175

وفاقی بجٹ 2019-20ء، ایک نظر میں

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 70کھرب 36ارب روپے سے زائد کا اپنا

پہلا وفاقی بجٹ برائے مالی سال 20-2019 قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ وفاقی

میزانیہ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا کیونکہ ماہ اپریل میں

وزیراعظم عمران خان کے وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کے فیصلے کی وجہ

سے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر جو وفاقی وزیر خزانہ تھے اپنے عہدے سے

مستعفی ہوگئے تھے جس پر وزیراعظم نے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ

تعینات کر کے انہیں اسد عمر کی ذمہ داریاں سونپ دیں لیکن وہ غیر منتخب ہیں

اور آئین کسی غیر منتخب شخصیت کو پارلیمنٹ میں عوامی معاملات میں مداخلت

کا حق نہیں دیتا اسی لئے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے آئندہ مالی

سال کا بجٹ پیش کیا جس میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3151.2 ارب رو پے

جو 7.2 فیصد بنتا ہے تجویز کیا گیا ہےجبکہ نئے بجٹ میں 11 کھرب روپے سے

زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ برس کی نسبت

بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں 3 کھرب 46 ارب اور 7 کھرب 73 ارب روپے

بلواسطہ ٹیکس کی مد میں بڑھائے گئے ہیں، یعنی 20-2019 کے وفاقی بجٹ میں

گزشتہ مالی سال کی نسبت 4 کھرب 77 ارب روپے کے اضافی سیلز ٹیکس، 3

کھرب 63 ارب روپے کے اضافی انکم ٹیکس، 2 کھرب 65 ارب روپے کی

اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور 99 ارب روپے کی اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیاں عائد

کی جائیں گی،