290

“جو” 909 ، باغ کی صفائی، نائٹ کلب اور ڈانس

Spread the love

جو نے تھوڑی دیر کیلئے ر خصت چاہی اور کنی کترا کر وہاں سے اٹھ کر چلی

گئی، وہ ڈسٹرب ہو چکی تھی اور گوروں کی فطرت کے عین مطابق کچھ لمحات

تنہائی میں گزارنا چاہتی تھی، جو کے پاس ابھی وقت تھا، وہ کسی بھی لمحے

ڈیٹ کا فیصلہ واپس لے سکتی تھی، 909 کچھ لمحے اس کے بارے کھڑا سوچتا

رہا، اس نے باقی کا سارا کام بھی اسی روز نمٹانے کا فیصلہ کر لیا اور شروع ہو

گیا اور اگلے ایک گھنٹے میں تمام سخت تنوں کو کاٹ پھینکا اور پھر بھالے سے

آدھے باغ کوبھی نرم کر ڈالا، اس نے ربڑ کے موٹے اور مضبوط دستانے ہاتھوں

پر چڑھائے اور تنوں کو اکھاڑنا شروع کر دیا، اسی دوران جو دوبارہ باغ میں آ

گئی، وہ فریش دکھائی دے رہی تھی اس کے پیچھے اسکی ساس بھی تھی جو کام

کا معائنہ کرنے آئی تھی، 909 نے ان کی طرف توجہ نہ دی اور تیز رفتاری سے

اپنے کام میں جتا رہا، معمر خاتون نے صورتحال دیکھتے ہوئے پوچھا کیا وہ آج

کام کو نمٹا دے گا، 909 اس کی جانب دیکھے بغیر بولا، بظاہر، اور پھر جو کا نام

لئے بغیر میم کہہ کر پکارا اور مزید ایک اسے عدد سبز بیگ مانگا، جو فوراً

مڑی اور ایک سبز بیگ لا کر اسکے حوالے کر دیا،

909 نے جڑوں سے نکالی گئی سخت گھاس اس میں بھرنا شروع کر دی، معمر

خاتون واپس چلی گئی اور جو کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا، جیسے اسے خطرہ ہو

وہ کوئی شے اٹھا کر غائب نہ کر دے، جو نے اثبات میں سر ہلایا اور دوبارہ

کرسی پر بیٹھ گئی، 909 نے بالآخر باغ کی تمام گھاس کو اکھاڑ پھینکا، وہ بظاہر

تھک چکا تھا لیکن جو کے سامنے تھکن کا اظہار اس کی توہین تھی، اس نے جو

سے دوبارہ پانی کا کہا اور صرف سادہ پانی لانے کی تلقین کی، جو نیک پروین

کی طرح اڑتی گئی اور شیشے کے گلاس میں پانی لے آئی، 909 نے ایک ہی

گھونٹ میں گلاس خالی کر دیا اور جو کو بتائے بغیر باہر نکل گیا، اس نے اپنی

گاڑی کی ڈکی سے لکڑی کا چوڑا پھٹا نکالا اور اسے اٹھائے واپس آ گیا، اس نے

جو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مذاق کی بات نہیں، اس کے لئے دو

عدد بڑے پتھر چاہئیں پھر انہیں باندھنا پڑے گا اور اس کیلئے وقت بہت کم ہے،

لہذا وہ تیا ر ہو جائے، جو بالکل نہ سمجھی کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا؟

پڑھیئے:.. افغان جنگ، رائل آرمی اور “جو” کی ڈیٹ پر آمادگی (ایجنٹ 909 چھٹی قسط)

909 نے اپنے بیگ سے بڑی رسی نکالی، اسے پھٹے کے دونوں جانب سوراخوں

سے بل دے کر نکالا، کندھوں اور بازوئوں سے باگ بنائی اور جو سے کہا پھٹے

پر بیٹھ جائے، اس نے ہنسنا شروع کر دیا اور بولی ایسا ممکن نہیں، 909 نے اسے

دوبارہ کہا کہ جلدی کرے اسکے پاس وقت نہیں، وہ ڈرتی ڈرتی پھٹے پر کھڑی ہو

گئی، اس نے رسیوں کومضبوطی سے پکڑلیا اور909 ہل چلانے لگا ، اچانک وہ

رک گیا اور جو سے بولا وہ اپنی ایڑھیوں پر زرو ڈالے، جو نے اوکے کہا اور

وہ دوبارہ ہل چلانے لگا، جو ہنس رہی تھی اور 909 اسکو اسی کے باغ کی سیر

کروا رہا تھا، اس نے ہل چلاتے ہوئے کہا کہ وہ اندازاً 9 ماہ بعد ہنسی ہے کیا وہ

صحیح کہہ رہا ہے؟ جو خاموش ہو گئی اور پھر اس نے ہنسنا بند کر دیا، 909 نے

بھی کام روک دیا اور بولا اس کی ہنسی کے بغیر اب کام ممکن نہیں، اور پھر چل

پڑا تھوڑی دیر بعد جو نے پھر ہنسنا شروع کر دیا اور یوں باغ کے دو چکرتمام

زاویوں میں پورے ہوگئے، 909 رک گیا اور باغ کا جائزہ لینا شروع کر دیا، اس

نے پھٹے کی رسیاں تنگ کر دیں اور دوبارہ جو کو کھڑے ہونے کا کہا، وہ بولی

کہ تم تھک چکے ہو اس لئے ذرا آرام کر لو، 909 بولا کہ وہ کبھی نہیں تھکتا،

فوراً سوار ہو جائو اس مرتبے اسے کندھوں کو پکڑ کر رکھنا تھا، باگ قریب ہو

چکی تھی، جو کا دل بھی 909 کے قریب ہو چکا تھا، جو نے مضبوطی سے اس

کے کندھے پکڑ لئے اور وہ دوبارہ ہل چلانے لگا، اس مرتبہ جو کیلئے توازن

برقرار رکھنا ذرامشکل تھا، اس نے 909 کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اچانک وہ

رک گیا، جو یکدم اسکے کندھوں کیساتھ لپٹ گئی، کچھ لمحے جیسے سب کچھ

رک گیا تھا، پھر وہ جلدی سے جدا ہو گئی اور بولی اب بس، 909 نے بھی پھٹے

کی رسیاں اتاریں اور خود کو آزاد کیا، وہ بھی خاصا تھک چکا تھا، باغ کی

صفائی کا آخری مرحلہ مکمل ہو چکا تھا اور پانچ بج چکے تھے،

اس نے دوبارہ اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا اور جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے والی ایک

دوائی نکالی، اسے ٹب میں ڈالا اور باغ میں نلکے سے پانی بھرنا شروع کر دیا،

آدھا ٹب بھرنے کے بعد اس نے وہ پانی ڈونگے کی مدد سے ترتیب کیساتھ مٹی پر

ڈالنا شروع کر دیا، یہ خاصا طاقتور محلول تھا اور مارکیٹ میں اسکی قیمت بھی

زیادہ تھی، لیکن یہ سب کچھ باغ کی صفائی کے پیکیج میں شامل تھا اور عموماً

کمپنیاں یہ سہولت نہیں دیتی تھیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ کچھ دن بعد ہی آوارہ

بوٹیاں پھر اگ آتی تھی اور مالک کو اپنے پیسوں سے یہ محلول خرید کر چھڑکنا

پڑتا تھا، معمر خاتون کو صفائی مکمل ہونے کے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ آوارہ

