36

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی شدید ہنگامہ آ رائی اور احتجاج

Spread the love

اسلام آ باد( سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ) قو می اسمبلی میں وزیر مملکت

برائے ریو نیو حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران شدید ہنگامہ آ رائی اور

احتجاج ہوا، اپوزیشن نے سیاہ پٹیاں باندھ اجلاس میں شرکت کی ، اپوزیشن

اراکین سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور تقریر کی کاپیاں پھاڑ کر

لہرائیں،اپوزیشن اراکین اور حکومتی اراکین کے درمیان دھکم پیل ہوئی اور آ پس

میں گتھم گتھا ہوگئے، وفاقی وزراء نے وزیراعظم عمران خان کے گرد حفاظتی

حصار بنایا اور سپیکر کے ڈائس تک اپوزیشن اراکین کو حکومتی بنچوں کی

طرف آ نے سے روکنے کیلئے زنجیر بنائی اور اپوزیشن کو پیچھے دھکیلتے

رہے، اپوزیشن اراکین نے ــگو نیازی گو ، گلی گلی میں شور ہے علیمہ باجی

چور ہے ، مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیاز ی کے نعرے لگائے، اپوزیشن

اراکین کے پاس پلے کارڈ ز پر “چندہ چورنیازی،نا منظور،آئی ایم ایف کی

پالیسیاں نامنظور،عوامی استحصال نامنظور،مہنگائی بم نا منظور ،جھوٹے وعدے

نا منظور،پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف کا بجٹ نامنظور،کٹ پتلی تماشہ نامنظور،ایسی

تبدیلی نامنظور کے نعرے درج تھے، حکومتی اراکین نے چور مچائے شور،

کراچی کو پانی دو کے پلے کارڈز اٹھائے اور اپوزیشن کے خلاف نعرے بازی

کی،بجٹ تقریر ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان اپنی نشست پر کھڑے ہو

گئے اور اپوزیشن کی جانب وکٹری کا نشان بنایا۔منگل کو قومی اسمبلی کا بجٹ

اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اپنے مقررہ وقت5بجے شروع ہوا۔سپیکر

نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کو مالی سال 2019-20کا بجٹ

تقریرکی دعوت دی ۔ اجلاس کے آغاز میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ (ن) سمیت

اپوزیشن جماعتوں کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے،حماد اظہر کی تقریر

کے دوران مسلم لیگ (ن)کے ارکان قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی قیادت میں

سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں داخل ہوئے۔جس کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان

ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ایوان میں داخل ہوئے۔ وزیر مملکت برائے ریونیو

حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین ڈیسک پر بجٹ تقریر کی

کاپیاں موجود نہیں تھی،جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ،جس پر سپیکر نے

اپوزیشن ارکان کو بجٹ تقریر کی کاپیاں فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی۔اپوزیشن

ارکان بجٹ تقر یر کے دوران کچھ دیر خاموش تقریر سنتے رہے ،مگر بعد میں

اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج شروع کردیا۔ پلے کارڈ

ز پر “چندہ چورنیازی،نا منظور،،آئی ایم ایف کی پالیسیاں نامنظور،،پیٹرولیم

مصنوعات کی قیمتوں میں اضافی نا منظور،عوام کا معاشی قتل بند کرو،،عوام سے

روٹی کا نوالہ مت چھینو،عوام پر رحم کرو،پیٹرول سستا کرو،عوامی استحصال

نامنظور،مہنگائی بم نا منظور ،جھوٹے وعدے نا منظور،پی ٹی آئی اور آئی ایم ایف

کا بجٹ نامنظور،کٹ پتلی تماشہ نامنظور،ایسی تبدیلی نامنظور کے نعرے درج

تھے۔بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے سپیکر کی ڈائس کا گھیرائو کیا اور

بجٹ دستاویزات پھاڑ کر لہرائیں۔اپوزیشن ارکان نے بلند آواز میں گو نیازی گو

کے نعرے لگانا شروع کر دیئے،جس کے بعد حکومتی ارکان نے وزیر اعظم

عمران خان کے گرد حصار بنا لیا اور سپیکر کی ڈائس تک حکومتی بنچوں کے

سامنے حفاظتی زنجیر بنا لی اور اپوزیشن ارکان کو حماد اظہار اور وزیر اعظم

کے سامنے آنے سے روکتے رہے اور اپوزیشن ارکان کو پیچھے دھکیلتے

رہے،اس موقع پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان دحکم پیل ہوئی جس کی

ضد میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،خواجہ آصف اور دیگر لیگی ارکان

آئے،جس پر مرتضیٰ جاوید عباسی نے حکومتی ارکان کی زنجیر توڑ کرحکومتی

بنچوں کی طرف آنے کی کوشش کی، اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان گتھم

گتھا ہوئے۔اس دوران وزیر اعظم عمران خان مسکراتے رہے اور وزراء کے

ساتھ بات چیت میں مصروف رہے۔ وفاقی وزراء مراد سعید،فواد چوہدری ،شہریار

آفریدی،علی محمد خان،علی زیدی ،فیصل واڈا،شیریں مزاری،اعظم سواتی نے

وزیر اعظم کو اپنے حصار میں لئے رکھا اور بجٹ تقریر ختم ہونے تک ان کے

چاروں اطراف کھڑے رہے۔اپوزیشن ارکان نے گلی گلی میں شور ہے علیمہ باجی

چور ہے ، مک گیا تیرا شو نیازی گو نیازی گو نیاز ی کے نعرے لگائے۔جس کے

جواب میں حکومتی ارکان نے بھی اپوزیشن مخالف شدید نعرے بازی کی ۔

حکومتی ارکان نے بھی کراچی میں پانی کی کمی اور چور مچائے شور کے پلے

کارڈز لہراتے رہے۔بی این پی مینگل کے سردار اختر مینگل اور جماعت اسلامی

کے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اپوزیشن کے احتجاج کا حصہ نا بنے ۔احتجاج کے

دوران مسلم لیگ (ن)کے خواجہ آصف اور مریم اورنگزیب احتجاج کی ویڈیو

بناتے رہے جبکہ شہباز شریف،بلاول بھٹوزرداری اپنی نشستوں پر کھڑے رہے۔

حماد اظہر کی بجٹ تقریر کے دوران حکومتی ارکان انہیں ڈیسک بجا کر داد دیتے

رہے،جب انکی تقریر ختم ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے کھڑے ہو کر ڈیسک بجا کر

انکو مبارکباد دی ،مشیر خزانہ اور وزیر اعظم نے حماد اظہر کو انکی نشست پر

جاکر شاباش دی ۔ملکی تاریخ میں پہلی بار وزیر مملکت برائے ریونیو نے بجٹ

پیش کیا جبکہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ حماد اظہر ساتھ ایوان میں موجود رہے۔بجٹ

تقریر ختم ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور

اپوزیشن کی جانب رخ کر کے دونوں ہاتھ بلند کر کے خوشی کا اظہار کیا۔ بجٹ

تقریر ختم ہونے کے بعد حکومتی ارکان اپنی حصار میں وزیر اعظم کو ایوان سے

باہر لیکر آئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply