176

بلاول بھٹو نیب میں پیش، 35 منٹ تک پوچھ گچھ، سوالنامہ تھما دیا گیا

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز نیب کی مشترکہ

تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش کر بیان ریکارڈ کرا دیا، بلاول بھٹو سے پارک لین

کمپنی کیس سے متعلق پوچھ گچھ کی گئی اور 32 سوالات پرمشتمل سوالنامہ دے

دیا گیا، بلاول بھٹو سے 35 منٹ تک سوالات کیے گئے، نیب ٹیم نے ان کوسوال

نامے کا 2 ہفتے میں جوابات دینے کی ہدایت کی۔ قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری

جیالوں اور پارٹی رہنماوں کے ہمراہ زرداری ہاوس سے نیب کے دفتر پہنچے۔

آصفہ بھٹو زرداری بھی بلاول کے ہمراہ تھیں۔ ڈی جی نیب عرفان نعیم منگی کی

سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے بلاول بھٹو سے پوچھ گچھ کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی

سے بحریہ ٹاون سے کراچی میں اراضی کا معاہدہ کرنے والی کمپنی جے وی اوپل

کا عہدہدار ہونے کے ناطے سوالات کئے گئے۔ معاہدہ سے حاصل ہونے والی رقم

منی لانڈرنگ سے باہر بجھوانے سے متعلق پوچھا گیا۔ بلاول بھٹو کی جانب سے

کچھ سوالوں کے جواب کے لئے مہلت مانگی گئی جس پر انہیں 32 سوالوں پر

مشتمل سوالنامہ دیا گیا اور انہیں 10 روز میں جواب دینے کا کہا گیا۔

تحقیقاتی ٹیم نے بعدازاں بلاول بھٹو سے پارک لین کمپنی میں پوچھ گچھ مکمل کی

جبکہ چیئرمین پی پی پی نے کمپنی سے متعلق نیب کا دیا گیا تحریری سوالنامے کا

جواب جمع کرایا۔ پارک لیبن کمپنی پر مختلف بینکوں سے اربوں روپے کا قرض

لینے کا الزام ہے۔ کمپنی میں بلاول بھٹو 25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ الزام ہے

سابق صدر آصف علی زرداری نے بحیثیت صدر اثررسوخ سے پارک لین کمپنی

کو قرض دلوایا، پارک لین کمپنی کی انکوائری میں آصف زرداری اسلام آباد ہائی

کورٹ میں پیشی کے باعث گزشتہ روز پیش ہونے سے معزرت کرتے ہوئے پیشی

کے لئے نئی تاریخ کی استدعا کی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔ اس موقع پر بلاول

بھٹو زرداری کے ترجمان نے نیب کی تفتیش سے متعلق اپنے بیان میں کہا چیئرمین

پیپلز پارٹی کا مختصر انٹرویو ہوا، انکا کمپنی کے مالی و انتظامی امور سے کوئی

تعلق نہیں، بلاول بھٹو کو نیب کی جانب سے سوال نامہ دیا گیا،جسکا جواب وکلا

کی مشاورت سے جمع کروادیا،

نیب پیشی پر اظہار یکجہتی کےلئے آنیوالے پی پی پی کے جیالوں، جیالیوں اور

پولیس میں تصادم ، متعدد زخمی، کئی گرفتار

بلاول بھٹو زرداری سے پیشی پر اظہار یکجہتی کے لیے آنے والے جیالوں اور

پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جس کے بعد کئی کارکنان کو حراست میں

لے لیا گیا۔ بلاول بھٹو کی نیب ہیڈ کوارٹر آمد سے قبل ہی کارکنان کی بڑی تعداد

وہاں پہنچ گئی، اس موقع پر کارکنان نے احتجاج کیا۔ نیب ہیڈ کوارٹر پہنچنے کے

کچھ دیر بعد بلاول بھٹو زرداری روانہ ہوگئے اور اس دوران اسلام آباد کے مختلف

مقامات پر پولیس اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کے درمیان کشمکش جاری رہی۔

پولیس کی جانب سے نیب ہیڈ کوارٹر چوک کو خاردار تاریں اور رکاوٹیں لگا کر

بند کیا گیا تھا جبکہ ایوب چوک پر کارکنوں کو آگے جانے سے روکنے کے لیے

آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ ڈی چوک پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی پولیس

کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی جنہیں منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا

گیا۔ پولیس نے کارسرکار میں مداخلت کرنے پر ڈی چوک سے پیپلز پارٹی کے مرد

و خواتین رہنمائوں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا، حراست میں لی گئی پیپلز

پارٹی کی خواتین رہنماؤں میں شازیہ طہماس، صوبیہ، مسرت ہلال شامل تھے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ رات نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں

بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو

شہر میں داخلے سے روکنے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا

پیپلز پارٹی کے کارکنان کی دیگر شہروں سے اسلام آباد آنے کی وجہ سے حالات

خراب ہوسکتے ہیں اس لیے انہیں روکنے کا حکم جاری کیا گیا۔

بلاول بھٹو کی جیالوں پر پولیس تشدد کی مذمت، حکومت پر سازش کا الزام

بلاول بھٹو بعدازاں پریس کانفرنس میں نیب میں پیشی کے موقع پر پی پی پی کے

جیالوں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا حکومت نے اپنی نالائقی چھپانے

کے لیے سازشیں شروع کردیں، عمران خان مخالفین کے خلاف ریاست کو استعمال

کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں کوئی ایمرجنسی یا دفعہ 144 نافذ تھی نہ ہم نے احتجاج

کی کوئی کال نہیں دی تھی، نیب قانون میں کہیں نہیں لکھا آپ کے ساتھی آپ کے

ساتھ پر امن طریقے سے نہیں جاسکتے۔ نیب میں پیشی پر حکومتی رویہ قابل

مذمت تھا، حکومت اور عمران خان کی طرف سے پی پی کارکنان پر حملہ کیا گیا،

واٹر کینن و آنسو گیس استعمال کی گئی، ہمارے کارکنان اور ہمارے لیے یہ کوئی

نئی چیز نہیں، ہم اس قسم کے ہتھکنڈوں سے ڈرتے اور نہ اصولوں اور نظریے پر

پر کوئی سمجھوتا کریں گے، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اپنا پرانا آمرانہ طریقہ

استعمال کررہے ہیں جو نظر آرہا ہے۔ جمہوریت میں ہر پاکستانی کا حق ہے وہ

جمہوری حق استعمال کرے۔ حکومتی اقدام سے ثابت ہو گیا یہ نام نہاد جمہوریت

ہے، خان صاحب سازش پر اتر آئے ہیں کہ وہ ملک کے ہر ادارے پر قبضہ کریں

اور ون پارٹی رول نافذ کریں، ان سے مثبت تنقید برداشت نہیں ہورہی، عوام کو

محسوس ہورہا ہے خان نے تبدیلی کے نام پر دھوکا دیا ہے، عمران خان سے یہ

حکومت چل نہیں پا رہی، یہ نااہل نالائق ہیں اور ان میں ملک چلانے کی صلاحیت

نہیں، معیشت برباد اور مزدوروں کا معاشی قتل ہورہا ہے۔ حکومت نے اپنی نالائقی

چھپانے کے لیے سازشیں شروع کردیں اور فورس استعمال کررہی ہے، بوڑھوں

عورتوں اور بچوں کے خلاف جو تشدد کیا گیا اس کی ویڈیو منگوا رہا ہوں، ہمارے

پاس تمام قانونی راستے ہیں جنہیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم سمجھتے

ہیں نیب جو مشرف نے بنایا یہ کالا قانون ہے، جیسے ہر آمر کا قانون کالا ہوتا ہے

یہ بھی ایک کالا قانون ہے، یہ ادارہ سیاسی انتقام اور پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے

بنایا گیا، ہمارے پورے کیس میں رول آف لاء اور قانونی طریقہ استعمال نہیں کیا

جارہا لیکن ان تمام اعتراضات کے باوجود ہم ہر ادارہ کو ہمشیہ ترجیح دیتے ہیں،

پیپلزپارٹی نے پہلے بھی اعلان کیا تھا عید کے بعد سڑکوں پر نکلیں گے، جس

طریقے سے قبائلی اضلاع سے کراچی تک دیکھ رہے ہیں، جمہوریت پر حملے

ہورہے ہیں، انسانی و معاشی حقوق پر حملے ہورہے ہیں، ایسے میں جمہوریت

پسند جماعتوں اور سیاستدانوں پر فرض ہے وہ باہر نکلیں اور عوام کو بتائیں کس

طریقے سے حکومت ان کا حق چھین رہی ہے، پیپلز پارٹی نے ملک میں ہر سازش

دیکھی ہے، یہ چیئرمین نیب کو متنازع انٹرویو نہیں دینا چاہیے لیکن دے دیا۔ یہ

حکومت شروع نیب سے ہوتی ہے اور ختم بھی نیب پر ہوتی ہے، یہ جو آج کھڑی

ہے یہ نیب کی وجہ سے ہے، صحافی کے کالم میں چیئرمین نیب کی جانب سے کہا

گیا حکومتی نمائندوں کے کیس کھولتا ہوں تو حکومت گرجائے گی اور پھر دو دن

میں بعد ویڈیو آتی ہے، اس معاملے پر عمران خان اور ان کے معاون خصوصی

سے تفتیش ہونی چاہیے، انہوں نے اپنے معاون کو ہٹایا تو اتنا تو مان لیا وہ ملوث

تھے۔

کارکنوں پر تشدد شرمناک، جیالے پھانسی سے نہیں ڈرے، پانی سے کیا ڈریں

گے، آصفہ،بختاور

سابق وزیراعظم محترمہ شہید بنظیر بھٹو کی صاحبزادیوں آصفہ اور بختاوربھٹو

نے اپنے بھائی بلاول بھٹو کی نیب میں پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے جیالوں

اور جیالیوں پر پولیس کی جانب سے واٹرکینن، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے

استعمال کےخلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے اپنے الگ الگ

پیغامات میں انکا کہنا تھا “یہ ہے تبدیلی، معصوموں پرواٹرکینن کااستعمال کیا گیا،

واٹرکینن کے استعمال سے نیب کا کالا قانون دھویا نہیں جاسکتا، جیالے پھانسی

سے نہیں ڈرے توپانی سے کیا ڈریں گے۔ پی پی پی ورکرزکومارا گیا، گھسیٹا

اورگرفتارکیا گیا، یہ سب اسلام آباد میں نہتے اور پرامن شہریوں کیخلاف ہوا،

کارکنوں پرتشدد شرمناک اورقطعی طورپرغیرقانونی ہے۔

آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں ایک روز کی توسیع

آج پھر طلب، اسلام آباد ہائیکورٹ ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر نیب حکام پر برہم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور ان

کی بہن فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں آج جمعرات تک توسیع کر تے ہوئے

تفتیشی افسر کو آج ریکارڈ جمع کرا نے کی ہدایت کر دی، جسٹس عامر فاروق نے

نیب کے آئی او کی جانب سے طلب ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا

اورریمارکس دیئے کہ درخواست گزار صحیح کہتے ہیں آپ ہراساں کررہے ہیں،

ہم ڈیڑھ گھنٹے سے دلائل سن رہے ہیں اور آپ ریکارڈ ہی نہیں لائے، کیا ہم ان کو

ضمانت دے دیں؟ کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کریں۔

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی

پر مشتمل ڈویژن بینچ نے جعلی اکا ونٹس کیس میں پی پی شریک چیئرمین آصف

زرداری اور انکی بہن فریال تالپور کی عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواستوں

پر سماعت کی۔ آصف زرداری عبوری ضمانت میں توسیع کیلئے پانچویں بار اسلام

آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے، سماعت کے دوران جسٹس محسن اخترکیانی نے

تفتیشی افسر سے استفسار کیا آصف زرداری کا وارنٹ گرفتاری جاری ہے، کیا

آصف زرداری کونیب نے گرفتار کرنا ہے، جس پر تفتیشی افسر نے کہا جی بالکل

آصف زرداری کی گرفتاری نیب کی ترجیح ہے۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا یہ

کیس بینکنگ کورٹ کراچی سے منتقل ہوا ہے، جسٹس عامرفاروق نے آئی او سے

استفسار کیا واضح بیان دیں کیا نیب واقعی ملزم کو گرفتار کرنا چاہتی ہے، جس پر

آئی او نے کہا ہم نے وارنٹ گرفتاری کیلئے قانونی کارروائی شروع کررکھی ہے۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا اس صورتحال میں ملزمان کے وکیل دلائل دیں، فاروق

ایچ نائیک کا کہنا تھا نیب نے الزامات کی تفصیل ابھی تک فراہم نہیں کی، ایک بھی

دستاویزات ہمیں نہیں دی گئی، ایف آئی اے نے ازخود نوٹس پرایف آئی آردرج کی۔

آصف زرداری کا نام کہیں بھی ملزمان میں شامل نہیں، آصف زرداری،فریال تالپور

پرمشکوک اکائونٹس کا بینفشری کا الزام ہے، ایف آئی آر میں آصف زرداری اور

فریال تالپورنامزد نہیں، فریال تالپورکا جعلی اکاونٹس سے کوئی تعلق نہیں۔ زرداری

گروپ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے، فریال تالپور ڈائریکٹر ہیں، آصف زرداری صدر

