32

11کھرب 20ارب کے نئے ٹیکس،تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ ، دفاعی بجٹ پچھلے سال کی سطح پر برقرار

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک) آئندہ مالی سال 2019-20ء کا 8238

ارب دس کروڑ روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا‘ آئندہ

مالی سال کے لئے بجٹ خسارہ 3151 ارب روپے ہوگاجسے ٹیکس اصلاحات کے

ذریعے پورا کیا جائے گا‘ نئے بجٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے

ٹیکس لگائے گئے ہیں ۔وفاقی بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 55 کھرب 55

ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کے

مقابلے میں 25 فیصد یعنی 11 کھرب 20 ارب روپے زیادہ ہے۔اس سلسلے میں

گزشتہ برس کی نسبت بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں 3 کھرب 46 ارب روپے اور 7

کھرب 73 ارب روپے بلواسطہ ٹیکس کی مد میں بڑھائے گئے ہیں۔اس کا مطلب یہ

ہے کہ 20-2019 کے وفاقی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 4 کھرب 77

ارب روپے کے اضافی سیلز ٹیکس، 3 کھرب 63 ارب روپے کے اضافی انکم

ٹیکس، 2 کھرب 65 ارب روپے کی اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور 99 ارب روپے کی

اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیاں عائد کی جائیں گیآئندہ مالی سال 2019-20کے بجٹ

میں چینی ،گھی، مشروبات ،تیل،سگریٹ ،خٹک دودھ ، پنیر ، کریم ، سیمنٹ ، سی

این جی ،مہنگا کر نے ،سنگ مرمر کی صنعت پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے،

سیمی پراسسڈ اورپکے ہوئے چکن،مٹن، بیف اورمچھلی پر 17 فیصد سیلز ٹیکس

لگانے کی تجویز جبکہ پنشن میں 10 فیصد ،ایک سے سولہ گریڈ کے سرکاری

ملازمین کی تنخواہوں میں 10فیصد اور سولہ سے بیس گریڈ کے ملازمین کی

تنخواہوں میں 5فیصد اضافہ ہوگا ،21سے 22گریڈ کے ملازمین کی تنخواہیں نہیں

بڑھائی جائیں گی ،مزدور کی کم از کم تنخواہ 17500روپے مقرر کر دی گئی

،تنخواہ دار طبقے کیلئے بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدن پر چھوٹ ختم کر کے اس کی

حد چھ لاکھ روپے سالانہ کر دی گئی ،اس طرح پچاس ہزار روپے سے زائد ماہانہ

تنخواہ وصول کر نے والو ں کو ٹیکس دینا ہوگا ،ترقیاتی بجٹ کیلئے 1800 ارب

سے روپے ،دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 20 ارب روپے ، داسو ہائیڈرو منصوبے اور

مہمند ڈیم کے لیے 15، 15 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے ریکارڈ 43 ارب

روپے ، زرعی شعبے کے لیے 12 ارب روپے، کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں

کے لیے 45.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے

برقرار رہے گا‘ کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 کی گئی ہے‘ تنخواہ دار طبقے

کے لئے 6 لاکھ روپے سالانہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ روپے

سے زائد پر انکم ٹیکس لاگو ہوگا‘ آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا

ہدف5555 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے‘ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر کے

پروگرام کا معاہدہ ہوگیا ہے‘ آئی ایم ایف کے بورڈ سے اس کی منظوری کے بعد

اس معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا‘ سول حکومت کے اخراجات 460 ارب

روپے سے کم ہوکر 437 ارب روپے کئے جارہے ہیں جبکہ عسکری بجٹ موجودہ

سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ منگل کو قومی اسمبلی

میں آئندہ مالی سال 2019-20ء کا وفاقی بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد

اظہر نے ایوان میں پیش کیا۔ وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے لئے ٹیکس محصولات

کا ہدف 5555 ارب روپے رکھا گیا ہے جبکہ اخراجات میں کمی پر خصوصی

توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply