223

ہیتھروائیر پورٹ، بھائی مشن، غلیظ گالیاں اور ریسٹورنٹ

Spread the love

وہ مساج سنٹر سے اپنی گاڑی پر سیدھا گھر پہنچا، اس نے ٹی وی آن کیا اور آنے

والی فلائٹس کی معلومات حاصل کیں،ایک فلائٹ رات 9 بجے ابوظہبی سے لینڈ

کرنیوالی تھی، گھڑی پر ساڑھے سات ہو چکے تھے، اس کے پاس آدھا گھنٹہ تھا،

اس نے چست کپڑے پہنے، بالوں کو سپرے سے رنگدار کیا، کوٹ پہنا اور ہیتھرو

ایئر پورٹ کیلئے روانہ ہو گیا، ساڑھے آٹھ بجے وہ ایئر پورٹ پہنچ چکا تھا،


اس نے گاڑی پارک کی اور راہداریوں سے ہوتا آمد والے ہال میں جا پہنچا، اسے

وہاں پاکستانی لوگوں کا ایک گروپ دکھائی دیا، یہ پانچ لوگ تھے اور اردو زبان

میں بات چیت کرر ہے تھے، 909 ان کے قریب جا پہنچا، وہ شکل صورت سے

یورپین دکھائی دے رہا تھا، اس نے پولش لہجے میں انگریزی میں ان سے دریافت

کیا برلن سے آنیوالی فلائٹ کا کیا وقت ہے، گروپ میں موجود ایک شخص نے

اسے دیوار پر نصب فلائٹ چارٹ سے ٹائم پڑھ کر بتایا، یورپ سے آنیوالی

پروازوں کا عموماً یہی وقت تھا، رات گیارہ بجے کے بعد لینڈنگ کا وقت ختم ہو

جانا تھا، وہ اسی بہانے کانوں میں ہینڈز فری لگا کر ان کے اردگرد گھومنے لگا

اور ان کی گفتگو ریکارڈ کرنے لگا، وہ محتاط انداز کیساتھ آنیوالے لڑکوں کے

بارے میں ہی بات چیت کر رہے تھے، وہ مطمئن تھے کہ ان کے پاس کوئی

ایشیائی باشندہ موجود نہیں جو انکی بات چیت کو سمجھ سکتا ہو۔ گروپ میں شامل

ایک شخص نے کہا ’’لونڈوں کو زیادہ فری نہیں کرنا، بھڑوے ہر شے کے بارے

میں پوچھیں گے، زیادہ بات چیت کرنیکی ضرورت نہیں اور نہ ہی انہیں فون دینا

ہے، ابھی دو چار دن گزار لیں پھر انہیں بتائیں گے کیا کرنا ہے، انہی میں سے

ایک شخص نے غلیظ گالی نکالتے ہوئے کا تم سب کو اپنے سے کمتر جانتا ہے،

بھائی کا اس سے ڈائریکٹ رابطہ ہے، اس کو حساب سے ہی کسی بات پر ٹرخانا،

جو کہے وہ مان لینا، ورنہ بھائی سے شکایت کرے گا، سالا بہت بڑا بھرم باز ہے

اور’’لڑکیوں کا شوقین‘‘ بھی ہے پھر ’’ ایک اور غلیظ گالی نکالتے ہوئے مزید

کہا‘‘ جہاز میں ہی چسکی لگاتا ہوا آئیگا، ایک اور شخص بولا ’’ یار اسکی بات

اور ہے بھائی نے کوئی اہم ذمہ داری دینی ہے مجھے پتہ ہے وہ کیا چیز ہے،

ضرور پڑھیے، بوسہ اور 50 پائونڈ (ایجنٹ 909 تیسری قسط)

سالے کا بھیجا کسی پر ٹکتا ہی نہیں، اس سے پیار کرو تو الٹا اور مطلب نکال لیتا

ہے، اسلئے بہتر ہے اسے مت چھیٹرئیو، اسی دوران لابی میں انائوسمنٹ ہوئی،وہ

تمام لڑکے براستہ یو اے ای گلف ایئر ویز سے آ رہے تھے، 909 ان کے درمیان

ہونے والی تمام باتیں ریکارڈ کرتا رہا، کچھ دیر بعد چار لڑکے کلیئرنس کے بعد

لابی میں انکی طرف چلے آ رہے تھے، ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ یوں بغل گیر

ہوئے جیسے سگے بھائی ہوں لیکن سب دل ہی دل میں جانتے تھے ان میں سے

کوئی بھی کسی کا سجن نہیں۔ وہ باہر کی جانب چل پڑے اور 909 بھی ان کے

پیچھے ہو لیا۔

گاڑی میں پہنچ کر اس نے فوراً اپنا روپ بدلا اور ایک سنجیدہ یورپین لڑکے کا

روپ دھار کر گاڑی سے باہر نکل آیا، اس دوران اس نے سر پر ہڈ پہن لیا تا کہ

ایئر پورٹ کی پارکنگ میں نصب کیمروں میں وہ اسی طرح دکھائی دے جیسا

گاڑی سے نکلتے اور بیٹھتے دکھائی دیا تھا، اس نے مختلف سمتوں میں لگے

کیمروں کا اندازہ لگا لیا تھا اور کوشش میں تھا ان کی پہنچ سے جتنا بچ سکتا ہے

بچا رہے، اسے دور سے آنیوالے مہمان دکھائی دئے جو دو گاڑیوں میں سوار ہو

رہے تھے، وہ تیزی سے انکی گاڑیوں کے قریب پہنچ گیا اور ایک آوارہ، شرابی

شخص کی طرح انکی گاڑی کے پاس سے گزر گیا اس دوران وہ اپنا کام کر چکا

تھا، دونوں گاڑیاں جا چکی تھیں، وہ تیزی سے واپس پلٹا اور اپنی گاڑی میں بیٹھ

کر ایجویر روڈ کو روانہ ہو گیا۔ مطلوبہ مقام پر پہنچتے ہی اس نے گاڑیوں کو

ٹریس کر لیا، مہمان اور میزبان گاڑیوں سے باہر نکل رہے تھے۔ وہ ایک

ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے، 909 نے اپنا حلیہ تبدیل کیا اور ریسٹورنٹ میں جا

گھسا۔ وہ تمام ایک بڑی میز پر جا بیٹھے جبکہ 909 ان کے قریب ہی ایک سنگل

میز پر جا بیٹھا، اس نے آرڈر کیا اور ایک میگزین پڑھنے میں مصروف ہو گیا،

ریسٹورنٹ میں صرف وہی پاکستانی تھے باقی ترکی، عربی اور گورے گاہک

تھے، 909 کو سبھی یورپی سمجھ رہے تھے، وہ تمام اردو زبان میں اپنی پرانی

یادیں تازہ کرتے ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے لگے، اسی دوران ایک

لڑکے نے باتوں باتوں میں ٹی ٹی کا ذکر کیا، اسنے بتایا وہ مال گلشن کے علاقے

میں واقع فلیٹ میں محفوظ مقام پر چھپا کر آیا ہے، ضرورت پڑنے پر کسی بھی

وقت دستیاب ہو گا۔ 909 اس دوران اپنا کھانا ختم کر چکا تھا اس نے کائونٹر پر جا

کر بل ادا کیا اور وہاں سے چل پڑا،،،،، جاری ،،،،،