184

روپے کی بے قدری کا سبب قرضے، معاشی مستقبل روشن، عوام اعتماد رکھیں، گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر

Spread the love

کراچی(جے ٹی این آن لائن کامرس رپورٹر)

گورنرسٹیٹ بینک رضا باقرنے کہا ہے روپے کی قدرجون کی ادائیگیوں کی وجہ

سے کم ہورہی ہے، آئی ایم ایف کو ملکی فائدے کیلئے استعمال کروں گا، آئی ایم

ایف میں کام کرچکا ہوں، آئی ایم ایف معاہدہ معیشت کیلئے معاون ثابت ہوگا۔ اپنی

پہلی پریس کانفرنس میں انکا مزید کہنا تھا بیرونی اورمالیاتی خسارے میں کمی آنا

شروع ہو گئی، ملک میں غیریقینی کی صوتحال کو ختم کرنے کیلئے لوگوں کا

اعتماد بحال کرنا ہوگا کیونکہ ملک میں کافی حد تک استحکام آنا شروع ہوگیا ہے،

ہم اپنے معاشی مستقبل سے پرامید ہیں۔ ہمارا ایکسچینج ریٹ کافی عرصے تک

فکسڈ رہا، ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ سے منسلک کرنے سے برآمدات میں اضافہ

ہو گا۔ ترسیلات زر بڑھنے سے ایکسچینج ریٹ میں کمی آتی ہے۔ عید سے پہلے

ترسیلات بڑھنے سے ایکسچینج بہترہوا۔ ایکسچینج ریٹ متحرک ہونے کے بعد

خسارہ کم ہوا ہے۔ مارکیٹ میں ایکسچینج ریٹ صنعت کو تحفظ دیتا ہے۔ رواں

مالی سال کیلئے حکومت سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لے گی۔ ماضی میں

حکومتیں سٹیٹ بینک سے قرض لیتی تھیں۔ حکومتی کفایت شعاری بجٹ خسارہ کم

ہوگا۔ بجٹ میں مالیاتی خسارہ کنٹرول کیا جائے گا۔ شرح سود کے حوالے سے تین

باتیں دیکھی جاتی ہیں مہنگائی، مالیاتی صورتحال مستحکم ہے، گروتھ کو پروموٹ

کیسے کیا جائے؟ اچھے بینک ان تینوں چیزوں کو لے کرچلتے ہیں۔ جو مہنگائی

ہوچکی اس کو نہیں اب مستقبل کو دیکھنا ہے۔

رضا باقرنے کہا آئی ایم ایف سے ہمیں 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ ہمارے اصلاحاتی

پروگرام کو بین الاقوامی کمیونٹی سپورٹ کررہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف

لیول معاہدہ ہوچکا ہے۔ آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ تین جولائی کوہوگی۔ ہماری

طرف سے تمام شرائط پوری کردی گئی ہیں۔ ملکی معاشی ٹیم معاشی پلان پر عمل

درآمد کررہی ہے، پلان سے معیشت میں کافی حد تک استحکام آیا ہے اوراس کی

وجہ سے مڈل کلاس اور غریب طبقہ کا فائدہ ہو گا۔ ہمارے معاشی عدم استحکام

کی دو اہم اور بنیادی وجوہات تجارتی و مالیاتی خسارے ہیں، ماضی میں مرکزی

بینک پر قرضوں کے انحصار سے افراط زر اور روپے کی قدر پر اثر پڑا،

روپے کی قدر ایک جگہ رہنے سے جاری کھاتے کا خسارہ بڑھتا رہا اور

زرمبادلہ کے زخائر کم ہوئے، روپے کی قدرکو آزاد چھوڑنا معیشت کے لیے

بالکل مناسب نہیں جبکہ مرکزی بینک کے براہ راست حکومت کو قرضہ

دینے سے افراط زر بڑھتا ہے، اب یہ دونوں مسائل کنٹرول ہورہے ہیں۔ ہم اپنے

معاشی مستقبل کے لیے پرامید ہیں کیونکہ وہ بہت روشن ہے، ہمارا سب سے بڑا

مخالف بے یقینی ہے جسے ہر حال میں ختم کرکے عوام کو اعتماد دینا ہوگا۔