114

ویڈیو گیمزضرورکھیلیں مگر اعتدال کیساتھ

Spread the love

لاہور(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ)

دنیا بھر میں آئے روز موبائل پر ویڈیو گیمز کھیلنے سے نوجوان لڑکوں اور

لڑکیوں کی اموات کی خبروں نے یوں تو سنسی پھیلا رکھی ہے تاہم تدارک کیلئے

ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانے جانے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں

آرہا کیونکہ اس کا تدارک والدین اور اساتذہ کرام پر ہی منحصر ہے لیکن مادہ

پرستی کے اس دور میں دونوں ہی کے پاس نئی نسل کی بہتر تربیت کیلئے وقت

کی شدید قلت ہے جبکہ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے آج کل بچے ویڈیو گیمز میں

دماغی طور پر بہت زیادہ ملوث ہو جاتے ہیں جو ان کی موت کی وجہ بنتے ہیں۔

اسی لیے بچوں کو اس طرح کی گیمز سے دور رکھنا چاہے اور یہ کام صرف اور

صرف پہلے نمبر پر والدین اور اس کے بعد اساتذہ بہتر انداز میں انجام دے سکتے

ہیں، جبکہ نوجوان نسل کو خود بھی چاہیے کہ وہ موبائل پر ویڈیو گیمز کھیلنے میں

اعتدال پسندی سے کام لے اس سے وہ دوفائدے بیک وقت حاصل کر سکتے ہیں

ایک تفریح دوسرا دماغی تربیت لیکن اعتدال کا دامن چھوڑنے سے موت کے منہ

میں جانے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے جو کسی صورت عقلمندی کی نشانی نہیں

یاد رہے گزشتہ دنوں بھارت میں پب جی گیم نے لڑکے کی جان لے لی تھی۔

جو مسلسل 6 گھنٹے سے موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ بھارتی میڈیا کے

مطابق شہر مدھیہ پردیش میں گیم کھیلنے کے دوران ہلاک ہونے والے لڑکے کے

والد کا کہنا تھا ان کا بیٹا فرقان قریشی مسلسل 6 گھنٹے سے پب جی گیم کھیل رہا

تھا اس دوران اسے مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ 16 سالہ

فرقان قریشی 12 ویں کلاس کا طالبعلم تھا۔ نوجوان کے والد نے میڈیا کو بتایا

حادثے سے قبل فرقان قریشی اپنے اسمارٹ فون پر پب جی گیم کھیل رہا تھا اچانک

کہنے لگا دھماکہ کر دو، دھماکہ کر دو۔ میرا بیٹا انتہائی چست تھا اور وہ ہفتہ کی

رات کو شروع کیا گیا گیم اتوار کی صبح تک کھیل رہا تھا۔ فرقان قریشی نے رات

کو کچھ گھنٹے کی نیند کی اور صبح اٹھنے کے بعد بمشکل ناشتہ کر کے دوبارہ

گیم کھیلنا شروع ہو گیا۔ فرقان کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد فوری طور پر ہسپتال

لے گئے تھے تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ خیال رہے بھارتی ریاست گجرات کے کچھ

شہروں میں موت کی وجہ بننے والے گیمز پر مکمل طور پر پابندی عائد کی جا

چکی ہے۔ اسی طرح دنیا نے کئی دیگر ممالک میں بھی ایسی ویڈیو گیمز کے

کھیلنے پر پابندی عائد کی جا چکی ہے جو بچوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب

کرتی ہیں ، تاہم پاکستان میں ابھی تک ایسی کوئی پابندی نہ تو عائد کی گئی ہے نہ

ہی اس ضمن میں بڑھتے مسائل پر قابو پانے اور نئی نسل کو بے اعتدالی کےساتھ

موبائل پر ویڈیو گیمز کھیلنے کے نقصانات سے آگاہی دی جا رہی ہے، خدشہ ہے

یہ صورتحال ماضی قریب میں گھمبیر صورت اختیار کر سکتی ہے.