72

چیئرمین ایف بی آر کا خط اور وزیراعظم کا اعلان

Spread the love

(تجزیہ:… جے ٹی این آن لائن )

ہمارے قابل احترام چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے موجودہ ٹیکس

نظام کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لئے سنگین خطرہ

قرار دینے سمیت یہ بری خبر بھی سنائی ہے کہ کاروباری افراد کی بڑی تعداد

ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں، 22 کروڑ کی آبادی میں سے20

لاکھ ٹیکس دہندگان ہیں، بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے والے31لاکھ تاجروں

میں سے90 فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں،85 فیصد سے زائد ٹیکس ملک کی

300 کمپنیاں دیتی ہیں، بڑے پیمانے پر ملک میں ایسی دولت جمع ہو چکی ہے

جس پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، ایک فیصد لوگ پوری ریاست کا بوجھ اُٹھا رہے ہیں،

وزیراعظم عمران خان کے نام اپنے ایک خط میں چیئرمین ایف بی آر نے لکھا ہے

ٹیکس وصولی کا نظام جی ڈی پی کے10 فیصد سے بھی کم ٹیکس اکٹھا کر رہا

ہے، یہ ٹیکس بھی بالواسطہ ٹیکسوں (اِن ڈائریکٹ ٹیکسز) کے ذریعے اکٹھا کیا جا

رہا ہے،75 فیصد سے زائد ٹیکس مینو فیکچرنگ شعبے سے جمع ہوتا ہے۔

اپنے خط میں چیئرمین ایف بی آر نے ملک کے ٹیکس نظام کی خرابی کا اجمالاً

ذکر کیا ہے ظاہر ہے دو صفحات کے خط میں زیادہ تفصیلات نہیں دی جا سکتی

تھیں، لیکن چیئرمین صاحب کو اگر پرائیویٹ سیکٹر سے خصوصی طور پر لا کر

یہ ذمے داری سونپی گئی ہے تو اس امید پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے کہ وہ نہ صرف

ٹیکس نظام کی اصلاح کریں گے، بلکہ زیادہ ٹیکس بھی جمع کر کے دکھائیں گے،

کیونکہ اگر پرانے سسٹم ہی کے تحت روایتی طریقے سے ٹیکس جمع کرنا ہوتا تو

یہ کام پہلے سارے چیئرمین بھی کسی نہ کسی انداز میں کر رہے تھے، ویسے بھی

اس سال خدشہ یہ ہے ٹیکس ریونیو کا نظرثانی شدہ ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکے

گا۔ بجٹ میں4380 ارب روپے ریونیو جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا جو کم کر

کے4100 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

ہمارے محترم چیئرمین چیئرمین ایف بی آر نے ٹیکس سسٹم کی جن خرابیوں کی

طرف وزیراعظم کی توجہ دلائی ہے وہ شاید انہیں پہلے سے معلوم ہوں اور اگر

نہیں بھی معلوم تو وزیراعظم کے علم میں ہونی چاہئیں۔ ویسے برسر اقتدار آنے

سے پہلے اُن کا نہ صرف خیال تھا بلکہ وہ متعدد بار ڈنکے کی چوٹ پر اس کا ذکر

بھی کرتے تھے لوگ ٹیکس اِس لئے نہیں دیتے کہ اوپر بددیانت لوگ بیٹھے ہیں،

لیکن اب تو دیانتداری کے پھریرے اوپر سے نیچے تک لہرا رہے ہیں، حکومت

کا ہر کہ وہ مہ دیانتداری کا مجسمہ بن چکا ہے، کرپشن کے عادی لوگ رشوت

کے پیسے اچھالتے پھرتے ہیں اور کوئی انہیں قبول کرنے والا نہیں، بدعنوانی کا

نام سُن کر ہی لوگ کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں، سنا تھا سابق ادوار میں روزانہ 12

ارب روپے کی کرپشن ہوتی تھی، نو دس ماہ کا حساب لگا یاجائے تو اب تک

کھربوں روپے کی بچت تو اسی مد میں ہو چکی ہو گی، کیونکہ کرپشن کے سارے

دروازے، کھڑکیاں،روشن دان اور روزن بند کئے جا چکے ہیں، کسی کی مجال

نہیں کوئی اس جانب نظر اُٹھا کر بھی دیکھے، ایسے میں جناب چیئرمین ایف بی

آر نے ٹیکس نظام کی جو بھیانک اور مایوس کن تصویر کشی اپنے خط میں کی

ہے وہ واقعی تشویشناک ہے۔ تاہم اُن سے امید ہے وہ انقلابی تبدیلیاں کر کے ٹیکس

سسٹم کی اصلاح کریں گے، کیونکہ اگلے ماہ نیا مالی سال شروع ہونے والا ہے،

جس کے لئے ٹیکس ریونیو کا ہدف 5550 ارب روپے رکھا گیا ہے۔اگر سال رواں

میں 4100 ارب اکٹھا نہیں ہو سکتا تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہی جست لگا

کر1450 ارب روپے کا اضافہ کیونکر ممکن ہو گا، بہتر ہوتا جناب شبر زیدی خط

لکھنے کی بجائے وزیراعظم سے بالمثافہ ملاقات کر کے اُن سے وہ نسخہ معلوم

کر لیتے ،جس کے ذریعے وہ ٹیکس ریونیو دگنا کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور کئی

