82

ججوں کے خلاف ریفرنس ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد فخرالدین ابراہیم احتجاجاََ مستعفی

Spread the love

اسلام آباد ،کراچی (سٹاف رپورٹر ) صدر مملکت کی طرف سے سپریم جوڈیشل

کونسل کو بعض ج سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس تین جز کے خلاف ریفرنس

بھیجنے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد ابراہیم نے استعفیٰ دے دیا،استعفیٰ میں زاہد

ابراہیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ میرے خیال میں یہ ججز کا احتساب نہیں بلکہ

عدلیہ پر حملہ ہے ایسا کرنا عدلیہ کی آزادی کو بے تحاشہ نقصان پہنچائے گا۔ بدھ

کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل زاہد ابراہیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا،زاہد

فخرالدین ابراہیم نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان عارف علوی کو بھجوایاوفاقی

حکومت کی جانب سے ہائی کورٹس کے دو اور سپریم کورٹ کے ایک جج کے

خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز دائر کئے گئے ہیں۔حکومت کی جانب

سے ریفرنسز میں ججوں پر بیرون ملک جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا

ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان زاہد فخر الدین جی ابراہیم نے اپنا استعفیٰ صدر

مملکت کو بھجوا دیا جس میں انہوں نے کام کرنے سے معذرت کی ہے۔زاہد فخر

الدین نے ججز کے خلاف ریفرنس کو حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو دباؤ

میں لانے کی کوشش قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنے استعفے میں مزید لکھا کہ سپریم

کورٹ کے ججز کی ساکھ ناقابل مواخذہ ہے۔دوسری طرف سپریم کورٹ کے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خود کے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس کی

خبریں سامنے آنے کے بعد صدر مملکت عارف علوی کو خط لکھ دیا۔سینئر

صحافی و اینکر پرسن مطیع اللہ جان کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر

مملکت عارف علوی کو خط لکھ کر اپنے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کے

بارے میں پوچھا ہے۔ انہوںنے اپنے خط میں لکھا ہے کہ انہیں سرکاری ذرائع سے

یہ معلوم ہوا ہے کہ ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کوئی ریفرنس

دائر ہوا ہے۔ ’اگر یہ بات درست ہے تو مجھے اس بارے میں بتایا جائے اور

ریفرنس کی کاپی فراہم کی جائے، امید ہے اور آپ بھی اس سے اتفاق کریں گے کہ

اگر ایک ریفرنس فائل کیا جاتا ہے اور ایک جج کو کہا جاتا ہے کہ اس کا جواب دیا

جائے، تو پھر سپریم جوڈیشل کونسل کی اجازت کے بعد اس ریفرنس کے مندرجات

کو منظر عام پر لایا جاسکتا ہے ‘۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خط میں لکھا

کہ ان کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس سے مخصوص قسم کی لیکس کی

جارہی ہیں جو کردار کشی کے مترادف ہیں، ’میرے فیئر ٹرائل کے حق کی خلاف

ورزی کی جارہی ہے اس سے عدلیہ کے ادارے کی بھی بے توقیری ہورہی ہے‘۔

مطیع اللہ جان نے بتایا کہ صدر مملکت عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے جس میں ان کی اہلیہ کی سپین کی کسی جائیداد کا

ذکر ہورہا ہے۔ اس سے قبل بھی انہیں ہٹانے کی باتیں ہوتی رہی ہیں کیونکہ انہوں

نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں فوج کے حوالے سے سخت ریمارکس

دیے تھے۔