47

وزیراعظم عمران خان کی حیثیت نہیں کہ وہ کسی کو این آر او دیں،مریم نواز

Spread the love

ظفر وال (مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے

وزیراعظم عمران خان کی حیثیت نہیں کہ وہ کسی کو این آر او دیں، وہ کچھ دن بعد

خود این آر او مانگتے پھریں گے،انہوںنے دعویٰ کیا کہ ان کے دور حکومت میں

دنیا میں پاکستان کی عزت بحال ہو رہی تھی لیکن الیکشن کے بعد اچانک تیزی سے

ترقی کرتا ملک تنزلی کی طرف آ گیا۔گزشتہ روزظفر وال میں جلسے سے خطاب

میں انکامزید کہنا تھا پی ٹی آئی الیکشن چورہے ،مسلم لیگ (ن) لیگ کے جاتے ہی

ملک تباہی کا شکار ہو گیا، اب بجٹ میں عوام پر قیامت ڈھا دی گئی۔ نواز شریف

کے دور میں سڑکوں کے جال بچھ رہے تھے، دہشتگردی ختم اور ملک اوپر جا

رہا تھا لیکن جس دن انہیں ہٹایا گیا پاکستان کی تباہی شروع ہو گئی۔ سابق وزیراعظم

کو اقامہ جیسے مذاق پر کرسی سے ہٹایا گیا۔وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر

طنز کرتے ہوئے انکا کہنا تھا رات کو بارہ بجے پتا نہیں کس ضرورت کے تحت

خطاب کیا؟ نیا پاکستان بننے ہی والا تھا کہ پیچھے سے اچانک سے آواز بند کر دی

گئی۔نالائق اعظم سے جب آلو پیاز مہنگا ہونے کا پوچھا جائے گا تو کہیں گے نواز

شریف کو گرفتار کر لیا، جب فاقوں کا پوچھو گے تو جواب دیں گے حمزہ شہباز

کو گرفتار کر لیا، جو ہر بات پر کسی کا محتاج ہو، اس کے منہ سے این آر او کی

بات اچھی نہیں لگتی۔ نواز شریف کو این آر او کی ضرورت ہوتی تو سو این آر او

اس کی جھولی میں پھینک دیے جاتے۔چند دن بعد نیازی لندن فرارہوگا اس کے

بچے اورسب کچھ وہیں ہیں، اس کوپتا ہے پہلی اورآخری مرتبہ اقتدارمیں آیا ہے،

عمران خان تین سوکینال کے گھرمیں رہتا اورٹیکس صرف ایک لاکھ روپے دیتا

ہے،بنی گالہ کا گھربغیراین اوسی کے بنا،کسی میں ہمت ہے وہ گھرکوگرائے؟

کسی میں اتنی جرات ہے اس اشتہاری کوکٹہرے میں کھڑا کرے، 10 سال قبل کی

تحقیقات کیوں نہیں کرتے کہ اس وقت مشرف تھا،مشرف کی تحقیقات کرتے ہوئے

عمران نیازی کے پرجلتے ہیں۔ دوران جلسہ بارش شروع ہوئی تو مریم نواز نے

کہا آپ سب لوگ بارش میں بھی موجود ہیں،سب کے جذبے کوسلام پیش کرتی

ہوں،کینسرسے متاثرہ بچے میاں صاحب سے ملنا چاہتا تھا،میاں صاحب نے مجھے

حکم دیا بچے سے ملنے خود جاؤ ں اوراس کومیری طرف سلام اورپیاردینا،مریم

نواز نے کہا 2018 کا الیکشن چوری ہوا تھا، بجٹ کے ذریعے عوام پرقیامت ٹوٹی

ہے، آج کوئی بھی طبقہ سکون کی زندگی نہیں گزاررہا،جس نے سار ی عمر

دوسروں کی جیبوں کا کھایا ہو اسے کیا پتا عام آدمی کیسے گزارا کرتا ہے، نیازی

کوصرف گونہیں کہنا گھرتک چھوڑکرآنا ہے،جس نے ساری زندگی محنت نہیں

کی، اسے کیا پتا محنت کش کے گھر روٹی کیسے بنتی ہے،نیب

کوشہبازشریف،حمزہ شہباز،شاہد خاقان ،سعد رفیق نظرآتے ہیں ، نیب کوحکومتی

وزرا ء نظرنہیں آتے،عمران خان کواقتدارمیں لایا گیا،الیکشن کمیشن کے پاس

عمران خان اورپی ٹی آئی کیخلاف ثبوت موجود ہیں ،کیا نیب میں اتنی جرات ہے

عمران خان پرآمدن سے زائد اثاثوں کا مقدمہ بنائے، یہ مقدموں سے کس کوڈراتے

ہو؟ نوازشریف کو دو مرتبہ عمرقید کی سزا ہوئی، مشرف دورمیں 14 ماہ قید کاٹ

چکے ،سات سال جلا وطن رہے ، نیازی کی دیدہ دلیری تودیکھیں اپنے

وزیرکولوڈشیڈنگ ختم کرنیکی مبارکباددے رہا ہے،اس جعلی حکومت کوآئے10

ماہ ہوگئے ہیں،بتائیں ان 10ماہ میں کیا کیا؟ صرف شکایتیں اوررونا دھونا جاری

رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply