163

اسرائیل فلسطین پر قبضہ ختم کرے، اسلامی تعاون تنظیم

Spread the love

مکہ المکرمہ (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

اسلامی سربراہ اجلاس نے ہر سال 15 مارچ کو اسلا م فوبیا کیخلاف عالمی دن کے

طور پر منانے سمیت اسلامی تعاون کونسل کی جانب سے فلسطینیوں کیلئے ریاست

کے حق کا پرزور اعا دہ اور فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرانے کا مطالبہ کر

دیا، گزشتہ روز جدہ میں ہونے والے اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری

کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا فلسطین مسلم امہ کا بنیا د ی مسئلہ ہے، عالمی

قراردادوں کے مطابق فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرایا جائے، مقبوضہ بیت

المقدس فلسطین کا دارالحکومت، آزاد اور خودمختار ریاست میں زندگی بسر کرنا

فلسطینیوں کا حق ہے، اجلاس میں ہرقسم کی دہشتگردی، انتہاپسندی اور تعصب

پسندی کی مذ مت کی گئی۔ عالمی برادری سے خطے میں امن وسلامتی برقرار

رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے کا مطا لبہ کیا گیا، دہشتگردی کوشہریت، مذہب یا

کسی علاقے سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ او آئی سی نے مذہب اور رنگ نسل کی بنیاد

پر امتیازی سلوک کی مذمت کرتے ہوئے نفرت، امتیازی سلوک کے خاتمے کیلئے

برداشت، احترام، بات چیت اور تعاون پر زور دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا مسئلہ

فلسطین اور القدس کے معاملے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، تنظیم نے تمام فورمز

پر اس مسئلے کے حق میں ا پنی اصولی اور مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے

کہا فلسطینیوں کے قومی حقوق، بشمول حق خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں

کے اندر آزاد و خود مختار ریاست جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو کے قیام

کی حمایت کرتے ہیں۔ تنظیم نے اقوام متحدہ کی قرارداد 194 کے تحت فلسطینیو ں

کے حق وطن واپسی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ان حقوق سے پہلو تہی

کی کوششوں کا پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائیگا ۔ بین لاقوامی اداروں یا ملکوں

کی جا نب سے فلسطینیوں کے قومی حقوق کی قیمت پر قبضے کو طول دینے اور

یہودی بستیوں میں توسیع کے منصو بے، امریکی انتظامیہ کی طرف سے یروشلم

کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی بھی مذمت کرتے ہوئے

اسے مسترد کیا گیا اور کہا گیا یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنا باطل

فیصلہ، فلسطینیوں اور اسلامی دنیا کے تاریخی، قانونی اور حقوق پر حملہ تصور

کیا جائیگا۔ اجلاس نے مطالبہ کیا اسرائیل سکیورٹی کونسل کی 1967 کی قراداد

242 اور1973 کی قرارداد 338، امن کے بدلے زمین فارمولے، میڈ ر ڈ امن

کانفرنس اور 2002ء میں بیروت میں منظور کئے گئے عرب امن منصوبے تحت

شام کی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے مکمل طور پر نکل جائے۔او آئی سی

سربراہ اجلاس میں واضح کیا گیا فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق کی نفی کرنیوالی

کوئی ڈیل، کوئی امن سکیم یا منصوبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اعلامیے میں عالمی

برادری پر زور دیا گیا وہ بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم

کرے۔ اسلامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے پر ترکی کی جانب سے سعودی حکومت

کا خیر مقدم کیا گیا، القدس اور فلسطین سے متعلق کامیاب اسلامی سربراہی اجلاس

منعقد کرنے کی تحسین کی گئی۔ کانفرنس میں القدس کی اسلامی اور مسیحی عبادت

گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اور ان کی

حکومت کی خدمات کو سراہا گیا۔ اعلا میہ میں تنظیم آزادی فلسطین کو فلسطینی قوم

کی حقیقی نمائندہ تنظیم قرار دیا گیا۔اجلاس میں لبنان میں سیاسی اور اقتصادی

استحکام کی ضرورت پر زور دینے کیساتھ بیروت کی اقتصادی اصلاحات میں مدد

کی یقین دہانی کرائی گئی۔او آئی سی سربراہ اجلا س میں یمن میں آئینی حکومت کی

بحالی اور صدر عبدربہ منصور ھادی کی کوششوں کو سراہا گیا، یمن میں اقوام

متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں امن وامان کے قیام اور متحا رب فریقین کے

درمیان جاری لڑائی کو بات چیت کے ذریعے ختم، افریقی ملکوں لیبیا اور سوڈان

میں جا ری کشیدگی کے خاتمے اور ان ملکوں میں امن و ستحکا م کی بحالی پر

زور دیا گیا، افغانستان حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جنگ زدہ ملک

میں دیرپا امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا، تمام ارکان ممالک پر

زور دیا گیا وہ افغانستان کو درپیش مسائل کے حل میں اس کی مدد کریں اور بے

گناہ شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ بند کرایا جائے۔ اجلاس میں چالیس سال سے

پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گز ینوں کا بوجھ اٹھانے کو سراہا گیا۔ او آئی سی

سربراہ اجلاس میں جموں وکشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت

کی گئی۔ اجلاس میں پاکستا ن اور بھارت پر زور دیا گیا وہ تنازع کشمیراقوام متحدہ

کی قراردادوں کی روشنی میں مل بیٹھ کر حل کریں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی

فوج کے ہاتھو ں ہونیوالی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی تحقیقات اور کشمیر

پر بھارت کے جبری قبضے کیلئے فوجی کارروائیوں کی مذمت کی گئی۔اجلاس

میں بوسنیا کے مسلمانوں کی بحالی اور بوسنیا کی قیاد ت کے درمیان پائے

جانیوالے اختلافات دور کرنے پر زور دیا گیا، برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد

جاری رکھنے اور روہنگیا مسلمان پناہ گز ینوں کی ملک واپسی کیلئے موثر

کوششوں سے اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں سری لنکا میں مسلمانوں اور مساجد پر

دہشت گردانہ حملوں اور نیوزی لینڈ میں نمازیوں کے قتل عام کی مذمت کی گئی۔

اسلامی سربراہ کانفرنس میں دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری رکھنے، دہشت

گردی کی تمام اقسام کی بیخ کرنے اور اسلام کو بدنام کرنیوالے گروپوں اور

عناصر کیخلاف مل کر آپریشن جاری ر کھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اجلاس

میں سعودی عرب کے شہروں الدوادمی اور عفیف میں تیل تنصیبات پر دہشتگردانہ

حملوں اور امارا ت کے پانیوں میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کی بھی شدید

مذمت کی گئی۔ اعلان مکہ میں اسلامو فوبیا پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اس ضمن میں اسلامی سربراہی کانفرنس نے اقوام متحدہ، علاقائی اور بین الاقوامی

تنظیموں پر زور دیا وہ 15مارچ کو اسلاموفوبیا کیخلاف بین الاقوامی دن کے طور

پر منائے۔

دنیا کو اسلام فوبیا سے نکلنا ہو گا،پیغمبر اسلام کی توہین ہماری ناکامی، عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کشمیر اور

فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے،دنیا کو اسلام فوبیا سے نکلنا ہو گا،دہشت

گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،مغرب غلط تصویر پیش کررہا ہے،پیغمبر

اسلام کی توہین ہماری ناکامی ہے،مغرب کو بتانا ہو گا ہم بہت زیادہ دکھ محسوس

کرتے ہیں، کشمیریوں ،فلسطینیوں کی آزادی جدوجہد کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا

جاسکتا،اسرائیل نے دہشتگردی کو معصوم فلسطینیوں کیخلاف استعمال کیا،القدس

فلسطینیوں کا دارالحکومت ہے،مسلم ممالک کو جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم پر رقم

خرچ کرنا ہو گی ۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سربراہ اجلاس سے خطاب

کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا اسلام فوبیا اور دہشت گردی سے سب

سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو پہنچا، مغربی دنیا مسلمانوں کے جذبات کا خیال

کرے، مسلم دنیا کی قیادت مغربی دنیا کو قائل کرے، نیوزی لینڈ کے واقعے نے

ثابت کیا دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی مسلمان دہشت گردی میں

ملوث ہوتو اسلامی دہشت گردی کا نام دیا جاتا ہے، نائن الیون سے پہلے زیادہ

ترخودکش حملے تامل ٹائیگرز کرتے تھے، ان کے حملوں کا کسی نے ہندو مذہب

سے تعلق نہیں جوڑا، دہشت گردی کو اسلام سے علیحدہ کرنا ہوگا۔ نائن الیون کے

بعد کشمیریوں اور فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے گئے، او آئی سی کشمیر اور فلسطین

کے مظلوم عوام کا ساتھ دے، مسلم سیاسی جدوجہد کو دہشتگردی کا لیبل دیا جانا

درست نہیں، کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم کی لہر بڑھتی جارہی ہے، کشمیری

آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں، او آئی سی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی

قراردادوں کے مطا بق حل کرائے۔ مسلم ممالک جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کو

ترجیح دیں، انہیں جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی پر رقم خرچ کرنی چاہیے۔ جب کوئی

پیغمبر اسلام کی توہین کرتا ہے تو یہ ہماری ناکامی ہے، ہمیں مغرب کو بتانا چاہیے

پیغمبر اسلام کی توہین پر ہم کتنا دکھ محسوس کرتے ہیں، یہودیوں نے دنیا کو بتایا

ہولوکاسٹ کی غلط توجیح سے انہیں دکھ ہوتا ہے۔

اسلامی دنیا میں امن و استحکام کے خواہاں، خطرات سے مل کر نمٹنا ہوگا، شاہ سلمان

سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا ہمیں مختلف

خطرات سے مل کر نمٹنا ہوگا، اسلامی دنیا میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔ خطرات

کا مقابلہ کر کے ہی اپنے ممالک میں ترقی لاسکتے ہیں، ہم اپنے عوام کے مستقبل

کی تعمیر کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے مختلف امور پر

مسلم دنیا میں اتحاد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