137

امریکہ ایران کشیدگی، عالمی امن کیلئے ایک اور خطرہ

Spread the love

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ خطے میں کوئی

بھی چھوٹا سا واقعہ خوفناک جنگ کے شعلے بھڑکا سکتا ہے۔ کشیدگی کے اس

ماحول کو خلیج عمان میں سعودی عرب کے دو تیل بردار جہازوں سمیت 4جہازوں

پر حملوں اور سعودی عرب میں تیل کی پائپ لائنوں پر ڈرون حملوں نے مزید

عروج پر پہنچا دیا ہے۔ خلیج عمان میں جن دو سعودی جہازوں پر حملہ کیا گیا وہ

واپس سعودی عرب جا رہے تھے جنہوں نے خام تیل لے کر امریکہ جانا تھا

سعودی وزیر تیل کا کہنا تھا ان جہازوں کو خاصا نقصان پہنچا مگر انہوں نے اس

حملے کا کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ دوسری طرف امریکی تفتیش کاروں نے

الزام عائد کیا ہے ان جہازوں پر حملے میں ایران اور اس کے حامی مسلح گروپ

ملوث ہیں۔ ان تفتیش کاروں نے جہازوں کے معائنے کے بعد بتایا چاروں جہازوں

کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔حملے دھماکہ خیز مواد سے کئے گئے۔ دوسری طرف

ایران نے ان حملوں سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اس واقعے کی غیر

جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کیونکہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ

ایران اور امریکہ کی جنگ کئی اور ملکوں کے مفاد میں ہے جن میں اسرائیل

سرفہرست ہے ۔ایران اور سعودی عرب کے تعلقات مزید خراب کرنے اور امریکہ

کوغصہ دلانے کیلئے ایسے حملے اسرائیل ہی کراسکتاہے۔

سعودی جہازوں کو جس علاقے میں نشانہ بنایا گیا وہ تیل اور قدرتی گیس کی

ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ دوسری طرف سعودی آئل پائپ لائن اور ریفائنری پر

ڈرون حملوں کا الزام بھی یمن میں برسرپیکار حوثی باغیوں پر عائد کیا گیا ہے جو

ایران کے اتحادی ہیں۔ ان دو واقعات سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید

اضافہ ہو گیا ہے۔امریکہ پہلے ہی ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں پر عمل

درآمد کیلئے اپنے دو طیارہ بردار جنگی بحری جہاز ،لڑاکا طیارے اور دوسرا ساز

و سامان مشرق وسطیٰ منتقل کر چکا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کی ایک تاریخ ہے جس میں

انقلاب ایران کے بعد مزید اضافہ ہوا اور عرب ممالک اور امریکہ کے ساتھ انہی

اختلافات کے باعث ایران نے عراق کے ساتھ طویل جنگ بھی لڑی جو بنیادی

طورپر ’’شط العرب ‘‘پر قبضے کیلئے تھی مگر کوئی بھی ملک اس پر مکمل

قبضہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا،اس وقت تمام عرب ممالک عراق کے اتحادی

تھے جبکہ ایران نے تنہا اپنے وسائل سے یہ جنگ لڑی۔ اب بھی امریکہ ایران

کیخلاف کارروائی کیلئے سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک کو اسی طرح

استعمال کرنا چاہتا ہے جس طرح عراق کی جنگ میں سعودی عرب اور دوسرے

ممالک کا اتحاد بنا کر انہیں استعمال کیا گیامگر اس بار امریکہ کو وہ پوزیشن

حاصل نہیں جو عراق کے خلاف کارروائی کے وقت حاصل تھی کیونکہ عراق

کیخلاف کارروائی کیلئے اقوام متحدہ نے اجازت دی تھی مگر اس وقت ایران کے

خلاف تمام کارروائی امریکہ اپنے بل بوتے پر کر رہا ہے۔ یورپی یونین، روس،

چین اور اقوام متحدہ امریکہ کے اس اقدام کے شدید مخالف ہیں۔

یورپی یونین کے کچھ ممالک روس اور چین نے امریکی پابندیوں کی

مخالفت کرتے ہوئے ایران کیساتھ تجارت اور ایرانی تیل کی خریداری جاری

رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ترکی بھی اس معاملے میں ایران کے ساتھ ہے اور

امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی کھل کر

مخالفت کا اعلان کر چکا ہے جبکہ عراقی قیادت نے بھی ڈھکے چھپے الفاظ میں

امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کی حمایت نہ

کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

دوسری طرف امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوروس کا دورہ ملتوی کرکے

یورپی ممالک کے دورے پر پہنچ گئے جہاں برسلزمیں انہوں نے یورپی وزراء

خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور ایران کے نیوکلیئر ڈیل اور تجارتی پابندیوں کے

حوالے سے مشاورت کی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک ایران کے

خلاف امریکی پابندیوں کی نہ صرف حمایت کریں بلکہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل

کے خاتمے کے حوالے سے بھی امریکی موقف کی حمایت بھی کریں مگر امریکی

وزیر خارجہ کو اس دورے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا کیونکہ زیادہ تر یورپی

ممالک کا واضح موقف تھا کہ امریکہ کے ایسے اقدامات سے امریکہ اور ایران

کے مابین جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

برطانوی وزیرخارجہ جیریمی ہنٹ نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ

دوٹوک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے ساتھ جوہری

معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے اور تجارتی پابندیوں سے جنگ کے شعلے

بھڑک سکتے ہیں جس کے ایران اور امریکہ دونوں ذمے دار ہوں گے۔ جرمنی

،فرانس اور برطانیہ نے ایران کیخلاف کارروائی کے حوالے سے کسی بھی قسم

کی حمایت کی یقین دہانی سے انکار کر دیا۔ یوں امریکی وزیرخارجہ کا یہ دورہ

مکمل طور پر ناکام رہا۔ دوسری طرف امریکی وزیر دفاع پیٹرک مائیکل شناہن نے

ایران سے نمٹنے کیلئے اپنا منصوبہ صدر ٹرمپ کو پیش کر دیا۔ نیویارک ٹائمز

کے مطابق وائٹ ہائوس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی قائم مقام وزیر

دفاع نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی

کیلئے ایک لاکھ 20ہزار امریکی فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کیلئے تیار ہے، تاہم

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کی منظوری دی

ہے یا نہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ اگر یہ فوج بھیجتا ہے تو یہ

مشرق وسطیٰ کے کس ملک میں تعینات ہو گی۔

امریکی قومی سلامتی کے ترجمان نے بتایا کہ اگر امریکہ یہ فوج مشرق

وسطیٰ بھیجتا ہے تو یہ 2003ء میں عراق پر حملے کیلئے بھیجی جانیوالی فوج

کے برابر ہو گی۔بظاہر امریکہ یہ تمام اقدامات ایران پر دبائو بڑھانے کیلئے کر رہا

ہے کیونکہ ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی امریکہ کو ایک اور طویل

جنگ میں دھکیل دے گی جو ابھی شام سے بڑی مشکل سے فارغ ہو رہاہے اور

افغانستان میں طویل عرصے سے اسے ذلت کا سامنا ہے۔ امریکہ یہ بات اچھی

طرح جانتا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی سے جنگ صرف ایران تک محدود

نہیں رہے گی بلکہ پورا عرب خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ

یورپی ممالک اور بیشتر عرب ممالک ایسی کسی جنگ کے حامی ہیں اور نہ ہی

اس کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ امریکہ ایسی دھمکیاں صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے

دے رہا ہے کیونکہ امریکی تجارتی پابندیوں سے ابھی تک وہ ایران کو جھکا پایا

اور نہ ہی وہ یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں بشار الاسد کی حکومت کی حمایت

سے اسے پیچھے ہٹا پایا ہے۔

امریکہ نے ایران کے خلاف نہ صرف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں بلکہ

امریکہ نے ایران سے تیل خریدنے والے پانچ بڑے ملکوں چین، بھارت، جاپان،

جنوبی کوریا اور ترکی کیلئے استثنیٰ بھی ختم کر دیا ہے۔ امریکی پابندیوں کے

باوجود ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ اس پورے معاملے میں بظاہر ایران مظلوم

ہے۔ ایران نے مجموعی طور پر جوہری معاہدے کی پاسداری کی تھی اور اقوام

متحدہ سمیت تمام جوہری مبصرین نے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی اس کے

باوجود امریکہ کی طرف سے یکطرفہ طورپر جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے

اعلان کو پوری دنیا امریکہ کی غلطی تصور کرتی ہے۔روس کے وزیرخارجہ نے

معاہدے میں شامل تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری

معاہدے کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں جبکہ چین اور برطانیہ کا بھی یہی

موقف ہے اور اس ساری صورت حال کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دے رہے ہیں۔

(تجزیہ…..:چوہدری عاصم ٹیپو ایڈووکیٹ )