276

بلیک منی، جہادی، نوجوان اور 909 کا مشن

Spread the love

(ایجنٹ 909، قسط 9)

وہ گھر پہنچنے تک “جو” کے بارے میں سوچتا رہا، اسے یقین تھا “جو” اس سے

دوبارہ رابطہ کرے گی، وہ انتہائی تھک چکا تھا، کل اسے اپنے ضروری کام کے

سلسلے میں بالم سٹیشن پہنچنا تھا، اطلاعات تھیں کہ کچھ پاکستانی طالبعلم جہاد اور

شدت پسندی پر مبنی لٹریچر کی ترویج اور سرگرمیوں میں ملوث پائے جارہے

تھے، ان طلبا کی جانب سے حوالہ ہنڈی کے ذریعے رقوم بھی پاکستان بھیجی گئی

تھیں، منڈی بہائوالدین کا ایک شخص راجہ لندن میں ہی مقیم تھا اور ایک ریستوران

میں ملازم تھا، لوگوں سے پائونڈز وصول کرکے اپنے اکائونٹ میں منتقل کرتا تھا

یہ بھی پڑھیں:…. “جو” کی قسمت کا حال، 909 کی نصیحت

اور پاکستان سے طے شدہ ریٹ کے مطابق پیسے ان کے عزیز و اقارب کو دلوا

دیتا، اس کا نیٹ ورک لاہور میں بھی تھا، لاہور ہوٹل اورمیو ہسپتال روڈ پر کچھ

مقامی لوگ اس کے ذریعے اپنی بلیک منی کو وائٹ کرنے میں مصروف تھے،یہ

سلسلہ پورے برطانیہ میں پھیلتا جا رہا تھا اور برطانوی سرکار اس حوالے سے

خاصی پریشان دکھائی دے رہی تھی-

909 کا مشن صرف اتنا تھا کہ وہ ان عناصر کا پتہ چلائے جو پاکستانی نوجوانوں

کی برین واشنگ میں مصروف تھے اور انہیں جہادی بنانا چاہتے تھے،اس سلسلے

میں 909 کو بتایا گیا کہ لندن کے علاقہ بالم میں شدت پسندوں کا نیٹ ورک موجود

جس کو حزب التحریر کی جانب سے فنڈنگ کی جا رہی تھی، 909 تھکا ہارا گھر

پہنچا اور ماریوانا کا ایک بڑا سا ’’سپلف‘‘ تیار کیا،اسے سلگایا، باتھ روم میں

جاتے ہی ٹب میں گرم پانی بھرا، اس میں نمک ڈالا اور لیٹ گیا اس نے آنکھیں بند

کر لیں، اور ’’سپلف‘‘ پینا شروع کر دیا، اسے خاصی تسکین حاصل ہو رہی تھی،

“جو” کے سامنے کئی گھنٹے سگریٹ نہ پینے سے خاصا سست ہو چکا تھا،40

منٹ باتھ لینے کے بعد وہ اٹھا اور سیدھا نیچے کچن میں آ گیا،فریج سے ٹھنڈا ٹھار

بیئر کین نکالا اور ایک ہی سانس میں اسے اپنے اندر انڈیل لیا، سردیوں میں بھی

سرد کین کا اپنا مزہ تھا، پینے کے بعد وہ سیدھا اپنے کمرے میں گیا اور سو گیا-

صبح 9 بجے اس کی آنکھ کھلی، حسب روایت اس نے سگریٹ تیار کیا اور باتھ

روم میں گھس گیا، نہا دھو کرتروتازہ ہونے کے بعد وہ باہر نکلا، اس کا سر درد

کر رہا تھا اور ایسا بہت کم ہوا تھا کہ اس نے سونے سے پہلے دودھ نہ پیا ہو وہ

پانی پینا پسند نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی جگہ دودھ اور جوسز پر ہی گزارا کرتا تھا

لیکن گزشتہ رات اسے ریڈ وائن پینی پڑ گئی یوں دودھ کی گنجائش نہ تھی، یہی

وجہ تھی کہ اس کا سر درد کر رہا تھا، کچن میں گھستے ہی اس نے فریج سے

دودھ کی بوتل نکالی، ایک لیٹر پتیلی میں انڈیلا اور گرم کرنے کیلئے چولہے

پر رکھ دیا، وہ مائیکرو ویو اوون سے سخت نالاں تھا اس لئے چولہے کا استعمال

کرتا تھا، دودھ گرم ہوتے ہی اس نے اسپرین کی دو گولیاں منہ میں رکھیں اور

دودھ کےساتھ نگل گیا-

دودھ ختم ہوتے ہی اس نے دودھ چھوٹی کی ایک اور بوتل نکالی، ٹھنڈے دودھ کا

ایک گھونٹ بھر کر اسے میز پر رکھ دیا اور بیڑی بنانا شروع کر دی، بیڑی کے

تیار ہوتے ہی اسے سلگایا اور ٹھنڈا دودھ آہستہ آہستہ پینا شروع کر دیا، برطانیہ کا

ایک دودھ ہی تھا جو اسے بہت پسند تھا، دودھ اور بیڑی کے ختم ہوتے ہی وہ بالم

اسٹیشن کی طرف پیدل چل نکلا، اسے وہاں پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگا، بالم کا

کیب آفس’’5000‘‘ انتہائی معروف تھا اور اس کے 150 سے زائد ڈرائیور پورے

لندن میں دندناتے پھرتے تھے، وہ تمام کے تمام پاکستانی نژاد برٹش تھے، کچھ

سیاسی پناہ گزین تھے جو مشرف کے مارشل لاء کے بعد وہاں آئے تھے، کچھ

افغان تھے، تمام ڈرائیور ہفتے میں سینکڑوں پائونڈ کماتے تھے لیکن کیب آفس کے

باہر نصب سرکاری ٹوائلٹ استعمال کرنے کیلئے 10 پینی (پاکستانی دس روپے)

