153

بھارتی الیکشن میں نئی تاریخ رقم، غریب دلت لڑکی نے منجھے ہوئے سیاستدانوں کو پچھاڑ ڈالا

Spread the love

نئی دہلی ( جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

بھارت کے ایوان زیریں( لوک سبھا ) کے 17ویں انتخابات میں 78 خواتین نے

کامیابی حاصل کرکے نئی تاریخ رقم کردی، وہیں ہندوئوں کی انتہائی نچلی ذات

سے تعلق رکھنے والے مزدور کی بیٹی نے بڑے اور منجھے ہوئے سیاست دانوں

کو شکست فاش دے کر سب کو حیران کر دیا۔ یہ پہلا موقع ہے بھارت میں ریکارڈ

تعداد میں خواتین ارکان منتخب ہوئی ہیں، اس سے قبل 2014 میں 64 خواتین

منتخب ہوئی تھیں ۔اس بار لوک سبھا انتخابات میں مجموعی طور پر 700 سے زائد

خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا تھا جس میں سے سب سے زیادہ 54 خواتین کو

کانگریس نے ٹکٹ دیا تھا۔کانگریس کے بعد خواتین کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے

دوسرے نمبر پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت بھارتی جنتا

پارٹی(بی جے پی)تھی جس نے 53 خواتین کو ٹکٹ دیے تھے۔اس بار سب سے

زیادہ خواتین بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش اور دوسرے نمبر پر

مغربی بنگال سے مجموعی طور پر 11 خواتین ارکان کامیاب ہوئیں۔انگریزوں سے

آزادی حاصل کرنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ لوک سبھا میں اتنی تعداد میں

خواتین پہنچی ہیں۔ نو منتخب خواتین میں کچھ مسلسل انتخابات میں کامیاب ہوئی

ہیں، تاہم کئی خواتین نے پہلی بار کامیابی حاصل کی ہے۔ اس بار لوک سبھا میں

خواتین ارکان کا حصہ 14 فیصد ہوگا جو بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان

کے حصے سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔منتخب 78 خواتین میں صرف 2 مسلم

خواتین شامل ہیں اور دونوں ریاست مغر بی بنگال سے آل انڈیا ترینمول کانگریس

(اے آئی ٹی سی)کی ٹکٹ سے کامیاب ہوئی ہیں،اس بار لوک سبھا کے انتخابات

لڑنیوالی 700 سے زائد خواتین میں 220 خواتین آزاد حیثیت میں میدان میں اتریں

تھیں، کامیاب ہونیوالی 78 خواتین میں ہندوئوں کی انتہائی نچلی ذات سے تعلق

رکھنے والے مزدور کی بیٹی بھی کامیاب ہوئی ہے۔ ریاست کیرالا کے لوک سبھا

کے حلقے آلاتور سے دلت کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ رامیا ہری داس

نے منجھے ہوئے سیاستدانوں کو شکست دے کر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔

کوئنٹ کے مطابق رامیا ہری داس ریاست کیرالا سے دلت کمیونٹی کی منتخب

ہونے والی دوسری خاتون رکن لوک سبھا ہیں۔ رامیا ہری داس کو انڈین نیشنل

کانگریس کی جانب سے ٹکٹ دیا گیا تھا اورپارٹی کے مرکزی رہنمائوں نے

ریاست کے عوام کو ان کی مالی مدد کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔ رامیا ہری داس

کو کانگریس کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت شارٹ لسٹ کیے جانے کے بعد

صدر راہول گاندھی کی خصوصی ہدایت پر ٹکٹ دیا گیا تھا۔ سیاست میں انٹری

دینے سے قبل رامیا ہری دس اپنی برادری کی پنچائت کے صدر کے فرائض سر

انجام دے رہی تھیں، تاہم سیاست میں آنے سے قبل پنچائت صدارت چھوڑ دی تھی۔

رامیا ہری داس نے میوزک میں گریجوئیشن کر رکھا ہے جبکہ وہ زمانہ طالب

علمی سے ہی سماجی کاموں کے حوالے سے متحرک رہتی تھیں۔ رامیا ہری داس

کے والد یومیہ اجرت پر کام کرنے والے عام مزدور جبکہ ان کی والدہ سلائی کا

کام کرتی ہیں اور ان کا تعلق ریاست کیرالا کے ضلع کالیکٹ سے ہے۔

ادھر کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے لوک سبھا انتخابات میں اپنی جماعت

کی شکست فاش پر پارٹی کی صدارت سے استعفیٰ دیدیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق

حالیہ لوک سبھا الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے واضح برتری حاصل کر کے

بھارت کی بانی جماعت کانگریس کو ایک بار پھر شکست فاش سے دوچار کیا،

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کا

نگر یس ورکنگ کمیٹی اجلاس میں استعفیٰ پیش کر دیا،تاہم کانگریس ورکنگ

کمیٹی کے اجلاس میں موجود اہم رہنماوں سونیا گاندھی، من موہن سنگھ، امریندر

سنگھ، غلام نبی آزاد، شیلا ڈکشٹ سمیت تمام ہی اراکین نے راہول گاندھی کے

فیصلے کو مسترد کردیا جس پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے استعفیٰ نامنظور کردیا۔

دوسری جانب کانگریس کے رہنما رندیپ سنگھ نے پارٹی صدر راہول گاندھی کے

مستعفی ہونے کی پیشکش سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کانگریس

ورکنگ کمیٹی میں شکست کی وجوہات اور انتخابی مہم میں کمزوریوں پر تبادلہ

خیال کیا گیا، استعفے کی کوئی با ت نہیں ہوئی۔ دوسری طرف وزیراعظم نریندرا

مودی نے لوک سبھا انتخابات کی تکمیل کے بعد آئین کے تحت صدر مملکت رام

ناتھ کوند سے الوداعی ملا قات کے دوران اپنا استعفیٰ پیش کر دیا جسے صدر کوند

نے قبول کرلیا۔