61

قومی اسمبلی،آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر ہنگامہ آرائی

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکو پاکستان پیپلزپارٹی کے

شریک چیئرمین آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر پھر ہنگامہ

آرائی کے باعث اجلاس آج تک ملتوی کردیا ،حکومتی اور اپوزیشن ارکا ن کی

جانب سے ایک دوسرے کیخلاف شدید نعرے بازی کی وجہ سے ایوان مچھلی

منڈی کا منظر پیش کر تا رہا ،پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان ’’پروڈکشن آرڈر

جاری کرو ‘‘کے نعرے لگائے ،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ایک مجبوراً

اجلاس (آج) منگل کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا اور اس طرح

شہباز شریف ایک بار پھر اپنی بجٹ تقریر مکمل نہ کر سکے جبکہ اسپیکر قومی

اسمبلی اسد قصر نے رائے کے بغیر سابق صدر آصف علی زر داری کے

پروڈکشن آرڈر جاری کر نے سے انکار کر دیاسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت

ایوانِ زیریں کا اجلاس ہوا، جس میں اپوزیشن کی جانب سے آصف زرداری کے

پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج کیا گیا۔اسد قیصر نے بارہا اپوزیشن لیڈر

کو بجٹ پر تقریر کا آغاز کرنے کا کہا لیکن شہباز شریف نے ایوان میں خاموشی

نہ ہونے کے باعث تقریر شروع نہیں کی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے شہباز شریف

کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ بات کا آغاز نہیں کریں گے تو سیشن کیسے

شروع ہوگا جس پر شہباز شریف نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ یہ بجٹ سیشن

ہے، تمام منتخب ارکان کا استحقاق ہے کہ وہ آکر اپنے مطالبات پیش کریں۔انہوں

نے بلا تاخیر پی پی پی شریک چیئرمین آصف زداری اور مسلم لیگ(ن) کے رہنما

خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اراکین کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ

کیا۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی چلانا صرف اسپیکر کا کام نہیں حکومت اور اپوزیشن

دونوں کی ذمہ داری ہے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔بجٹ پر شہباز شریف کی تقریر

سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے اظہار خیال کی

اجازت طلب کی اور بارہا اصرار پر اسپیکر نے انہیں صرف ایک منٹ تک بات

کرنے کی اجازت دی۔راجا پرویز اشرف نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے

کہا کہ ایوان کا رول 108 اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ایوان کا جو بھی رکن کسی

بھی وجہ سے موجود نہ ہو تو سپیکر کو لازمی طور پر اس کے پروڈکشن آرڈر

جاری کرنے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رول 108 کے تحت سپیکر کو آصف زرداری

کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ہیں،اگر آپ ایسا کرنے سے قاصر ہیں تو آپ کا

رویہ جانبدارانہ ہے۔رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ہمارے ساتھ مساوی سلوک نہیں کیا

جارہا، پیپلزپارٹی کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے۔جس کے بعد شہباز

شریف نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بجٹ عوام کی

ضروریات اور ترجیحات کو پیش نظر رکھ کر بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند

دن قبل وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا اور خطاب میں دھمکیاں دیں لیکن انہوں

نے دو اہم باتیں کیں، ریاست مدینہ کا ذکر کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ ریاست مدینہ

میں وہ وقت بھی آیا تھا جب مدینہ میں کوئی زکوۃ لینے والا نہیں تھا، خلفائے

راشدین کے زمانے میں حضرت عمر فاروق خود ضرورت مندوں کی مدد کرتے

تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ میں جھوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔

شہباز شریف کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی اجلاس میں ایک بار پھر شور

شرابا شروع ہوا،سپیکر اسمبلی ارکان کو خاموش رہنے کی تلقین کرتے رہے۔اس

دوران بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل کے صدر سردار اختر مینگل بھی

اپوزیشن کے احتجاج میں نشست پر کھڑے ہوگئے۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا

اجلاس سہ پہر 4 بجے منعقد ہونا تھا تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان کی جانب

سے اسپیکر آفس کے سامنے دھرنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوگیا