65

طالبان سے درپردہ مذاکرات، واشنگٹن میں افغان سفیر رویا رحمانی ٹرمپ انتظامیہ پر برس پڑیں

Spread the love

واشنگٹن(بیورو چیف) امریکہ نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کرکے اپنی

حمایت یافتہ افغان حکومت کو اندھیرے میں ڈال دیا ہے ۔ واشنگٹن میں خاتون افغان

سفیر رویا رحمانی نے امریکی میڈیا کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے واضح

کیا ایسی صورت میں اگر کوئی معاہدہ ہوا تو اسے افغان عوام کی تائید حاصل نہیں

ہوگی۔ افغان سفیر کا یہ سخت تبصرہ امریکہ اور اس کی اتحادی افغان حکومت کے

درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی ایک تازہ مثال ہے۔ یاد رہے امریکی مندوب افغان نژاد

زلمے خلیل زاد نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ا فغا ن طالبان کیساتھ قطر و

دیگر مقامات پر براہ راست مذاکرات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس طرح کے

رابطوں کی پہلے مثال نہیں ملتی جن میں پاکستان اور قطر پوری طرح مدد کر

رہے ہیں۔ افغان سفیر نے یہاں رپورٹرز کے ایک چھوٹے گروپ کو ان خدشات

سے آگاہ کیا اور بتایا اس سے نہ صرف جنگی محاذوں پر افغان طالبان کے

حوصلے بڑھیں گے بلکہ اس سے مشکلات کا شکار افغان صدر اشرف غنی پر

دبائو میں اضافہ ہوگا۔ امریکی مندوب نے افغان انتظامیہ کو ان مذاکرات کے حوالے

سے پوری طرح اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے واضح کہا اگر امن معا ہد ہ ہوتا ہے

اور اسے پائیدار بھی بنانا ہے تو یہ افغان عوام کو شامل کئے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔

خاتون افغان سفیر نے سوال اٹھایا ’’افغان طالبان کس طرح ساڑھے تین کروڑ افغان

عوام کی نمائندگی کا دعوی کرسکتے ہیں، وہ ہماری حکومت میں نہ ہی ہمارے

نمائندے ہیں‘‘۔ افغان سفیر کے ان ریمارکس سے کافی عرصہ قبل کابل میں

سینکڑوں معتبر افغان لویا جرگے میں افغان امن مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا

تھا جس میں پار لیمینٹ کے ارکان، سینیٹرز اور صوبائی اور ضلعی لیڈر شامل

تھے۔ افغان سفیر نے زور دے کر کہا افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ ان افراد کو

کرنا چا ہئے جو اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply