323

وزیراعظم عمران خان گستاخ صحابہ کرام؟ یا حقیقت کچھ اور

Spread the love

لاہور(جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن خصوصی رپورٹ)

وزیراعظم عمران خان نے 10 جون 2019 کو قوم سے خطاب میں وطن عزیز کی

موجودہ صورتحال اور ریاست مدینہ کے حوالے سے اپنے نظریئے کے بارے میں

وضاحت کرتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو غزوات “بدر”

اور”احد” میں پیش آنیوالے واقعات کو اپنے خطاب کا حصہ کیا بنایا

ایک تاریخی حقیقت کو قوم کے سامنے کیا بیان کیا کہ ایک طبقہ اٹھ کھڑا ہوا اور

عمران خان کوگستاخ صحابہ قرار دیتے ہوئے امہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ

کردیا جس پر وہ ابھی تک قائم ہیں،

سوال پیدا ہوتا ہے کیا وزیراعظم کا وہ تاریخی حقیقت قوم کو بتانا واقعی گستاخی

صحابہ کرام ہے ؟

تفصیلی اور انتہائی غیر جانبدارانہ جواب سمیت مذکورہ دونوں غزوات کے حوالے

سے قرآن پاک میں موجود آیات کریمہ، ان کی مستند تشریح اورامت مسلمہ کے تمام

مکاتب فکرکے جدید علما کرام ، تاریخ دان اس ضمن میں کیا کہتے ہیں،

جانیئے اور شکر کیجئے کہ کوئی ایسا حکمران تو ملا جس نے امت کی اس دکھتی

رگ پر ہاتھ رکھا تاکہ وہ جاگے اور اپنی حمیت و غیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے

اپنی کھوئی ساکھ بحال کرنے کےلئے اٹھ کھڑی ہو. لیکن وزیراعظم کی اس بات کو

غلط رنگ دیا جا رہا ہے

موجودہ ٹیکس نظام غیر منصفانہ،غریب آدمی پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ ڈالا جاتا ہے،، عمران خان

کیونکہ

وہ طبقہ نہیں چاہتا

امت اور بالخصوص اہل پاکستان حقائق سے روشناس ہوں بلکہ اسی طرح جہاہلت

کے گڑھے میں دھنسے رہیں ہماری بات کو ہی حق بات مانیں تاکہ انکا کاروبار

فساد چلتا رہے،

اہل پاکستان سے بالخصوص اور دیگر امت سے بالعموم استدعا ہے ہم یہاں آپکو

اس ضمن میں قرآن پاک، احادیث مبارکہ تمام مکاتب فکر کے علما کرام اور تاریخ

دانوں کی مذکورہ دونوں غزوات مبارکہ اور وزیراعظم عمران خان کے بیان بلکہ

انہیں گستاخ صحابہ قرار دینے والے طبقہ کی حقیقی شکل دیکھانے کی سعی کر

رہے ہیں …… باقی فیصلہ آپ پر

دیکھیئے سنیئے اور جانیئے اصل حقیقت