بننے سے پہلے گروپ کی ڈائریکٹر شپ چھوڑ چکے ہیں، چالان میں آصف

زرداری پراعانت جرم کاالزام ہے، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام نہیں،

کیس بدنیتی پرمبنی ہے، ضمانت قبل از گرفتاری منظورکی جائے۔ فاروق نائیک

کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب وکیل جہانزیب بھروانہ نے دلائل شروع کئے تو

عدالت نے حکم دیا 2 ہفتے میں تحقیقات مکمل کرکے عدالت میں ریفرنسز فائل

کریں۔ جہانزیب بھروانہ کا کہنا تھا جو فنڈ ٹرانسفر کیے گئے انہیں غیرقانونی

سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا گیا، جس سے فنڈزکے استعمال پرسوال اٹھتا ہے،

سپریم کورٹ نے نیب کو مزید تحقیقات کے احکامات دیئے، عدالتی حکم تھا

انکوائری انویسٹی گیشن کو 2 ماہ میں مکمل ہونا چاہیے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا

جے آئی ٹی کا تمام ریکارڈ نیب ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں جمع کرایا گیا، ریکارڈ

جمع ہونے کے بعد مزید تحقیقات شروع کی گئیں، عدالت نے حکم دیا تحقیقات

کرکے ریفرنسز فائل کیے جائیں، تمام تر چیزیں سپریم کورٹ کے احکامات پرکی

جارہی ہیں۔ جہانزیب بھروانہ نے بتایا جے آئی ٹی نے 32 اکائونٹس کی تحقیقات

کیں، اکائونٹس سے ہزاروں بینک اکائونٹس کا لنک ملا، دستاویزات شواہد کے طور

پر موجود ہیں۔ نیب پراسیکیوٹرنے سپریم کورٹ کے آرڈر کوعدالت میں پڑھ

کرسنایا، پراسیکیوٹر نے کہا رپورٹ کیمطابق فنڈز غیرقانونی مقاصد کیلئے

استعمال ہوئے، منی لانڈرنگ کیس میں ریفرنس عدالتی ڈائریکشن پرفائل ہوا، جس

پر جسٹس عامرفاروق نے کہا آپ کا کیس کیا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا

زرداری گروپ کو اے ون ایسوسی ایٹس سے ڈیڑھ کروڑ گئے، جسٹس عامر

فاروق نے استفسار کیا جعلی بینک اکائونٹس کیا ہیں؟ جس پر جہانزیب بھروانہ نے

کہا جن لوگوں کے نام پر اکاونٹ تھے ان کومعلوم ہی نہیں تھا، یہ منی لانڈرنگ کا

معاملہ ہے۔ جسٹس محسن اخترکیانی نے کہا ایک کروڑ کے اکاونٹ کو آپریٹ کون

کررہا تھا تو پراسیکیوٹر نے بتایا زرداری گروپ کے ریکارڈ کے مطابق اکاونٹ

فریال تالپور آپریٹ کررہی تھی۔ اس موقع پر عدالت نے تفتیشی افسرسے ریکارڈ

فراہم کرنے کا کہا تو جواب نہ میں ملنے پر جسٹس محسن اخترکیانی برہم ہوتے

ہوئے کہا کیا آپ کوتوہین عدالت کانوٹس جاری کریں؟ درخواست گزارصحیح کہتے

ہیں آپ ہراساں کررہے ہیں، تفتیشی افسر نے بتایا ریکارڈ بہت زیادہ ہے، عدالت

نے کہا ضمانتوں کا فیصلہ کرنے لگے،آپ ریکارڈ فریم کراکر رکھیں گے۔عدالت

نے آصف زرداری، فریال تالپورکی عبوری ضمانت میں آج جمعرات تک توسیع

کردی، عبوری ضمانت پر آج دوبارہ سماعت ہوگی اور ہدایت کی تفتیشی افسر آج

ریکارڈ جمع کرائیں، تفتیشی افسر نے لازمی جواب جمع کرانا ہے۔ فاروق ایچ

نائیک نے استدعا کی کیس کوعید کے بعد تک کیلئے رکھ دیں، جس پر عدالت نے

کہا آج کیلئے رکھ دیتے ہیں، آج آصف زرداری پر ایک اور کیس بھی لگا ہے۔