149

حکومت نے ڈالر کے پر کاٹ دیئے

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) حکومت نے مارکیٹ سے زائد قیمت پر ڈالر فروخت

کرنیوالی ایکسچینج کمپنیوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔بدھ کو وزیراعظم

عمران خان کی زیر صدارت روپے کے مقابلے میں غیر ملکی کرنسیوں کی قدر

میں اضافے کے حوالے سے اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ایف

بی آر، گورنر اسٹیٹ بینک، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی آئی بی کے علاوہ

سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کا وفد بھی شریک ہوا۔ اجلاس میں

ایمنسٹی اسکیم کے تحت اثاثے ظاہر نہ کرنے والوں کے خلاف مجوزہ کارروائی

پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس کے دوران دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی

مارکیٹ قیمت خرید 143 روپے 50 پیسے جبکہ قیمت فروخت 144 روپے ہے،

اسی طرح سعودی ریال کی قیمت خرید 38 روپے 20 پیسے جبکہ قیمت گروخت

38 روپے 35 پیسے ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طے شدہ کرنسی ریٹ سے

انحراف کرنے والی کمپنیوں کو کوئی رعایت نہیں دی جائیگی، مارکیٹ سے زائد

قیمت پر ڈالر فروخت کرنے والی ایکس چینج کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی

کی جائے گی۔اس سے قبل اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت اڑھائی روپے بڑھ

گئی جس سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 146 روپے 25 پیسے پر پہنچ

گیا لیکن کاروبار کے اختتام پر پھر نیچے آگیا۔ایکسچینج کرنسی ایسوسی ایشن کے

مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2.25 روپے مہنگا ہو کر ملکی تاریخ کی بلند ترین

سطح 146 روپے 25 پیسے پر پہنچا۔جب کہ انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 141.93

پیسے پر رہی۔ایکس چینج کرنسی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق کاروبار

کے اختتام پر ڈالر واپس 144 روپے پر آگیا۔ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بعد جب

ایکسچینج کرنسی ایسوسی ایشن کے نمائندوں کی وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی

اور حکومت نے سخت اقدامات کا اعلان کیا تو ڈالر کی قیمت واپس 144پر آگئی