خرچ کرنے کے روادار نہ تھے، جیسے ہی ایک ڈرائیور باہر آتا آہنی دروازہ آٹو

میٹک صفائی کیلئے خود بخود بند ہو جاتا لیکن ڈرائیور صاحبان اپنا پائوں اڑا لیتے

اور دروازہ بند ہونے سے قبل دوسرا اندرگھس جاتا یوں صفائی کا سسٹم پورا نہ

ہونے سے ٹوائلٹ آئوٹ آف آرڈر ہو جاتا اور خراب ہو جاتا تھا، اس کو ٹھیک

کرنے کیلئے برطانوی سرکار کو سیکڑوں پائونڈ خرچ کرنے پڑتے تھے بالآخر

تنگ آکر مقامی کونسل نے اسے ٹھیک کرنا ہی بند کردیا اور وہ مہینوں خراب پڑا

رہتا،909 کو اس صورتحال پر بہت غصہ آیا اور وہ ٹوائلٹ کیلئے وہاں قریب ایک

بڑے سٹور سینزبری(sainsbury) میں گھس گیا اور باہر نکلتے ہی اس نے سکھ

کا سانس لیا، وہ وہاں سے اسٹیشن کے انتہائی قریب واقع ایک ٹیک وے(take

away) میں جا گھسا اور مالک سے نوکری کیلئے درخواست کر ڈالی،ریستوران

کے مالک نے کچھ لمحات غور کرنے کے بعد اسے رکھ لیا، اسے واقعی ایک

پاکستانی ورکر کی ضرورت تھی، اس نے 909 سے اس کے سٹیٹس کے بارے

میں پوچھا تو اس نے اپنا نیشنل انشورنس نمبر اس کے سامنے رکھ دیا، مالک

مطمئن ہو گیا اور اسے کام سکھانے کیلئے اندر کچن میں لے گیا، 909 یہ سب کام

کر چکا تھا، اس نے دیکھتے ہی دیکھتے مالک کو حیران کر دیا اور وہ 909 کی

چستی سے خاصا متاثر ہوا، ریستوران کے مالک نے اسے اڑھائی پائونڈ فی گھنٹہ

جانیئے:…. باغ صفائی، ایم کیو ایم اور مساج رسید (ایجنٹ 909) دوسری قسط

پر ملازم رکھا، حالانکہ فی گھنٹہ کی کم از کم اجرت 20 سال سے اوپرکے افراد

کیلئے 6 پائونڈ مقرر تھی، 909 نے اسی روز کام شروع کر دیا، اس دن وہ

ریستوران میں آنے جانے والے تمام لوگوں کا بخوبی جائزہ لیتا رہا، اسے اپنا

مطلوبہ شکار دکھائی نہیں دیا تھا، یوں یہ روٹین چل پڑی، 909 ہر روز صبح11

بجے ریستوران پہنچ جاتا اور رات ایک بجے اس کو چھٹی ملتی، ابھی اسے کام

کرتے7 دن ہی گزرے تھے وہاں ریلوے اسٹیشن کا ایک آفیسر جو کہ بنگالی تھا

اور اسکی عمر لگ بھگ 28 برس تھی، ریستوران میں آ گھسا، اس نے 909 کے

ساتھ کام کرنیوالے ملازم سے اردو میں حال چال پوچھا اور پھر 909 کے بارے

میں دریافت کیا، ساتھی ملازم نے بتایا کہ پاکستان سے نیا نیا آیا ہے اور کام کر رہا

ہے، بنگالی آفیسر تھوڑی دیر وہاں موجود رہا، اسنے چکن ڈونر کا آرڈر کیا،ایک

سافٹ ڈرنک لیا اور پھر وہیں کھا پی کر چلتا بنا، 909 نے اپنے ساتھی سے اس

کے بارے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ بڑے کام کا بندہ، مفت ٹریول کارڈ دے جاتا

تھا اور بڑا دیندارتھا، 909 کو دی گئی بریفنگ کے مطابق یہی اس کا مطلوبہ

ٹارگٹ تھا جو اسے آسانی سے مل گیا تھا،اب بات کیسے بڑھانی تھی اس نے طے

کر لیا تھا، 909 کے ساتھی نے اسے بتایا کہ وہ بنگلہ دیش اپنی فیملی کو ملنے گیا

تھا اور ایک ماہ بعد واپس آیا تھا، اگلے روز وہ پھر ریستوران میں آ گیا، اس کو

سب ’’محمد‘‘ کہہ کر پکارتے تھے، 909 نے باتوں باتوں میں فلسطین اور کشمیر

کا ذکر چھیڑ دیا تو بنگالی آفیسر یکدم چونکا، 909 بھانپ گیا کہ تیر سیدھا نشانے

پر جا لگا تھا، بنگالی آفیسر نے فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر نہ

صرف لیکچر دے ڈالا بلکہ 909 کو خوب سراہا کہ اس کے سینے میں مسلمانوں

کیلئے دل دھڑکتا تھا،اگلے روز ہی وہ جہادی لٹریچر پر مبنی کچھ کتابچے اٹھا لایا

اور اسے تھما دئے کہ فارغ وقت میں انکا مطالعہ کرے اور ساتھ ہی کہا کسی کو

بھی یہ نہ د کھائے، 909 نے وہ کتابچے رکھ لئے اور گھر جا کر ان کا بخوبی

مطالعہ کیا پھر ان کی فوٹو کاپی کو محفوظ کرکے مطلوبہ جگہ پر ای میل کر دی،

اس کا آدھا کام ہو چکا تھا، ٹارگٹ کا پتہ چل چکا تھا،اب اس کے پیچھے کون کون

تھا اس کا پتہ چلانا تھا، برٹش ایم آئی دفاتر میں بیٹھی جھک مار رہی تھی اسے

نہیں معلوم تھا کہ اس کے ملک میں کیا کھیل کھیلا جا رہا تھا ۔۔۔۔ جاری ۔۔۔۔۔