155

گولڈ فنگس (سونے کی پھپھوندی)

Spread the love

پرتھ (جے ٹی این آن لائن ویب ڈیسک)

آسٹریلیا میں ایک مقام پر انوکھی پھپھوندی (فنگس) دریافت ہوئی ہے جو سونے

کے ذرات کو گھلا کر انہیں ایک مقام پر جمع کرتی رہتی ہے۔ پرتھ شہر سے 130

کلومیٹردور بوڈنگٹن کے ایک گائوں کی مٹی میں گلابی رنگت کی فنگس ملی ہے

جس کے بارے میں ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ دریافت سونے کی کان کنی اور

تلاش میں بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ آسٹریلیا کے مشہور ادارے سی ایس آئی

آر او سے وابستہ ارضی خرد حیاتیات (جیو مائیکروبائیالوجی) کے ماہرین نے اس

علاقے کی مٹی کا بھرپور جائزہ لیا بوڈنگٹن کا یہ علاقہ سونے کے ذخائر کی وجہ

سے مشہور ہے۔ ان سائنسدانوں میں ڈاکٹرسنگ بوہو بھی شامل ہیں جنہوں نے

معلوم کیا کہ سپرآکسائیڈ نامی ایک کیمیکل اس فنگس سے خارج ہوتا ہے جس میں

سونا گھل جاتا ہے۔ اگلے مرحلے میں فنگس پگھلے ہوئے سونے میں ایک اور

کیمیکل ملاتا ہے جس سے سونا دوبارہ ٹھوس ہوجاتا ہے اورفنگس کی سطح پر اس

کے باریک باریک ذرات ابھر آتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ فنگس سونے

کے ذخائر کو اوپری سطح تک لاتی ہے اور اس طرح سونا تلاش کرنے والی

کمپنیوں کو بہت رہنمائی مل سکتی ہے۔ توقع ہے اس سے کان کن کمپنیاں فائدہ اٹھا

سکیں گی۔ تاہم یہ فنگس اتنی چھوٹی ہے کہ یہ عام انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی

اور ماہرین اسے دیکھنے کیلیے ایک نیا نظام تیار کررہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے

سونے کی تلاش کے روایتی طریقوں میں جہاں ماحول متاثر ہوتا ہے وہیں اس پر

اخراجات بھی بہت آتے ہیں۔ لیکن فنگس کے ذریعے سونے کی نشاندہی سے کم

خرچ اور ماحول دوست انداز میں سونے کی تلاش کا مشکل کام کیاجا سکتا ہے۔