90

وفاقی بجٹ غربت ، بیروزگاری ومہنگائی کا طوفان قرار،اقتصادی ماہرین

Spread the love

لاہور(کامرس رپورٹر ) اقتصاد ی ماہرین نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر شدید

تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہاہے اس بجٹ کے نتیجے میں ملک میں غربت ،

بیروزگاری او رمہنگائی میں اضافہ ہوگا ۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ

فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا آئندہ بجٹ بنیادی طور پر آئی

ایم ایف کی پیشکی شرائط پر مبنی اور پی ٹی آئی کے منشور اور وعدوں کے براہ

راست متصادم ہے ، یہ بجٹ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ بلکہ غیر متواز ن بھی

ہے ۔ بجٹ بناتے وقت زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا گزشتہ دس ماہ میں معیشت

کی شرح نمو اس سے کم رہی جو حکومت کو ورثے میں ملی تھی اور اگلے مالی

سال میں بھی یہ کم رہے گی جبکہ براہ راست اور بیرونی سرمایہ کاری میں

52فیصد کمی ہوئی اور افراط زر میں تیزی سے اضافہ ہوا ۔ آئندہ مالی سال میں

ایف بی آر کی ٹیکس وصول کا ہدف 5550ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ اگلے

مالی سال میں دفاع کی مد پر 11سو پچاس ارب ، قرضو ں اور سود کی ادائیگی کی

مد پر 29سو ارب روپے اوراین ایف سی کے تحت صوبوں کو 32سو پچا س ارب

روپے دینے کی تجویز ہے جو 7ہزار تین سو ارب روپے بنتے ہیں ۔ بجٹ میں کہا

گیا ہے کہ صوبوں کو جو رقم دی جارہی ہے اس میں سے 4سو 23ارب روپے

خرچ نہیں کریں گے تاکہ بجٹ خسارے کو بڑھنے سے روکا جائے اس کا مطلب

ہے تعلیم ،صحت اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی ہوگی ۔ معروف ماہر اقتصادیات

ڈاکٹر قیس اسلم نے کہاہے آئندہ بجٹ میں حکومت کی جانب سے اشیاء پر سیلز

ٹیکس کی شرح 17فیصد کرنے سے غریب کی زندگی مزید مشکل ہوگی ۔ ہم چاہتے

تھے ملک میں براہ راست ٹیکس بڑھا یا جائے ۔ لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا

انہوںنے کہارواں مالی سال کیلئے اقتصادی اہداف حاصل نہیں ہو سکے اورآئندہ

مالی سال کیلئے پہلے سے زیادہ اقتصادی اہداف غیر مناسب ہیں ۔آئندہ مالی سال

کے بجٹ میں حکومت نے کاروباری و سرمایہ کار برادری کو کوئی مراعات نہیں

دیں بلکہ پانچ برآمدی سیکٹرز پر زیر و ریٹڈ ریجیم ختم کردی ہے اس کے برآمدات

پر منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ ڈالر مزید مہنگا ہوگا اور پاکستان کے ذمے قرضوں

میں اضافہ ہوگا ۔ادھر آپٹما کے قائمقام چیئرمین نوید گلزار نے کہا ہے آئی ایم ایف

کی سخت شرائط کی وجہ سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس وصولی

میں40فیصد اضافہ کردیاگیا ہے، آپٹما نے حکومت کو کاروباری لاگت کم کرنے

،علاقائی اور ملک میں مصابقتی توانائی یقینی بنانے اور انڈسٹری پر کم سے کم

لیکوڈیٹی بوجھ عائد کرنے کی سفارشات دی تھیں ۔ بلند شرح سود اور زیر و

ریٹنگ ریجیم ختم کر کے 17فیصد جی ایس ٹی عائد کئے جانے کے برآمدی شعبے

کے مینوفیکچرنگ پر شدید منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ انڈسٹری اس وقت اس

پوزیشن میں نہیں کہ ان پٹ ٹیکس کے طو رپر حکومت کو 6سو ارب روپے ادا

کرے ۔