160

شرح سود میں 1.50 فیصد اضافہ، ڈالر 152روپے کا ہوگیا، عالمی مارکیٹ میں سونا سستا، پاکستان میں مزید مہنگا

Spread the love

کراچی(جے ٹی این آن لائن اکنامک رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس کے بعد آئندہ دو

ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی بینک نے شرح سود میں

1.50 فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد شرح سود 10.75 سے بڑھ کر 12.25 فیصد

ہوگئی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی سخت کیے جانے کے باوجود نجی

شعبے کا قرض 9 اعشاریہ 4 فیصد بڑھا ہے۔ مہنگائی کی اوسط شرح گزشتہ سال

3.8 فیصد کے مقابلے میں 7 فیصد ہو گئی ہے۔ مرکزی بینک کے اعلامیے کے

،

مطابق گزشتہ 3 ماہ میں خوراک، ایندھن اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے

مہنگائی میں کافی اضافہ ہوا، اگلے سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا امکان

ہے۔ دو ماہ قبل پالیسی ریٹ میں 75 بیسزز پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا تاہم گزشتہ

روز پالیسی ریٹ میں 150 بیسززپوائنٹس کا اضافہ کیا گیا جو دو ماہ قبل پالیسی

ریٹ 10 اعشاریہ 75 فیصد تھا۔ اسوقت شرح سود ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح

پر موجود ہے۔ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے مئی تک حکومت نے اسٹیٹ

بینک سے ڈھائی گنا زائد قرض لیے جو تقریباً 48 کھرب روپے ہیں۔ آئندہ مالی سال

کے دوران شرح نمو سست رہے گی جبکہ زراعت اور صنعت کے شعبوں میں

سست روی معاشی سست روی کی اہم وجوہات ہیں۔

اسٹیٹ بینک کا توقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا ہے رواں سال حقیقی جی ڈی پی

نمو کا دو تہائی سے زائد حصہ خدمات سے آنے کی توقع ہے اور سال 2020 میں

شرح نمو میں اضافہ ہوگا۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 29 فیصد

کمی ہوئی، گزشتہ مالی سال یہ خسارہ 13 ارب 60 کروڑ ڈالر تھا جو رواں مالی

سال کم ہو کر 9 کھرب 60 ارب روپے ہوگیا۔ خسارے میں کمی سے متعلق مرکزی

بینک نے بتایا اس کی بڑی وجہ درآمدات میں کمی و ترسیلات زر میں اضافہ ہے ،

تاہم اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا تو خسارہ مزید کم ہوسکتا

تھا۔ رواں مالی سال جولائی سے مارچ کے دوران نان-آئل تجارتی خسارہ کم ہوکر

11 ارب ڈالر رہ گیا جبکہ گزشتہ برس یہ خسارہ 13 ارب 70 کروڑ ڈالر تھا۔

مرکزی بینک کے مطابق اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں درآمدات اور برآمدات

میں فرق کم ہو رہا، طلب اور رسد میں فرق کے باعث شرح مبادلہ دباؤ میں ہے اور

اس کے اتار چڑھاؤ کی اصل وجہ ماضی کا عدم توازن ہے۔

ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے پر مانیٹری پالیسی میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا

ہے اسٹیٹ بینک، کرنسی مارکیٹ میں کسی بڑی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے

ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ رواں مالی سال مالیاتی خسارہ گزشتہ سال کے

مقابلے میں زیادہ رہنے کا امکان ہے جس کی بڑی وجہ ٹیکس میں کمی اور سود

کی مد میں ادائیگیاں ہیں۔ رواں سال حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 2.4 گنا زیادہ

قرض لیا جبکہ مانیٹری پالیسی سخت کیے جانے کے باوجود نجی شعبے کے

قرض میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا۔

دریں اثنا انٹربینک میں ڈالر ایک روپے 78 پیسے مزید مہنگا ہوکر 149 روپے

65 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ایک روپے مہنگا ہوکر 152 روپے کا ہوگیا۔

انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا اور اوپن

مارکیٹ میں ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 151 پر پہنچ گیا۔ انٹربینک میں

ڈالر پہلے 93 پیسے مہنگا ہوکر 148 روپے 80 پیسے کا ہوا اور کاروبار کے

دوران ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا جس کے بعد ڈالر ایک روپے 53 پیسے

مہنگا ہوکر 149 روپے 40 پیسے کا ہوگیا۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر مزید 25

پیسے مہنگا ہوکر ایک روپے 78 پیسے اضافے کے ساتھ 149 روپے 65 پیسے کا

ہوگیا۔ انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں اضافے کے ساتھ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر

ایک روپیہ مہنگا ہوکر 152 روپے کا ہوگیا۔

،

دوسری طرف بین الاقومی گولڈ مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں3 ڈالر

کی کمی،تاہم مقامی صرافہ مارکیٹوں میںفی تولہ سونا 200 روپے مہنگا ہو گیا۔ آل

کراچی صراف اینڈ جیولرزایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روزبین الاقوامی گولڈ

مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 3 ڈالرکی مزید کمی ریکارڈ کی گئی ،

جس کے نتیجے میں فی اونس سونے کی قیمت 1278 ڈالرسے گھٹ کر 1275 ڈالر

ہو گئی۔تاہم کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی

، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 200

روپے اور10 گرام سونے کی قیمت میں 172 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جس

کے نتیجے میں فی تولہ سونے کی قیمت 71300 روپے سے بڑھ کر 71500

روپے اور دس گرام سونے کی قیمت 61128 روپے سے بڑھ کر 61300 روپے ہو

گئی۔ چاندی کی فی تولہ قیمت اوردس گرام قیمت میں استحکام رہا، جس کے نتیجے

میں چاندی کی فی تولہ قیمت 870.00 روپے اوردس گرام چاندی کی قیمت

745.88 روپے پرمستحکم رہی۔