106

خلیج فارس میں جاپانی آئل ٹینکرز پر حملہ ایران نےکیا،ٹرمپ کا دعویٰ

Spread the love

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) خلیج فارس میں جاپان کے دو آئل ٹینکرز پر حملہ

بدستور امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ سفارتی جنگ کا موضوع بنا ہوا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پہلے اس حملے کے لئے ایران کو مورد

الزام ٹھہرایا تھا جس کی ایران نے واضح الفاظ میں تردید کردی تھی۔ اب ایک

امریکی ٹی وی چینل ’’فوکس نیوز‘‘ کے پروگرام ’’فوکس اینڈ فرینڈز‘‘ میں

شرکت کرتے ہوئے صدرٹرمپ نے واضح الفاظ میں ایران پر براہ راست الزام لگایا

کہ اس نے جاپان کے تیل بردار بحری جہازوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ’’ آپ

نے وہاں ایک کشتی دیکھی ہوگی‘‘۔ یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ

روز ایک ویڈیو جاری کی جس میں جاپان کے دو بحری جہازوں میں سے ایک

سے ایرانی فوج بارودی سرنگ نکال رہی ہے جو دھماکے سے پھٹ نہیں سکی

تھی۔ایران نے جمعرات کو ہونے والے اس حملے میں اپنے ملوث ہونے سے انکار

کردیا تھا۔ سینٹرل کمانڈ کے کیپٹن بل اربن نے ویڈیو کے ساتھ ایک بیان میں کہا

ہے کہ ’’اس طرح کے حملے جہاز رانی کی بین الاقوامی اور تجارتی آزادی کیلئے

شدید خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کسی نئے تنازع میں

الجھنا نہیں چاہتا، تاہم اپنے مفادات کا لازمی تحفظ کریں گے‘‘۔ صدر ٹرمپ نے

’’فوکس نیوز‘‘ کو مزید بتایا کہ ایران کے معاملے میں ان کی انتظامیہ سابق صدر

اوبامہ سے کہیں زیادہ سخت ہے جنہوں نے ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کیا جو

بعد میں بیکار ثابت ہوا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ جب وہ اقتدار میں آئے تو اس وقت

ایران دہشت کی علامت بناہوا تھا اور ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ وہ یمن اور شام میں ہر

جگہ موجود تھا اس وقت 14 مقامات پر جنگ کے محاذ کھلے تھے اور ایران ہر

محاذ کا انچارج تھا۔ صدر ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ’’ایرانی ایک دہشت گرد قوم ہے

لیکن میرے اقتدار میں آنے کے بعد وہ کافی بدل گئے ہیں۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں

کہ انہیں پہلے روکنے والا کوئی نہیں تھالیکن اب وہ گہری مشکل میں پڑ چکے

ہیں‘‘۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ ایران کیساتھ جس ایٹمی معاہدے سے نکل گیا

ہے وہ بالکل بیکار ثابت ہوا ہے۔ اس کے ذریعے ایران پانچ چھ سال میں ایٹمی

طاقت بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو سمجھ آ چکی ہے کہ اسے

ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیا جائے گا۔ ایٹمی ہتھیاروں کے فروغ سے دنیا کو بہت

مشکلات پیش آتی ہیں اس لئے ہم نہیں چاہتے کہ ایران ایٹمی طاقت بنے۔ اس لئے ہم

ایران پر سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں‘‘۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ کتنی عجیب

بات ہے کہ جب صدر اوباما ایران کے ساتھ سمجھوتہ کر رہے تھے اور ایران کو

اربوں ڈالر واپس کئے تھے تو اس وقت ایرانی امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا رہے

تھے۔

امریکہ/ایران