74

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس خلاف آئین و قانون، صدر، وزیراعظم کیخلاف مقدمہ درج کرایا جائے، افتخار چوہدری

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر)

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم جوڈیشل

کونسل کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف

ضابطے کی کارروائی مکمل کئے بغیر ہی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو

بھجوانے کا عمل آئین و قانون کی خلا ف ورزی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل

پروسیجر آف انکوائری 2005 کے رول 14 کے تحت صدر عارف علوی اور

وزیراعظم عمران خان کیخلا ف مقدمہ قائم کرنے کا حکم جاری کرے۔ خط کے

مطابق جھوٹے و جعلی ریفرنس کی وجہ سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم

کورٹ کی بدنامی ہوئی ہے۔ جج اپنے ذاتی کنڈکٹ کا ذمہ دار ہوتا ہے، اپنے خود

کفیل بچوں یا بیوی کے کنڈکٹ کا نہیں۔ خط میں کہا گیا وزیر اعظم نے کابینہ کی

منظوری کے بغیر ہی صدر کو یہ ریفرنس بھجوایا، سپریم کورٹ کے طے شدہ

اصول و قانون کے مطابق یہ ریفرنس ناجائز اور ناقا بل سماعت ہے۔ ریفرنس میں

کسی جگہ پر بھی نہیں کہا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ضابطہ اخلاق کی

خلاف ورزی کی ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس 2000 کی دفعہ 116 کے تحت ایک

جج اپنی خود کفیل اہلیہ اور خود کفیل بچوں کے اثاثوں کا سالانہ گوشوارے میں

ذکر کرنے کے پابند نہیں۔ حکو متی حلقوں نے ریفرنس کے کچھ حصے افشاء

کئے ہیں حالانکہ صدر اور وزیراعظم اپنے اس آنے والے اہم معاملات میں

رازداری رکھنے کے پا بند ہوتے ہیں۔