406

نیب سمیت کسی سے نہیں ڈرتا، میرے خلاف ریفرنس بنا تو دھجیاں بکھیر دونگا، فضل الرحمن

Spread the love

کراچی (جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر)

متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل

الرحمن نے کہا ہے یہ وقت عوام پر کرب کا وقت ہے، سیاسی قوت اگر آج عوام

کے ساتھ کھڑی نہیں ہوں تو پھر کب کھڑی ہونگی؟ ہم ریاستی اداروں کے خلاف

نہیں لیکن ریاستی اداروں کو بھی سیاست کے بجائے ملکی سرحدوں پر نظر

رکھنی چاہیے، ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے سیاسی و جمہوری قوتیں

متحد اور منظم ہیں، جون کے آخری عشرہ اہم ہے جس میں آل پارٹی کانفرنس

ہوگی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، اس وقت ملک جس غیر یقینی

کیفیت، معاشی بحران کا شکار ہے اس سے جغرافیائی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ ہم

پاکستان میں ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، نیب اور کسی

ادارے میں اتنی جرت نہیں کہ وہ ہمیں بلائے، نیب یا ان اداروں سے ڈرتا نہیں،

اگر میرے خلاف کوئی ریفرنس تیار کیا گیا تو ان کے سامنے اس ریفرنس کی

دھجیاں بکھیردوں گا، ان لوگوں نے صاف ستھری سیاست کو بھی اب جرم بنا دیا

ہے۔ مختلف رہنماؤں کی گرفتاریاں مالی معاملہ نہیں سیاسی گرفتاریاں ہیں، نواز

شریف اور آصف علی زرداری تقریباََ ایک پیج پر ہیں، عمران خان نے گزشتہ

تقریرمیں صحابہ کرام کے حوالے جو کچھ کہا وہ جہالت ہے اور مغربی لٹریچر

کے ذریعے ہمیں اسلامی تاریخ بتا رہے ہیں، صحابہ ہی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں

ان کے لئے غیر ذمہ دارانہ جملوں کا استعمال افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ بدھ

کو جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکر یٹری جنرل شاہ محمد اویس نورانی

کی رہائش بیت الرضوان میں عید ملن پارٹی کے موقع پر مختلف سیاسی اور مذہبی

جماعتوں کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا کہ

آج ہماری سیاست میں گالی کوفروغ دیا گیا، چور اور لیٹرے روز کا معمول بن گیا

ہے۔ ہماری سیاست ایسی نہیں تھی، وزیر اعظم اب 12 بجے قوم سے خطاب کرتا

ہے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ تو ایسا وزیر اعظم ہے اس کی اپنی تقریر

بھی سنسر ہوگئی یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ ان خاموش لمحوں میں کیا

کہا گیا۔ انہوں نے کہا غزوہ بدر میں کچھ صحابہ رہ گئے تھے انہوں نے غزوہ

احد میں اپنے آپ کو میدان جنگ میں وقف کیا اور کئی صحابہ کرام شہید ہوئے۔ان

کے اس جذبہ کو ڈر کہا گیا جبکہ وزیراعظم صاحب آپکو دین اور مذہب کا علم ہی

نہیں تو پھر بولتے کیوں ہو؟ یہ سچ ہے آج ان حکمرانوں سے نجات کے لئے قوم

ایک پیج پر ہے۔ سیاستدانوں کو آگے آنا پڑے گا۔ بجٹ کے عین وقت پر سیاست

دانوں کی گرفتاریوں کا کیا مطلب ہے۔ چیئرمین نیب کو بلیک میل تو نہیں کیا جارہا

یہ سیاسی گرفتاریاں ہیں۔ ہم ان کی مذمت کرتے ہیں۔ مجھے نیب نے طلب نہیں کیا

اور کر بھی نہیں سکتا۔ ہم اسے انصاف کا ادارہ نہیں مانتے، حقیقی انصاف ہم

کریں گے۔ فضل الرحمن اور اس کے باپ داد نے بے غیرتی کی سیاست نہیں

سیکھی۔ عزت و وقار کے ساتھ سیاست کرتے ہیں جب جیلوں میں جاتے ہیں تو

وہاں ہمیں آباؤ اجداد کے قدموں کے نشان نظر آتے ہیں جنہوں نے اسلام اور

آزادی کے لئے قربانیاں دی کیا یہ آج ہمیں پھر غلام بنانا چاہتے ہیں۔ انگریزوں یا

اداروں کا۔ ہم عوام کو ان سے نجات دلانے کے لئے ہر سطح پر جائیں گے اور

عمران خان سمیت ان لوگوں کااحتساب کریں۔