210

بلڈ ٹیسٹ سے کئی برس قبل امراض قلب کی پیشگوئی ممکن

Spread the love

نیویارک(جے ٹی این آن لائن) امراض قلب اکثر اس وقت سامنے آتے ہیں جب

معاملہ کافی بگڑ چکا ہوتا ہے اور مریض ان کے بارے میں جان کر دنگ رہ جاتا

ہے مگر اب ایک خون کے ٹیسٹ سے کئی برس قبل ہارٹ اٹیک کے خطرے کے

بارے میں جاننا ممکن ہوسکے گا۔ یہ انتہائی حساس ٹروفینین ون بلڈ ٹیسٹ امراض

قلب کی پیشگوئی کئی برس پہلے کرسکے گا یہاں تک کہ ایسے افراد میں بھی جن

میں کسی قسم کی علامات سامنے نہیں آئی ہوں گی۔ طبی جریدے جرنل سرکولیشن

میں شائع تحقیق کے دوران 15 برس کے عرصے میں 54 تا 73 سال کے 8 ہزار

سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا۔1998 میں جب پہلی بار ان افراد کے خون کے

نمونوں کو لیا گیا تو ان میں امراض قلب کا کوئی امکان موجود نہیں تھا جس کے

بعد دوا ساز کمپنی ایبٹ کے تیار کردہ انتہائی حساس بلڈ ٹیسٹ میں ان کے خون

میں ٹروپونین کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔ یہ ایک ایسا پروٹین ہے جو دل اس وقت

خارج کرتا ہے جب اسے نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے اور خون کے نمونوں میں اس

کی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ اس تحقیق میں رضاکاروں کا جائزہ 15 برس تک لیا

گیا تاکہ دیکھا جاسکے انہیں امراض قلب کا سامنا تو نہیں ہوتا۔85 فیصد محفوظ شدہ

خون کے نمونوں میں ٹروپونین کی تشخیص ہوئی اور نتائج سے ثابت ہوا کہ جن

افراد کے نمونوں میں اس پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہے، ان میں ہارٹ اٹیک کا

خطرہ دوگنا جبکہ فالج کا خطرہ 3 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ٹروپونین کی زیادہ مقدار ہونے

سے لوگوں میں ہارٹ فیلیئر کے باعث ہسپتال پہنچ جانے کا خطرہ 4 گنا زیادہ بڑھ

جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق امراض قلب اور فالج دنیا میں اموات کی

سب سے بڑی وجہ ہے تاہم ان کی روک تھام اس وقت ممکن ہے جب ان کی

تشخیص جلد ہوجائے گی اور طرز زندگی میں تبدیلیاں لاکر اس خطرے کو نمایاں

حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ یہ خون کا ٹیسٹ فی الحال تحقیقی مراحل کے لیے

استعمال ہورہا ہے مگر ایبٹ اسے جلد امریکا میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی

ہے۔