140

ایرانی وزیر خارجہ کی سیاسی وعسکری قیادت سے ملاقاتیں، تہران واشنگٹن کشیدگی پر تبادلہ خیال

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)

جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف گزشتہ روز پاکستان کے دورہ پر اسلام آباد

پہنچے جہاں انکا پر تپاک استقبال کیا گیا، ایرانی وزیر خارجہ نے آرمی چیف

جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اس موقع پر پاک فوج کے سپہ سالار نے

کہا جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، تمام فریقین کو تنازع کو خطے سے دور رکھنے

کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی

دلچسپی کے امور اور خطے کی ابھرتی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ ایرانی

وزیر خارجہ نے علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

ایرانی وزیر خارجہ کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات، پاک ایران تعلقات

خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

جواد ظریف نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں پاک ایران دو

طرفہ تعلقات سمیت خطے اورعالمی امور پر بات چیت کی گئی جبکہ وزیر اعظم

عمران خان کے حالیہ دورہ ایران کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد

پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواد ظریف،شاہ محمود ملاقات، دو طرفہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق

مہمان اور میزبان وزرائے خارجہ کے مابین دفتر خارجہ میں وفود کی سطح

پرتفصیلی مذاکرات ہوئے اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا

خطے میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان تمام تصفیہ طلب امورکو

سفارتی سطح پر حل کرنے کا حامی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو تحمل اور بردباری

کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے میں امن کے قیام اورکشیدگی

میں کمی کیلیے اپنا کرداراداکرنے کیلئے کوشاں رہے گا، ایرانی وزیر خارجہ جواد

ظریف نے کہا خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو قدرکی نگاہ سے

دیکھتے ہیں، وفود کی سطح پر مذاکرات میں دو طرفہ معاملات پر تعاو ن بدستور

جاری رکھنے پر اتفاق جبکہ وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ایران کے

دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ مذاکرات

میں پاک ایران تعلقات علاقائی سلامتی سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے امورپربات

کی گئی۔ ایرانی وزیرخارجہ نے پرتپاک خیرمقدم پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

کا شکریہ ادا کیا،

امریکہ ایران نہیں، تمام علاقائی اقوام کا دشمن، جواد ظریف کی اسد قیصر سے

گفتگو، پاکستان تنازعات کے مذاکرات سے حل کا خواہاں، سپیکر قومی اسمبلی

ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

سے بھی ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات،خطے کی صورتحال سمیت باہمی

دلچسپی کے دیگر امور پرتبادلہ خیال کیا گیا ۔ اسد قیصر نے کہا پاکستان ایران کے

ساتھ علاقائی ترقی اور دیگر مسائل کے حل کے لیے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے

کا خواہاں ہے۔ دہشتگردی اور انتہاپسندی خطے کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا

خطرہ ہے اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ دوطرفہ

تعلقات کو فروغ دینے میں پارلیمانی سفارتکاری اہم کردارادا کر سکتی ہے۔ پاکستان

تمام تصفیہ طلب معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان

ایران سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر خوشگوار تعلقات

چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی وخطے کی ترقی کے لیے پاکستان

اور ایران کے مابین قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا دونوں

اقوام کے درمیان قدیم تاریخی تعلقات پائے جاتے اور ایران  پاکستان کے ساتھ اپنے

قریبی تعلقات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک اہم

علاقائی و عالمی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں اور دونوں ہر مشکل وقت میں

ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ ایران خطے میں امن و ترقی کے

لیے پاکستان کو اپنا شراکت دار سمجھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اقتصادی اور

تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے سیکیورٹی

اداروں کے درمیان تعاون کی وجہ سے دہشتگردی پر قابوپانے میں نمایاں پیشرفت

ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے اراکین پارلیمنٹ دونوں اقوام کو قریب لانے میں اہم

کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت پاکستان کے لیے چاہ بہار کو گوادر سے منسلک

کرنے کی تجویز لے کر پاکستان آیا ہوں جس کے ذریعے گوادر کو ایران سے لے

کر ترکمانستان، قازقستان، آذربائیجان، روس اور ترکی کے ذریعے پوری شمالی

راہداری سے منسلک کیا جاسکے گا۔ ایران اور پاکستان دو برادر اسلامی ممالک

ہیں جو ہمیشہ مختلف اور مشکل صورتحال میں ایک دوسرے کے معاون اور مدد

گار رہے ہیں۔ امریکہ صرف ایران نہیں بلکہ وہ تمام علاقائی اقوام کا دشمن ہے ،

علاقائی ممالک اور اقوام کو باہمی اتحاد کے ساتھ مشترکہ دشمن کی سازشوں کو

ناکام بنانا چاہیے۔ عالمی برادری بھی امریکی جارحیت کو روکے، اگر عالمی

برادری امریکہ کو بالادستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے سے روکنے میں ناکام

ہوگئی تو دنیا کا کنٹرول ان کے ہاتھوں میں چلا جائے گا جو قانون پر یقین نہیں

رکھتے، خطے کی ریاستوں کو اپنے مفادات کے لیے پابندیوں کے خلاف کھڑا ہونا

پڑے گا، بین الاقوامی اور خطے کی ریاستوں کو خطے کی سالمیت کے لیے اپنا

فعال کردار ادا کرنا چاہیے، ایران پاکستان سے مضبوط تعلقات کا خواہاں اور اپنے

ہمسایوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا ایران کی خارجہ پالسی کی اولین ترجیح

ہے، امریکہ کی پابندیاں صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ چین، روس ، وینزویلا

اور دیگر ممالک کے خلاف بھی ہیں لہذا امریکی پابندیوں کا ملکر مقابلہ کرنے کی

ضرورت ہے۔ ہم چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے

گوادر کو ایران سے لے کر ترکمانستان، قازقستان، آذربائیجان، روس اور ترکی

کے ذریعے پوری شمالی راہداری سے منسلک کیا جاسکے گا۔ واضح رہے منصب

سنبھالنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ تیسرا دورہ پاکستان ہے۔