیلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران پر بھرپور

حملہ کرنا پڑجائے گا۔ مگر عراق اور افغانستان کے تجربے کے پیش نظر واشنگٹن

سمیت خطے کی کوئی طاقت ایسا اقدام اٹھانے کا دل گردہ نہیں رکھتی ۔

روس اور چین، جنہیں امریکہ نے اپنا حریف قرار دیا ہوا ہے، اگر یہ دونوں

ملک بھی تہران کا ساتھ دیتے ہوئے بلواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں کرتے تو

ایران کیساتھ جنگ کے حتمی نتائج کچھ یوں ہوسکتے ہیں ،ایران کے اندر افراتفری

اور اسکے صوبوں میں لسانی بغاوتوں کی پھوٹ،امریکہ اور اتحادی فورسز

کیخلاف لڑی جانیوالی جنگ سے ایرانی فوج اور شیعہ ملیشیا کو نقصان اور ان کی

عددی قوت میں کمی،تہران کی ایما پر عراق، شام، یمن اور افغانستان کے تنازعات

کی شدت میں اضافہ،ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے سے ایران کا مکمل

انکار اور ایٹمی ہتھیار بنانے کی بھرپورتیاریاں،خلیج سے تیل کی برآمدات میں

بڑی اور طویل رکاوٹ، جس کے باعث قیمتوں میں زبردست اضافہ اوربالآخر

اسکے نتیجے میں عالمی اقتصادی کسادبازاری۔یوں وہ تمام قوتیں جو اس تنازع کا

حصہ بنیں گی بلکہ وہ قوتیں بھی جو حصہ نہیں بنیں گی، ان سب کیلئے اس تنازع

میں ہر طرح سے ہار کے سوا اور کچھ نہیں رکھا ہے۔

یہ بھی جانیئے:...ٹرمپ کا عالمی برادری بالخصوص مسلم دنیا کو ایک اورچیلنج

پاکستان کیلئے اگرچہ ایران کبھی بھی سہل پڑوسی ثابت نہیں ہوا، لیکن

پاکستان کے پاس ایران کیخلاف جنگ روکنے کی کئی وجوہات ہیں۔ گزشتہ 40

برسوں کے دوران کئی آزاد مسلم ریاستوں کو تدریجی طور پر حملے کا نشانہ بنایا

جاچکا ہے، مثلاً عراق، شام، لیبیا، سوڈان وغیرہ،اگر ایران فوجی اور اقتصادی

لحاظ سے تباہ و برباد کردیا جاتا ہے تو پھر سوچنا ہوگااگلا نمبر کس کا ہوگا؟۔تنازع

کی شدت میں کمی لانے کیلئے کسی قسم کے اقدام سے قبل تنازع کی وجہ بننے

والے مسائل کو حل اور تمام فریقین کے خدشات کوملکر اعلی سطحی سفارتی

ذرائع اور صبر وتحمل سے دور کرنا ہوگا۔

(tipu.asim@yahoo.com)