بار اپنے اِس نیک ارادے کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔

جناب شبر زیدی ٹیکس کے شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں وہ ایک ایسی کمپنی

کے بڑے حصے دار ہیں جو ٹیکس گزاروں کو ایسے سنہری مشوروں سے نوازتی

ہے،جس کے تحت کم سے کم ٹیکس دیا جا سکے،اِس لئے اب جبکہ اُن کے منصب

کا تقاضا یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کریں تو اُنہیں ماضی کے

مشوروں کے برعکس ٹیکس گزاروں کو ایسے مشورے دینے چاہئیں کہ وہ زیادہ

سے زیادہ ٹیکس دینے پر آمادہ ہوں، حکومت نے اثاثے ڈکلیئر کرنے کی جس

سکیم کا اعلان کیا ہے اس کی مدت بھی 30 جون کو ختم ہو جائے گی اور لگتا ہے

اثاثے چھپانے والے اس سکیم میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں لے رہے اور جس کے

پاس جو کچھ بھی ہے وہ اسے چھپا کر رکھنے ہی میں عافیت محسوس کرتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اپنے شوکت خانم ہسپتال کے لئے ہر سال رمضان میں فنڈ

ریزنگ کی مہم چلاتے ہیں۔ وزیراعظم بننے کے بعد بھی انہوں نے یہ مہم چلائی

اور قبائلی علاقوں، اسلام آباد اور کراچی میں اِس سلسلے میں تقریبات منعقد کیں،

جہاں کروڑوں روپے ایک ہی تقریب میں جمع ہو گئے اور وزیراعظم نے عطیات

دینے والوں پر اظہارِ مسرت کیا۔ اب معلوم نہیں جن لوگوں نے وزیراعظم کی اس

مہم میں دِل کھول کر چندہ دیا وہ ٹیکس بھی دیتے ہیں یا نہیں اور اگر نہیں دیتے تو

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ بڑھ چڑھ کر نیک مقصد کے لئے چندہ دے

سکتے ہیں، وہ ٹیکس کیوں نہیں دیتے،اس کا اندازہ بہت اچھی طرح جناب شبر

زیدی کو ہو گا، کیونکہ اُن کا اس کام میں بہت وسیع تجربہ ہے اِس لئے اپنے اس

تجربے کی روشنی میں وہ پہلے یہ حساب لگائیں کہ جو لوگ چندہ دیتے ہیں وہ

ٹیکس کیوں نہیں دیتے، اس معاملے پر غور و فکر کے بعد وہ اگر صحیح نتیجے

پر پہنچ گئے تو انہیں ٹیکس جمع کرنے میں آسانی رہے گی۔ جن ٹیکس گزاروں کو

وہ مشاورت فراہم کرتے رہے ہیں اب ا ن سے بھی اس سلسلے میں معاونت لیں تو

بہتر رہے گا۔

جناب شبر زیدی کو اگر روایتی طریقے سے ہٹ کر چیئرمین ایف بی آر بنایا گیا

ہے تو ان کی صلاحیتوں کے پیش ِ نظر ہی ایسا کیا گیا ہو گا، اِس لئے یہ کام اُن

کے لئے بھی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ انہوں نے جن

افسروں کے ذریعے ٹیکس جمع کرنا ہے وہ سرکاری خزانے کے ساتھ ساتھ اپنا

خزانہ بھی بھرنے کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں، اِس لئے اگر کسی وقت اُن

کے پاس صرف دو ہی آپشن ہوں کہ وہ پورا ٹیکس لے لیں یا ٹیکس گزار کے ساتھ

سودے بازی کر کے ٹیکس کی رقم کم کر دیں، جس کا فائدہ افسر کو بھی ہو اور

ٹیکس دینے والا بھی خسارے میں نہ رہے تو بالعموم سرکاری افسر یہی طریقہ

اختیار کرتے ہیں،کیونکہ اُنہیں اپنے سے بڑے افسروں کی سالگرہوں اور اُن کے

بچوں کی شادیوں پر اُنہیں قیمتی گاڑیوں کے تحفے بھی پیش کرنا ہوتے ہیں اب وہ

ایسے تحائف اپنی ’’آبائی‘‘ جائیدادیں اور زمینیں بیج کر تو نہیں دیں گے وہ یہ رقم

ٹیکس دینے والوں سے ہی حاصل کریںگے، اسی نیک کمائی سے تحائف بھی دیں

گے اور خود بھی سُکھی رہیں گے۔ سرکاری خزانے کو اس سے نقصان ہوتا ہے

تو ان کے لئے یہ ثانوی بات ہے۔ کیا جناب چیئرمین یہ سلسلہ روکنے میں کامیاب

رہیں گے؟ اس سے کوئی اختلاف نہیں کرے گا کہ ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہو گا، اس

کے لئے شبر زیدی ہی اپنا تجربہ کام میں لائیں تو کامیابی حاصل ہو گی،وہ بھی

ناکام ہو گئے تو پھر دوگنا، تِگنا ٹیکس جمع کرنے کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو

گا،جس کا اعلان وزیراعظم نے کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply