159

حفیظ شیخ غیر منتخب، عمران خان آج خود وفاقی بجٹ پیش کرکے تاریخ رقم کریں گے یا مسلم لیگ ( ن ) کی تقلید ؟

Spread the love

لاہور(جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن خصوصی رپورٹ)

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت ملک کے آئندہ

مالی سال 2019-20 کا بجٹ آج بروز منگل 11 جون کو پیش کرنے جاری رہی

ہے لیکن ملک کا کوئی باقاعدہ وزیر خزانہ ہے نہیں جس کی وجہ سے ایک

بحث چھڑی ہوئی ہے کہ آج وفاقی بجٹ کون پیش کرے گا ؟ اب تک کی

حکومتی اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کی روپوٹس کے مطابق تو بجٹ مشیر

خزانہ حفیظ شیخ ہی پیش کریں گے، تاہم ملکی آئین اس ضمن میں کہتا ہے وطن

کا وفاقی میزانیہ صرف منتخت رکن اسمبلی ہی پیش کرسکتا ہے، قومی بجٹ

پیش کرنے کے متعلق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے

مالیاتی امور حفیظ شیخ کے حلف نہ اٹھانے سے ایک نئے بحران نے جنم لے

لیا۔ بجٹ پیش کرنے سے پہلے یا تو وہ حلف اٹھائیں گے یا کوئی دوسرا رکن

قومی اسمبلی بجٹ پیش کرےگا ؟

وزارت خزانہ نے بھی اس ضمن میں وزارت قانون انصاف سے رائے طلب کر

لی ہے، حکومتی حلقوں میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے حفیظ شیخ بجٹ پیش

کر سکتے ہیں یا نہیں کیونکہ آئین کے مطابق بجٹ پیش کرنے کیلئے ضروری ہے

متعلقہ وزیر پارلیمنٹ کا رکن ہو اور بجٹ پیش کرنے سے کم از کم چھ گھنٹے

پہلے اس نے وزیر کا حلف بھی اٹھایا ہو چونکہ حفیظ شیخ نہ ہی اس وقت سینیٹر

ہیں اور نہ ہی رکن قومی اسمبلی۔ جبکہ ان کی تقرری بھی وزیرعظم نے اپنے

صوابدیدی اختیار کے تحت ان کی تقرری کی تھی، اس حوالے سے وزارت قانون

وانصاف کا کہنا ہے بجٹ پیش کرنے کیلئے ضروری ہے متعلقہ وزیر نے اپنے

عہدے کا حلف اٹھا رکھا ہو اور جو وزیر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لے اس کیلئے

ایک مخصوص مدت کے اندر رکن پارلیمنٹ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے،

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت حفیظ شیخ سے بطور وفاقی وزیر حلف لے

لے اور بعد ازاں انہیں ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر سینیٹر منتخب کروا لے۔ جیسا کہ

مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت میں مفتاح اسماعیل کو چھ گھنٹے پہلے وزیر

خزانہ کا حلف اٹھوایا گیا تھا اوراس کے بعد ا نہوں نے بجٹ پیش کیا تھا، گزشتہ

روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی حکومتی بنچوں پر اسی حوالے سے چہ

میگوئیاں ہوتی رہیں بجٹ کون پیش کرے گا۔

سیاسی و معاشی مبصرین کا ایک خیال یہ بھی ہے چونکہ وزیراعظم عمران خان

کے پاس وزارت خزانہ کا بھی قلم دان ہے تو عین ممکن ہے وہ اپنے تبدیلی کے

ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے بذات خود بجٹ پیش کر کے تاریخ رقم کریں، یا ہو

سکتا ہے وزیر مملکت برائے ریو نیوحماد اظہر آج بجٹ پیش کریں۔ مگر یہ امر

یقینی ہے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ آئین کی رو سے بغیر حلف اٹھائے بجٹ پیش کرنے

کے اہل نہیں۔ اس ضمن میں عوامی رائے تو یہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان

چونکہ وزرات خزانہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں تو وہ خود ہی وفاقی میزانیہ پیش

کر کے ایک مثال قائم کریں، جیسے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں میاں نواز

شریف مسلسل چار سال سے زائد عرصہ تک وزارت خارجہ کا قلمدان اپنے پاس

رکھ کر ملکی خارجہ پالیسی کو خود چلاتے اور مانیٹر کرتے رہے،

البتہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کا امکان ہے جبکہ اجلاس سے

قبل اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی زیر صدارت اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس ہو گا

جس میں اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ حکومتی اتحادی جماعت بی این پی مینگل

کو بھی دعوت دی گئی ہے اجلاس میں بجٹ، سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی

فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و

بیروزگاری سمیت دیگر مسائل پر ایوان میں متفقہ موقف اپنانے اور احتجاج کی

حکمت عملی طے کی جائے گی،

آج پیش کئے جانے والے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 6800 ارب روپے متوقع

ہے،ٹیکس وصولیاں 5550 ارب، دفاع کیلئے 1250 ارب سے زائد، ترقیاتی

منصوبوں کیلئے 925 ارب، مالی خسارے کا ہدف 3000 ارب، قرضوں پر سود

کی ادائیگی کیلئے 2500 ارب مختص اور 1400ارب کے ٹیکس اقدامات اٹھانے

کی تجاویز شامل ہیں جبکہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں 10

فیصد اضافہ بھی متوقع ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر

صدارت ہوگا جبکہ اس سے قبل وفاقی کابینہ اپنے اجلاس میں بجٹ اہداف کی

منظوری دے گی۔