92

غداری کیس،پیش نہ ہونے پر خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کا دفاع کا حق ختم کردیا

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق

صدر و جنرل (ر)پرویز مشرف کا حق دفاع ختم کر تے ہوئے کہا ہے کہ مفرور

ملزم پرویز مشرف وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کر سکتا، عدالت خود مشرف

کے دفاع کیلئے وکیل مقرر کرے گی، وزارت قانون سے مشرف کے دفاع کیلئے

وکلا کے نام طلب کرلیے۔ بدھ کو جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں خصوصی

عدالت کے تین رکنی بنچ نے پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی

سماعت کی۔ پرویزمشرف گزشتہ روز بھی پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکیل نے

خصوصی عدالت سے مشرف کی پیشی کے لیے ایک اور موقع دینے کی استدعا

کردی۔ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے مسلسل غیر حاضری پر پرویز

مشرف کا حق دفاع ختم کردیا۔وکیل نے کہا کہ پرویزمشرف زندگی کی جنگ لڑ

رہے ہیں، وہ ذہنی اورجسمانی طور پراس قابل نہیں کہ ملک واپس آسکیں، ان کا

وزن تیزی سے کم ہورہا ہے، وہ وہیل چئیر پر ہیں اور پیدل بھی نہیں چل سکتے،

ہر تاریخ سماعت پر کیس کے التوا کی استدعا پر ہمیں بھی شرمندگی ہوتی ہے، ان

کے دل کی کیمو تھراپی ہورہی ہے جس کے بعد صحت مزید خراب ہوتی ہے،

انہیں ایک موقع اور دیاجائے تاکہ وہ خودعدالت میں پیش ہوسکیں، انسانی ہمدردی

کے تحت ایک اور موقع کی استدعا کررہا ہوں۔استغاثہ کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن

نے عدالت سے درخواست کی کہ مشرف کا بیان ویڈیو لنک کیذریعے قلمبند کرنے

کا موقع دیاجائے۔ عدالت نے پرویز مشرف کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست

مسترد کرتے ہوئے ان کا حق دفاع ختم کردیا۔عدالت نے فیصلہ کیا کہ مفرور ملزم

پرویز مشرف وکیل کی خدمات بھی حاصل نہیں کر سکتا اور اب قانون کے مطابق

عدالت خود مشرف کے دفاع کیلئے وکیل مقرر کرے گی۔ عدالت نے وزارت قانون

سے مشرف کے دفاع کیلئے وکلا کے نام طلب کرلیے۔خصوصی عدالت نے کیس

کی مزید سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر

نے کہا ہے کہ شدید بیماری کی وجہ سے پرویز مشرف پاکستان نہیں آسکتے ،ڈاکٹر

اجازت دیں تو ضرورواپس آ جائینگے ،سنگین غداری کیس میں وفاقی حکومت

وکلا ء کا پینل بنائیگی،اس کے بعد عدالت فیصلہ کریگی کہ پرویز مشرف کی

وکالت کون کریگا؟ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیکل

ثبوت اور فوٹو گراف ثبوت لگا کر عدالت میں پیش کیا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے تازہ

فوٹو گراف اور میڈیل رپورٹ لگائی تاکہ ججز کو پرویز مشرف کی صورتحال کا

اندازہ ہو سکے۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت جنرل صاحب کی جو حالت ہے اس میں

کوئی دو رائے نہیں کے وہ بہت بیمار ہیں۔ انہوںنے کہاکہ عدالت نے مناسب نہیں

سمجھا اوہماری التوا کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ انہوںنے کہاکہ کیوں کہ

سپریم لورٹ کا حکم بھی آیا ہے اس لیے ٹرائل کورٹ نے حکم پر عمل درآمد کرنا

ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت جو التوا ہے وہ کوئی بہانہ نہیں بلکہ جنرل صاحب کی

بیماری ہے۔