114

روزے 29، عیدالفطر 5 جون کو ہونے کا قومی امکان، ماہر فلکیات ڈاکٹر شاہد قریشی

Spread the love

کراچی(جے ٹی این آن لائن)

پاکستان میں عیدالفطرکا چاند 29 رمضان المبارک بروز منگل 4 جون کونظرآنے کا

قوی امکان ہے اور عیدالفطر بدھ 5 جون کوہوگی۔ جامعہ کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف

اسپیس اینڈ پلانیٹری ایسٹروفزکس کے سابق ڈائریکٹراورمعروف فلکیاتی سائنسدان

پروفیسرڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق شوال کے چاند کی پیدائش پیر3 جون بمطابق

28 رمضان المبارک کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر3 بجکر2 منٹ پر ہوگی

اس روز3 جون کو کراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمرمحض4 گھنٹے

اور16منٹ ہوگی اورچاند کراچی کے افق پرغروب آفتاب کے ایک منٹ کے اندر

ہی ڈوب جائے گا، غروب آفتاب کے وقت اس کی افق سے بلندی ایک ڈگری ہوگی

جبکہ پشاور میں3 جون بمطابق 28 رمضان المبارک کوغروب آفتاب کے وقت چاند

کی عمر 4 گھنٹے 19 منٹ ہوگی، چاند غروب آفتاب سے2 منٹ اور16 سیکنڈ قبل

ہی ڈوب جائے گا اور غروب آفتاب کے قریبی افق سے نیچے ہوگا ان حالات میں

ہلال کی رویت ناممکن ہوتی ہے۔

واضح رہے سائنسی بنیادوں پر چاند کی رویت کے لیے یہ لازمی ہے کہ چاند

غروب آفتاب کے بعد غروب ہواورافق پراس کی سطح کئی ڈگری بلند ہو۔ مزید

براں 4 جون بمطابق 29 رمضان کو کراچی میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی

عمر28 گھنٹے 16منٹ ہوگی اورچاند غروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعد تک افق پر

موجود رہے گا اس روز چاند کی افق پر بلندی 12 ڈگری تک ہوگی جبکہ 4 جون

کو پشاور میں غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 28 گھنٹے 18منٹ ہوگی، چاند

غروب آفتاب کے ایک گھنٹے بعد تک افق پر موجود رہے گا اور اس کی افق پر

بلندی 11 ڈگری سے بھی زائد ہوگی لہذاپشاورسمیت پورے پاکستان میں 4 جون

کوہی چاند کی رویت ممکن ہے کیونکہ اس روز چاند غروب آفتاب سے قبل غروب

ہونے کے بجائے اس کے بعد بھی افق پرموجودرہے گا اور29 رمضان کے بعد5

جون کو ہی یکم شوال ہوگی۔

ڈاکٹرشاہد قریشی کے مطابق قمری ماہ کی ہر29 تاریخ کوکائنات کو سائنسی

بنیادوں پر 3 ریجنز(اے، بی اور سی) میں تقسیم کیا جاتا ہے، پہلا حصہ وہ جہاں

چاند نظرآنے کے امکانات حتمی ہوتے ہیں، دوسرا وہ حصہ جہاں چاند کی رویت

ہوبھی سکتی ہے اورنہیں بھی، جبکہ تیسرا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں چاند قمری ماہ

کی29 تاریخ کو کسی صورت نظرنہیں آسکتا، تاہم رمضان کی29 تاریخ کوپاکستان

کا افق کائنات کے اس پہلے حصے میں ہوگا جہاں چاند نظر آنے کے غالب

امکانات موجود ہیں۔

یاد رہے 5 مئی2019 کورمضان کے چاند کے موقع پر پاکستان دنیا کے تیسرے

ریجن میں تھا جہاں29 شعبان کوچاند کی رویت ممکن نہیں تھی۔ ماہرفلکیات

ڈاکٹرشاہد قریشی کے تحقیق کے مطابق اگرچاند اپنی پیدائش کے چند گھنٹے بعد

سورج سے انتہائی نزدیک ہوگا تو وہ سورچ کی تیز چمک اورشام کی دھندلاہٹ

میں ہوگا، پتلا ہو گا جس کے سبب اس کی رویت سورج کی چمک کے سبب انتہائی

مشکل ہوتی ہے تاہم اگرچاند کافی روشن اور وسیع یا چوڑا ہوتواس کامطلب اس کا

فاصلہ سورج سے ایک ضروری حد تک زیادہ ہوگا اس صورت میں چاند کی

رویت کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے نئے چاند کی پیدائش سے مراد وہ لمحہ یا وقت ہے جب ہمارے آسمان

پر سورج اورچاند کی پوزیشن کے مابین مشرق اورمغرب کا کوئی فرق موجود

نہیں رہتا بلکہ چاند سورج کے مقابل آجاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply