274

ریلیف کب…..؟

Spread the love

تحریر :….. ابو رجا حیدر

شیخو جی کی بیٹھک سجی تھی ہر طرف روشنیوں کا سماں تھا وجہ عید ملن

پارٹی تھی اور ساتھی سنگیوں کا اکٹھ تھا، سب عید کی خوشیوں میں خو ش گییاں

مار رہے تھے، بیک گرائونڈ میں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا ایسے میں خیالی

صاحب نے شیخو جی سے مخاطب ہو کر کہا موقع تو عید کا ہے لیکن کیا کریں یہ

مسئلہ بھی ہمارا اور ہمارے ملک کا ہے جس کو حل کرنے کےلئے غورو فکر

سعی و جستجو ہم نہیں کرینگے تو کون کرے گا ؟

شیخو جی! کیوں خیالی صاحب پھر کیا ہو گیا ، ایک مسئلہ تھوڑی ہے یہاں وطن

عزیز تو مسائلستان ہے خیر آپ بتائیں معاملہ ہے کیا ؟

خیالی صاحب! عوام کے ووٹوں سے نیا پاکستان بنانے کے عزم کیساتھ بننے والے

وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کوئی

شعبہ بھی ٹیکس دینے کو تیار نہیں جو انتہائی افسوسناک امر ہے، حکومت

موجودہ حالات میں مراعات دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی، بجلی اور گیس کی

قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے اور کچھ عرصے کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت

کرنا ہو گا، نان فائلر صنعتکاروں کے گیس، بجلی کے کنکشن کاٹ دیں گے،

معاشی استحکام کی جانب بڑھنے کے لئے مشکل فیصلے کر رہے ہیں، وفاقی

محاصل میں سے 57 فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے، آئی ایم ایف کے پروگرام

میں جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، بجٹ میں عام آدمی کو ریلیف دینے کی

کوشش کریں گے، آئی ایم ایف کے بعد عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے

کم شرح سود پر دو سے تین ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے، یعنی آئی ایم ایف کے

پروگرام ملنے کے بعد بھی ہم مزید قرضے لینے کی تگ ودہ کر رہےہیں مطلب

ملکی خزانہ یکسر خالی ہے سب کچھ قرض اور ادھار پر چل رہا ہے ، چلو مان

لیا،مگر کب تک ؟

شیخو جی جو عید ملن پارٹی میں شریک تھے اونچی آواز میں حاضرین محفل

سے مخاطب ہو کر کہا دوستو جناب خیالی صاحب نے کہا ہے موجودہ حکومت

کے مشیر خزانہ جو راگ آلاپ رہے ہیں ان ابتر معاشی حالات میں عوام کو

ریلیف نہیں دیا جا سکتا آخر اسکا حل کیا ہے تو ان کی اطلاع کےلئے عرض ہے

عبدالحفیظ شیخ پیپلزپارٹی کی حکومت میں بھی وزیر تھے، اُس وقت وہ جو بیانات

دیا کرتے تھے ان کے موجودہ بیانات بھی ویسے ہی ہیں، بس الفاظ کا ہیر پھیر

ہے، غریبوں کی محبت اُن کو اُس وقت بھی ستایا کرتی تھی اور وہ اُن کے لئے

بہت کچھ کرنا چاہتے تھے، لیکن مسئلہ یہ تھا اُس وقت بھی پٹرول بجلی اور گیس

کی قیمتیں بڑھانا اُن کی مجبوری تھی، اب بھی یہ مجبوری ان کے ساتھ ہے۔ اُس

وقت بھی مالیاتی خسارہ انہیں درپیش تھا اُنہیں آئی ایم ایف کے پاس اُس وقت بھی

جانا پڑا تھا اور اس کے مطالبات ماننے پڑے تھے۔ عبدالحفیظ شیخ کے لئے

مشکل یہ ہے حکومت پیپلزپارٹی کی ہو یا تحریک انصاف کی، اُنہیں معاشی

حالات ہی مشکل ملے، اِس لئے وہ غریبوں کی بات تو کر سکتے ہیں اُنہیں کوئی

ریلیف نہیں دے سکتے۔ شیخ صاحب ویسے تو جانتے ہی ہوں گے، لیکن انہیں یاد

دِلانے میں کوئی حرج نہیں کہ فروری 2008ء کے الیکشن میں پٹرول اور ڈیزل

کی قیمت ڈپو پر بالترتیب 53 اور32 روپے فی لٹر تھی، چھ ماہ کے اندر اندر

یعنی پیپلزپارٹی کی حکومت شروع ہونے کے بعد جولائی میں یہ قیمتیں بڑھ

کر بالترتیب 86 اور 56 روپے ہو گئیں،کیونکہ اس وقت کی منتخب حکومت کے

پاس بھی اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ وہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی

ہوئی قیمتوں کا نہ صرف سارا بوجھ عوام پر منتقل کرے، بلکہ اس میں تھوڑا بہت

مزید اضافہ بھی کر دے، کیونکہ تیل کی فروخت سے اُسے ٹیکسوں کی شکل میں

بڑی معقول آمدنی ہو جاتی ہے اور اس پر ہینگ اور پھٹکری نہ لگنے کے باوجود

رنگ چو کھا آ جاتا ہے، ایف بی آر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے تو بھی یہ ٹیکس

خود کار طریقے سے جمع ہو جاتا ہے،

شیخو جی کی باتیں سن کر پورے مجمع پر جیسے سکتا طاری ہو گیا تھا سب کے

سب اپنی اپنی تمام تر خوش گپیاں ترک کر کے ان کی طرف متوجہ تھے

شیخو جی نے ایک لمبی سانس لی اور پھر بولے حکومتیں براہِ راست ٹیکس

وصول کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلتی ہیں، تب بھی ٹیکس ریونیو کا ہدف کبھی

حاصل ہوتا ہے اور کبھی نہیں، جیسا کہ رواں مالی سال میں بھی حاصل ہوا،

ٹیکس جمع کرنا کتنا مشکل ہے اس کا اظہار کھل کر چیئرمین ایف بی آر اور

مشیر خزانہ کرچکے تھے۔ جبکہ ساتھ ہی ارباب اختیار کا یہ کہنا کہ کوئی شعبہ

بھی ٹیکس دینے کو تیار نہیں تو ایسے میں حکومت کو آسان راستہ یہی نظر آتا

ہے پٹرول اور اس کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھاتی چلی جائے اور لوگوں سے

بالواسطہ ٹیکس وصولی کرتی چلی جائے۔ صوبوں کو اگر 57 فیصد محاصل جا

رہے ہیں تو یہ ان کا آئینی حق ہے، اس پر خواہ مخواہ شوروغوغا کرنے کی

ضرورت نہیں، وفاق جو ٹیکس وصول کرتا ہے وہ ٹیکس دینے والے بھی تو زیادہ

تر صوبوں ہی میں رہ رہے ہیں۔ اسلئے صوبوں کو جو کچھ دیا جا رہا ہے اس پر

ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے جس سے لگے انہیں کوئی خیرات دی جارہی ہے۔

موجودہ حکومت بھی نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا

سارا بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے،بلکہ اب تو ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمی

مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیںاور ہمارے ہاں بڑھ رہی ہیں، ہمارے

حکمرانوں کے پاس جواز یہ ہے کہ روپیہ کی قدر کم ہو رہی ہے۔ ضرورت تو

پھر یہ ہوئی کہ روپیہ مستحکم کیا جائے ، کیا اس کے لئے کوئی اقدامات ہو رہے

ہیں؟ ایسے میں طفل تسلیوں اور لاروں لپّوں کا تو کوئی جواز نہیں رہتا،لیکن

حکمرانوں کا حوصلہ ہے کہ وہ بُری معیشت کی تصویر کھینچتے کھینچتے بھی

یہ کہنا نہیں بھولتے کہ ’’کچھ عرصے کے لئے ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرنا

پڑے گا‘‘ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ ’’کچھ عرصہ‘‘ کتنے برسوں پر محیط ہو

گا، حکومت اس وقت پٹرول کے ایک لیٹر پر جس سے ایک اچھی گاڑی دس کلو

میٹر بھی نہیں چلتی 26.72 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے اور گِلہ پھر بھی یہ

ہے کہ کوئی شعبہ ٹیکس دینے کو تیار نہیں، دنیا میں کتنے ملک ہوں گے جن میں

ایک لٹر پر اتنا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، کون ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ

طور پر پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس نہیں دیتا، جن کے پاس گاڑیاں ہیں وہ تو مہنگا

پٹرول خرید کر ٹیکس میں حصہ ڈالتے ہیں اور جو لوگ اپنی سواریاں نہیں

رکھتے اور بسوں ویگنوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں وہ بھی مہنگے ڈیزل کی

شکل میں بالواسطہ طور ٹیکس دیتے ہیں۔ اس طرح جی ایس ٹی بھی غریب امیر

پر یکساں شرح سے نافذ ہے، ارب پتی اور غریب مزدور ایک ہی شرح سے

ٹیکس دیتے ہیں پھر بھی گلہ ہے ٹیکس نہیں دیا جارہا۔

خیا لی صاحب ! آخر ہمارے ارباب اختیار چاہتے کیا ہیں شیخو جی؟

شیخو جی ! خیالی صا حب کے سوال کو سنا ان سنا کر کے پھر گویا ہوئے

حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، جمہوری ہو یا غیر جمہوری، پٹرول ایک ایسی

آئٹم ہے کہ ہر حکومت اس کی قیمت بڑھاتی رہتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ دس

سال کے عرصے میں پٹرول 53 روپے سے بڑھ کر اب 114 روپے فی لیٹر سے

بھی اوپر ہو گیا ہے لیکن حکومتوں اور مخالف جماعتوں کا رویہ ایک جیسا ہے،

جب آج کی مخالف جماعتیں حکمران تھیں تو وہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا

دفاع کرتی تھیں اور بعض اوقات زچ ہو کر یہ بھی کہہ دیا کرتی تھیں حکومت

مہنگا پٹرول اور مہنگی بجلی خرید کر سستے داموں فروخت نہیں کر سکتی،

ویسے حکومت کو یہ کہا کس نے ہے کہ وہ یہ گھاٹے کا سودا کرے اور کسی

بھی حکومت نے آج تک ایسا نہیں کیا۔ ویسے یہ سوال تو بنتا ہے کہ عالمی منڈی

میں تو تیل مہنگا نہیں ہوا اور روپے کی بے قدری کی وجہ سے یہاں قیمتیں بڑھ

گئیں، لیکن جو25 فیصد تیل پاکستان کے اندر پیدا ہوتا ہے کیا اس کا بھی عالمی

منڈی یا ڈالر سے کوئی تعلق ہے وہ پاکستان کی اپنی پیداوار ہے اور اس پر ملک

کے عوام کا حق ہے۔ اگر اس25 فیصد تیل کو بھی سستے داموں مارکیٹ میں لایا

جائے تو مجموعی طور پر تیل کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لیکن حکومت اگر خود

تاجرانہ ذہنیت کا مظاہرہ کرے گی تو پھر اس سے ایسے کسی اقدام کی توقع نہیں

کی جا سکتی اور آئی ایم ایف کو تو کوئی ایسا اقدام ویسے ہی پسند نہیں، جس

سے غریب عوام کی فلاح کا کوئی پہلو نکلتا ہو، اِس لئے عبدالحفیظ شیخ اگر

پیپلزپارٹی کی حکومت میں وزیر ہوں یا تحریک انصاف کی حکومت کے مشیر،

وہ ہر حالت میں وہی کچھ کریں گے جو آئی ایم ایف چاہے گا، کیونکہ وہ ’’عوام

کی خاطر‘‘ ہی آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ کیا پتہ کل وہ تحریک

انصاف کی مخالف کسی دوسری جماعت کی حکومت میں مشیر کا عہدہ سنبھال

کر پھریہ بھاشن دے رہے ہوں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکتے اور آج کے

حکمران اپنے موجودہ مشیر کے لتّے لے رہے ہوں۔ دراصل نئے بجٹ میں نئے

ٹیکس لگانے کا جو منصوبہ تھا مشیرانِ کرام کو معلوم تھا اس سے مہنگائی کا

ایک نیا سونامی آئے گا، جس سے وہ حکومت آسانی سے نہیں نپٹ سکتی، جس

کے وزیروں اور غیر منتخب مشیروں میں ایک سرد جنگ جاری تھی جو لوگوں

کو اس وقت سے نظر آ رہی ہے جب اس حکومت کے بال و پر نکل رہے تھے،

رہی بات خیالی صاحب آپ کے آخر ہمارے ارباب اختیار چاہتے کیا ہے تو اس کا

سادہ سا جواب یہی ہے نہ ہو خیال جس قوم کو اپنی حالت کے بدلنے کا تو خدا

بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا ، ریلیف کو کجا-

خیالی صاحب ! شیخو جی اپ کی بات سو فیصد درست لیکن اب تو عوام نے سو

فیصد نہ سہی 30 یا 35 فیصد ہی سہی اتنا تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی اور ملک

کی حالت بدلنے کیلئے تیار ہیں ؟

شیخو جی ! ٹھیک کہا آپ نے خیالی صاحب مگر رب تعالیٰ نے فیصدی میں حکم

نہیں دیا مکمل کا حکم دیا ہے، ورنہ قلیل تعداد میں تو آج بھی دنیا بھر میں مومن

موجود ہیں جن کا منہ اور من ایک ہے یعنی اندر باہر سے ان میں ایمان کے

حوالے سے کوئی ملاوٹ نہیں کیا انہیں ریلیف مل گیا؟ ہرگز نہیں یہ اسی وقت ہی

ممکن ہو گا جب سب کلمہ گو دل و جان سے روح اور نفس کےساتھ رب تعالیٰ

کے احکامات پر مکمل اور دکھاوے کے بغیر عمل کرینگے ، ایسے ہی ہم

پاکستانیوں کی حالت ہے ہم ہر جگہ بیٹھ کر دوسروں کو ہدف تنقید بناتے ہیں جب

اپنی باری آتی ہے تو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا پھر کنی کترا کر

چلتے بنتے ہیں یہی نہیں اگر مخاطب شخص کمزور ہو تو اسے زدو کوب کرنے

تک سے گریز نہیں کرتے ایسے میں آپ ہی بتائو ہمارے مسائل کیسے حل ہو

سکتے ہیں، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب من حیث القوم اپنا پنا محاسبہ

کریں، آئین و قانون کی پاسداری کریں، ملک اور اس میں بسنے والوں کےلئے

ویسے ہی سوچیں ویسا ہی چاہیں جیسے ہم اپنی ذات کیلئے سوچتے اور چاہتے

ہیں، تب تو ریلیف ممکن ہے ورنہ ایسے ہی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے رہیں

گے. امید ہے خیالی صاحب آپ کی تسلی و تشفی ہو گئی ہو گی.