جڑی بوٹیوں کو تلف کرنے والا محلول بھی ڈال دیا گیا تھا تو وہ بہت خوش ہوئی

اسنے جو کے سامنے 900 پائونڈ گن کر 909 کو پکڑائے تو اس نے 100 پائونڈ

واپس کر دئے اور کہا’’جو ڈیل تھی وہ ڈیل تھی‘‘ سو پائونڈ فالتو تھے، وہ یہ نہیں

لے گا، معمر خاتون اور جو اس اقدام سے خاصی متاثر ہوئیں اور انہوں نے فالتو

سو پائونڈ واپس رکھ لئے۔ 909 نے اپنا سامان سمیٹا اور گڈ بائے کہتا ہوا گھر سے

باہر نکل آیا،اس نے گاڑی کی ڈکی میں سامان لوڈ کیا ،گاڑی سٹارٹ کی اور وہاں

سے روانہ ہو گیا،

گھر پہنچتے ہی اس نے ہری بھری بیٹری بنائی اور باتھ روم میں گھس گیا، سردی

کی شدت بہت بڑھ چکی تھی اسنے ٹب میں گرم پانی ڈالا، نمک ڈالا اور نیم دراز

ہو گیا، اس دوران اس نے بیڑی کے لمبے لمبے کش کھینچے اور پھر ٹب میں ہی

سو گیا، 40 منٹ کے بعد اس کی آنکھ کھلی تو باتھ روم سٹیم سے بھر چکا تھا،

سانس لینا بھی مشکل ہو رہ تھا، اسنے اٹھ کر باتھ روم کی کھڑکی کھولی،خود کو

سمیٹا اور باہر نکل آیا، وہ تولیا باندھے سیڑھیاں سے اترا اور سیدھا کچن میں چلا

گیا، فریج سے دودھ کی بڑی بوتل نکالی، پتیلی میں انڈیل کر آگ پر رکھ دیا،

ابالا آنے پر دودھ بڑے مگ میں ڈالا، پھر دوبارہ اوپر چلا گیا اور بیڑی بنانے

کے لوازمات اٹھا کر نیچے کچن میں آ گیا، دوبارہ بیڑی بنائی اسے سلگایا اورساتھ

ساتھ دودھ پینا شروع کر دیا۔ دودھ ختم کرکے وہ اوپر اپنے کمرے میں چلا گیا

اور سو گیا،

اگلی صبح اس کی آنکھ دوپہر 12 بجے کے قریب کھلی، اس نے اٹھتے ہی بیڑی

تیار کی اور باتھ روم میں گھس گیا، نہا دھو کر واپس کمرے میں آیا تو فون میسج

کا کاشن دے رہا تھا، یہ جو کی طرف سے شکر یہ کا میسج تھا، اس نے رائٹ ٹائم

پہنچنے کا کہا تھا، 909 بیڈ پر لیٹا اور پھر سو گیا، اس مرتبہ اس کی آنکھ شام 7

بجے کھلی، باہر اندھیرا پھیل چکا تھا، وہ آرام سے تیار ہوا، خبریں سنیں اور

پھر گاڑی سٹارٹ کرکے مطلوبہ کلب پہنچ گیا، کلب میں پارٹنر کے بغیر داخلہ

ممنوع تھا، وہ گاڑی میں ہی جو کا انتظار کرنے لگا، کچھ ہی لمحوں بعد کسی نے

اس کی گاڑی کی ونڈو سکرین پر کھٹکا کیا، اس نے دیکھا تو وہ جو تھی، 909

باہر نکل آیا، جو ہلکے نیلے سوٹ میں نہایت سیکسی دکھائی دے رہی تھی، دونوں

کلب کے مین دروازے پر پہنچے تو باکسر نے مہر آگے کی، 909 نے مخصوص

شکل کی مہر اپنے ہاتھ پر لگوائی جبکہ جو نے اسے اپنی چھاتی پر لگوایا، یوں

دونوں اندر داخل ہو گئے، مختلف روشنیوں اور ہلکے میوزک میں ڈانس جاری تھا

دونوں ایک میز پر جا بیٹھے، ویٹرس آئی اور اس نے دونوں کے آگے پڑے خالی

گلاس میں مخصوص جام بھر دیا اور دوسرے میں آئس بھی رکھ دی، دونوں نے

ہلکے پھلکے انداز میں باتیں شروع کر دیں اور پھر 909 نے اسے ڈانس کی آفر

کی، وہ بخوشی اس کے ساتھ ہال میں آ گئی اور پھر دونوں نے بانہوں میں بانہیں

ڈال کر بال ڈانس شروع کر دیا،

جو کے جسم سے ایک خاص خوشبو کا احساس ہو رہا تھا، وہ 909 کوتیار حالت

میں دیکھ کر خاصا متاثر ہوئی تھی، اس نے 909 سے کہا کہ وہ بہت ہینڈ سم ہے،

909 نے اس تعریف پر اس کی گردن پر اپنے گرم گرم لب رکھ دئے تو وہ مچل

اٹھی، اس کے زیرو بم نہایت متاثر کن تھے، چوڑے گلے سے اس کی بیوٹی لائن

نمایاں ہو رہی تھی، 909 نے اسے بھینچا اور اپنے قریب کرکے ڈانس کی رفتار

ذرا کم کردی،،،،،،، جاری ،،،،،،،