78

کچرے پر جنگ کا خطرہ

Spread the love

منیلا(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک)

دنیا کو جب سے ماحولیاتی آلودگی جیسے سنگین مسئلے کا سامنا ہو ا ہے تب سے

ترقی یافتہ ممالک کی کوشش ہے کہ وہ کم سے کم آلودگی میں اضافے کا سبب بنیں

بلکہ جتنا ممکن ہو سکے اس مسئلے سے نجات کیلئے آسان ترین حل تلاش کریں

ایسے میں کوئی چھ سال قبل کینیڈا نے ریسائیکلنگ کرنے کی غرض سے کچرے

کے درجنوں کنٹیرز فلپائن بھیجے جو تاحال وہیں موجود ہیں اس ضمن میں فلپائن

نے کئی بار اسے ٹھکانے لگانے کےلئے کینیڈا سے بات کی مگر شنوائی نہ ہوئی،

جس پر فلپائن کے صدر روڈریگو دوتیرتے نے کئی سال قبل کینیڈا کی جانب سے

فلپائن کو بھجوائے گئے کئی ٹن وزنی کچرے کو کینیڈا واپس بھیجنے کا حکم دے

دیا،

صدر کے ترجمان کے مطابق اگر کینیڈا نے اس کچرے کو باضابطہ طور پر

قبول نہ کیا تو اسے کینیڈا کی سمندری حدود میں پھینک دیا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے

تنازع کے حل کے لیے منیلا نے 15 مئی کی طے شدہ ڈیڈلائن گزرنے کے بعد

اوٹاوا سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ صدارتی ترجمان کے مطابق صدر

دوتیرتے نے ڈیڈلائن گزرنے کی وجہ سے اس کچرے کو کینیڈا کو واپس بھیجنے

کے لئے کہا ہے۔ کینیڈا کی ایک فرم نے 2013 اور 2014 کے دوران ریسائیکلنگ

کرنے کی غرض سے کچرے کے درجنوں کنٹیرز فلپائن بھیجے اور یہ کچرا تب

ہی سے دونوں ممالک فلپائن اور کینیڈا میں سفارتی تعلقات میں رخنہ بنا ہوا ہے۔

کینیڈا کی وزیر ماحولیات کیتھرین مکینا کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ

ایک بیان میں کہا گیا کہ کینیڈا کی ایک کمپنی سے اس کچرے کی کینیڈا واپسی اور

اس کو ٹھکانے لگانے کا معاہدہ کیا ہے۔ جس پر جلد عملدرآمد شروع ہو جائےگا،

یاد رہے اس تنازعہ پر فلپائن کے صدر کینیڈا کو جنگ مسلط کرنے تک کی

دھمکی دے چکے ہیں جبکہ فلپائن کے عوام کئی مرتبہ کینیڈا کی طرف سے کچرا

اٹھانے میں سستی اور غفلت کا مظاہرہ کرنے کے خلاف سڑکوں پر احتجاجی

مظاہرے کرتے چلے آ رہے ہیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply