76

بچوں کے ڈائپرز کی گونج امریکی کانگریس میں، لیکن کیوں جان کر آپکو حیرانگی ہوگی

Spread the love

واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

موجودہ مہنگائی کے دور میں ماں باپ کے لیے جہاں ماہانہ راشن خریدنا، بلوں و

سکولوں کی بھاری فیسیں ادا کرنا اور دیگر ضروری گھریلو امور کی انجام دہی

مشکل تر ہوچکی ہے وہیں ان کے لیے نومولود بچے کے ڈائپرز کی خریداری بھی

ایک مسئلہ بن گئی ہے جس کی بڑی وجہ اس کی قیمتیں ہیں جو متوسط اور غریب

طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین کے لیے ناقابل برداشت ہوچکی ہیں لیکن

ڈائپرز کی قیمتیں صرف پاکستانی والدین کو متاثر نہیں کررہی ہیں بلکہ ان کی زد

میں دنیا کے ترقی یافتہ ترین کہلائے جانے والے ملک امریکہ کے والدین بھی آ

گئے ہیں جس کی وجہ سے امریکی کانگریس میں بچوں کے ڈائپر کے لیے باقاعدہ

بل بھی پیش کرنا پڑ گیا۔ امریکی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق

خارجہ، دفاع اور معیشت جیسے امور پر غور کرنے والی کانگریس کے اراکین

کی حمایت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ متاثرہ ماں اور دیگر سماجی تنظیموں نے

کیپیٹل ہل کا رخ کیا ہے اور پیش کردہ بل کی حمایت پہ اراکین کو آمادہ کرنے کی

کوشش کی ہے۔ وی او اے کی رپورٹ کے مطابق ایک متاثرہ ماں ایملی نے ذرائع

ابلاغ کو بتایا ڈائپرز کی قیمتوں کا یہ عالم ہے کہ اسے یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ

وہ بچے کے لیے ڈائپرز خریدے یا گھر کے لیے کھانے پینے کی اشیا خریدے اور

یا پھر بلوں کی ادائیگی کرے۔ ایملی ان ماں میں سے ہے جو باقاعدہ خود بھی

ملازمت کرتی ہیں۔ بحیثیت پراپرٹی مشیر کام کرنے والی ماں کیپیٹل ہل، ایڈوکیسی

گروپ کے ہمراہ کیپیٹل ہل پہنچی ہے۔ نیشنل ڈائپرز بینک ایسوسی ایشن کے مطابق

امریکہ میں ہر تین میں سے ایک بچے کا خاندان ڈائپر خریدنے کی استطاعت نہیں

رکھتا ہے۔ ایک نومولود بچے کو دن میں کم از کم 12 ڈائپرز درکار ہوتے ہیں جب

کہ تھوڑے بڑے بچے کے لیے آٹھ ڈائپرز کی ضرورت ہوتی ہے۔ رپورٹ کے

مطابق بظاہر یہ معمولی سے ڈائپرزہیں لیکن ماں کو امریکہ میں 100 سے 120

ڈالرز ان پر خرچ کرنا پڑتے ہیں جو سالانہ ڈیڑھ ہزار ڈالرز بنتے ہیں ۔ موجودہ

مہنگائی کے دور میں متوسط طبقے اورکم آمدنی والے خاندانوں کے لیے یہ ایک

خطیر رقم ہے جس کا انتظام کرنا متاثرہ خاندانوں کے لیے از حد مشکل ہے۔