116

مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع، معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی، ٹیکس چوروں کیخلاف شکنجہ تیار

Spread the love

کراچی،اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن نیوز رپورٹرز، مانیٹرنگ ڈیسک)

سٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں ماہ جون اور آئندہ ماہ جولائی میں

مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ گزشتہ 8 ماہ میں مہنگائی کی

شرح 2.7 فیصد بڑھی اور مہنگائی میں آئندہ دنوں اضافے کی شرح ساڑھے چھ

فیصد سے ساڑھے سات فیصد رہنے کی توقع ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق

معاشی تنگی کے اثرات بڑے پیمانے پر صنعتی تنزلی کا سبب بن رہے ہیں، معاشی

سست روی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لاگت اور طلب کا دبائو مہنگائی میں

اضافے کا سبب بن رہا ہے جس پر حکومت کو قابو پانے کی ضرورت ہے۔ سٹیٹ

بینک کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار ہے اور

مالیاتی خسارے کی سطح بھی بلند ہوگی،

قومی اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال میں کوئی معاشی ہدف حاصل نہ

ہو سکا۔ نجی ٹی وی کے مطابق قومی اقتصادی سروے یوں تو کل جاری کیا

جائے گا تاہم حاصل دستاویزات کے مطابق رواں سال صنعتی ترقی کا ہدف 7.6

فیصد رکھا گیا تھا۔ لائیو سٹاک کے شعبہ میں 3.8 فیصد ہدف سے زیادہ ترقی ہوئی۔

دیگرفصلوں میں شرح نمو 3.5 فیصد کے بجائے 1.9 فیصد رہی۔ زرعی شعبے کی

ترقی 3.3 کے بجائے 0.8 فیصد اور جی ڈی پی کی شرح 3.3 فیصد رہی۔ صنعتی

ترقی کی شرح 1.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پیداواری شعبے کی شرح نمو کا ہدف

7.8 فیصد رکھا گیا تھا۔ ماہی گیری میں شرح نمو 1.8 فیصد کے ہدف سے ایک

فیصد کم، جنگلات میں شرح نمو 8.5 فیصد کے بجائے 6.5 فیصد رہی۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس چوروں کے خلاف بھرپور

ایکشن کی تیاری کرلی۔ ایف بی آر نے بڑے ٹیکس چوروں کا ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع

کر دیا ہے۔ اگر اکائونٹ میں ایک سال تک 5 لاکھ روپے پڑے رہے، 2400 سی

سی گاڑی خریدی، 2 کنال کے گھر میں رہ رہے یا سال میں تین دفعہ بیرون ملک

دورے کیے تو بچنا مشکل ہو جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مراسلے میں

کہا گیا ہے 5 لاکھ روپے کے بینک اکاونٹس ہولڈرز کی تفصیلات طلب کی جائیں،

5 لاکھ اکائونٹ میں ہونے کے باجود اگر ٹیکس گوشوارہ جمع نہیں تو ایکشن ہوگا۔

ایف بی آر نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بھی انڈسٹریل اور کمرشل صارفین

کا ڈیٹا طلب کرلیا گیا ہے جبکہ نادرا اور ایف آئی اے بیرون ملک سفر کرنے والے

افراد کا ڈیٹا فراہم کریں گے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے بینک اکاؤنٹس کے

معاملے پر سٹیٹ بینک نے رسائی سے انکار نہیں کیا بلکہ کمرشل بینکوں سے

براہ راست معلومات لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ سٹیٹ بینک کے خط سے

ابہام دور ہو گیا ہے اور اب کمرشل بینکس سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کی غرض

سے تما م معلومات لینے کے احکامات جاری کیے جا سکیں گے۔ معلومات خفیہ

رکھی جائیں گی اور کسی کو تنگ کرنے کے بجائے سہولت فراہم کی جائے گی۔

بجٹ عوام دشمن نہیں معیشت دوست ہوگا،حفیظ شیخ

دریں اثنامشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے آئندہ بجٹ غریب دشمن نہیں ہو گا۔

بلکہ معیشت دوست ہو گا۔ غریبوں پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ نہیں پڑنے دیں

گے۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے، نئے بجٹ میں روزگار

کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ کفایت شعاری سے خرچے بچائیں گے، خسارہ کم

کرنے کے لیے غیر ضروری اخراجات کم کریں گے، معیشت غیر ضروری

اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