114

چیئرمین ایف بی آر نے موجودہ ٹیکس نظام کو ملکی معیشت کیلئے سنگین خطرہ قرار دیدیا

Spread the love

اسلام آباد (کامرس رپورٹر) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے ٹیکس

نظام کو ناقابل عمل قراردیتے ہوئے موجودہ ٹیکس نظام کو ملکی معیشت کیلئے

سنگین خطرہ قرار دیدیا۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے وزیراعظم عمران خان

کو ملکی معیشت کو درپیش خطرے سے تحریری طور پر آگاہ کرتے ہوئے

2صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ موجودہ نظام آنے والی نسلوں

کیلئے پائیدار نہیں ، ٹیکس وصولی کا نظام جی ڈی پی کے 10فیصد سے بھی کم

اکٹھا کررہاہے، حقیقی آمدنی کے بجائے ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے ریونیو

اکٹھا کیا جارہا ہے جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پرغیر ٹیکس شدہ دولت جمع

ہوچکی ہے۔خط میں کہا گیا کہ کاروباری لوگوں اور اداروں کی بڑی تعداد

ٹیکسیشن سسٹم میں شامل ہونے سے گریزاں ہے، ملک کے 22کروڑ لوگوں میں

سے 20لاکھ سے بھی کم لوگ ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں، آبادی میں سے

صرف ایک فیصد لوگ پوری ریاست کا بوجھ اٹھارہے ہیں، ملک میں صنعتی

کنکشن رکھنے والوں کی تعداد 3لاکھ 41ہزارہے، ان میں سے صرف 40ہزار افراد

سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں، رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50فیصد

انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتی ہیں۔چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے

وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں کہا گیاکہ بجلی کے کمرشل کنکشن رکھنے

والے 31لاکھ تاجروں میں سے 90فیصد ٹیکس سسٹم سے باہر ہیں، 85فیصد سے

زائد ٹیکس ملک کی 300کمپنیاں ادا کرتی ہیں، 75فیصد سے زائد ٹیکس

مینوفیکچرنگ سیکٹر سے اکٹھا کیا جارہا ہے جبکہ ملک کا مینوفیکچرنگ سیکٹر

اور صنعتی شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔علاوہ ازیں چیئرمین ایف بی آر سے

بینکوں کے چیف فنانشل آفیسرز نے ایف بی آرہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی، جس

میںچیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے تمام بینکوں کو بے نامی اکاونٹس کی

تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