42

بحری بیڑے کی نقل و حرکت کا مقصد ایران کےساتھ جنگ چھیڑنا نہیں، امریکہ

Spread the love

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن بیوروچیف)

مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو ایران سے جو خطرہ لاحق تھا وہ خاصی حد

تک کم ہوگیا ہے۔ امریکی حکام نے وضاحت کی ہے کہ خطے میں جنگی بیڑے

کی نقل و حرکت اور فوج کی ترسیل کا مقصد ایران سے جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ

کسی حملے کی صورت میں دفاع کرنا ہے۔ دفاع اور خارجہ امور کے وزراء نے

کانگرس کے مطالبے پر ایران کی صورت حال پر انہیں اعتماد میں لیا۔

وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے ایوان

نمائندگان اور سینیٹ کے ارکان کو بند کمرے میں بریفنگ دی جس کی تفصیلات

بعد میں میڈیا کو فراہم کی گئی۔ کانگرس کے ڈیمو کریٹک ارکان خاص طور پر یہ

خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خطرے کو ضرورت سے

زیادہ اچھال کر خطے میں جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکی وزیر

دفاع نے میڈیا کو بتایا کہ خلیج فارس میں 52-B بمبار طیارے ارسال کرنے کے

فیصلے کی وجہ سے ایران کے جارحانہ عزائم کو روک دیا گیا ہے جس سے

امریکی مفادات پر حملہ متوقع تھا۔ ہم کسی صورت، صورت حال کو بگاڑنے کے

حق میں نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply