105

بلوچستان کو بیرونی سے زیادہ اندورنی خطرات لاحق

Spread the love

(تجزیہ:…. ابو رجا حیدر)

وطن عزیز کی جانباز سیکیورٹی فورسز نے سی پیک منصوبہ کے حب گوادر میں

پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پرفوجی وردیوں میں ملبوس دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر

تمام حملہ آوروں کو جہاں جہنم واصل کر دیا وہیں ایک مرتبہ پھرارض پاک کے

دشمنوں کو واضح پیغام دیا کہ پاک دھرتی کے سپوت اس کا دفاع کرنے اور مزموم

عزائم رکھنے والی قوتوں کو ناکام و نامراد کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،

بلوچستان میں ایک مہینے (12اپریل تا11مئی) کے دوران دہشت گردی کی چھ بڑی

وارداتیں ہو چکی ہیں،12 اپریل کو کوئٹہ میں ہزارہ کمیونٹی پر حملے میں20 افراد

شہید اور50 کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے، اسی روز چمن میں ایف سی کی ایک

گاڑی کو ٹارگٹ کیا گیا تھا،جس میں دو افراد شہید اور10زخمی ہوئے تھے۔ 18

اپریل کو مکران کوسٹل ہائی وے پر بس کے14مسافروں کو شناختی کارڈ دیکھ کر

گولیاں ماری گئیں۔ وزیر داخلہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا بس حملے میں ملوث

دہشت گرد ایران سے آئے تھے،جس پر ایران سے احتجاج بھی کیا گیا تھا،9 مئی

کو قلعہ عبداللہ دھماکے میں ایک قبائلی لیڈر سمیت3 افراد شہید ہو گئے تھے۔10مئی

کو تین ایف سی اہلکاروں کو حملہ کرکے شہید کر دیا گیا تھا اور11مئی کو پرل

کانٹی نینٹل پر ناکام حملہ کیا گیا تو اس کے دوسرے ہی روز یعنی بارہ مئی کو

کوئٹہ کے علاقہ سیٹلائیٹ ٹائون میں پولیس وین کو موٹر سائیکل پر نصب ریمورٹ

کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں 5 پولیس جوانوں سمیت 6 افراد

شہید اور 11 زخمی ہو گئے ،

پرل کانٹی نینٹل ایک پہاڑی پر واقع اور گوادر کا واحد فائیو سٹار ہوٹل ہے،جہاں

کاروباری سلسلے میں آنے والے اکثر و بیشتر لوگ ٹھہرتے ہیں،جن میں چینیوں

سمیت غیر ملکی بھی ہوتے ہیں۔ گوادر میں صنعتی اور تعمیراتی سرگرمیوں میں

بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ کی توسیع کے بعد یہاں سے مال بردار

جہاز دوسرے ممالک کو جانا شروع ہو گئے ہیں اور باہر سے آنے والا مال بھی

بندرگاہ پر اُتارا جا رہا ہے۔ سی پیک کا آغاز بھی گوادر سے ہوتا ہے، جس کا پہلا

مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور دوسرے مرحلے پر کام شروع ہونے والا ہے۔ گوادر

انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تکمیل کے بعد یہ شہر صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کا

ایک عالمی مرکز بن جائے گا اور سی پیک کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے

بعد چین کا تجارتی مال سڑک کے راستے گودار بندرگاہ پر پہنچے گا اور گوادر

میں اترنے والا مال چین جائے گا۔ اگر سنٹرل ایشیا کو بھی گوادر سے منسلک کیا

جائے تو پھر یہ مستقبل کی معروف ترین بندرگاہ ہو گی،اِس لئے دہشت گردوں نے

پورے بلوچستان کو ٹارگٹ کر رکھا ہے اور اب خاص طور پر ایک ایسے ہوٹل کو

نشانہ بنایا گیا جہاں کاروباری سرگرمیوں کے سلسلے میں آنے والے ٹھہرتے ہیں۔

یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا جس سے ہوٹل میں ٹھہرئے ہوئے مہمانوں نے اطمینان کا

سانس لیا ہوگا، تاہم دہشت گردوں نے جو بے چینی پھیلانے کی کوشش کی اگر

زیادہ جانی نقصان ہوتا تو اس سے خوف کی لہریں پھیلتیں اور جوسرمایہ کار اب

گوادر کا رخ کر رہے ہیں ان کے آگے بڑھتے قدم رک جاتے، گوادر بندرگاہ کو

غیر ملکی سیکیورٹی خطرات بھی ہوسکتے ہیں لیکن اس وقت جو اندرونی خطرات

ہیں صوبے کو ان سے بچانے کی اشد ضرورت ہے۔ گوادر میں جو دوسرے ہوٹل

ہیں وہاں سیکیورٹی انتظامات کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ اگر ایک نسبتاً محفوظ

جگہ پر واقع ہوٹل تک مسلح افراد پہنچ سکتے ہیں جو سیکیورٹی فورسز کی بروقت

کارروائی کی وجہ سے اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہوسکے تو دوسرے مقامات پر

ان کا پہنچنا نسبتاً آسان ہے، ان کی کامیابی کی صورت میں گوادر کے مستقبل کے

منصوبوں پر منفی اثر مرتب ہوتا۔

سی پیک کی وجہ سے گوادر مستقبل کی سرمایہ کاری کا بڑا مرکز ہے اور

بدخواہوں کی یہ کوشش ہے کسی نہ کسی طرح یہ منصوبہ کامیاب نہ ہونے پائے

اور کہیں راستے ہی میں دم توڑ جائے۔ اس حوالے سے ہونے والی دہشت گردی

کی وارداتوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو ان کا ایک ہی مقصد نظر آتا ہے کہ کسی

طرح گوادر اور سی پیک پر چینی سرمایہ کاری رک جائے۔ اس مقصد کے لئے

دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ چینی

قرضوں کے بارے میں افسانے تراشے گئے، یہاں تک کہ امریکہ کی طرف سے

یہ بیان آگیا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ نہ دے، کیونکہ یہ قرضہ چینی

قرضے اتارنے کے لئے استعمال کیا جائے گا، حالانکہ ابھی چینی قرضوں کی

واپسی کا وقت ہی نہیں آیا۔ پھر یہ جواز گھڑا گیا کہ چینی قرضے انتہائی مہنگے

ہیں اس سلسلے میں جب چینی سفیر کا بیان سامنے آیا تو لوگوں کی آنکھیں کھل

گئیں۔ جس میں انہوں نے کہا تھا چین نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے ایسے

قرضے دیئے جن پر کوئی سود نہیں لیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ایک حکومتی

مشیر نے سی پیک کے منصوبے ایک سال کے لئے منجمد کرنے کی تجویز بھی

دے دی، لیکن ان سب سازشوں کا جب توڑ کرلیا گیا اور پھر بھی سی پیک پر کام

جاری رکھنے کے عزم کا برملا اظہار کیا گیا تو پھر اس مقصد کے لئے دہشت

گردی کا سہارا لیا گیا اور سندھ کے بعض حصوں اور بلوچستان میں ہونے والی

دہشت گردی کی وارداتوں کا ہدف بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح

عالمی سرمایہ کاروں کو اس علاقے میں سرمایہ لگانے سے روکا جائے۔ سعودی

عرب بھی گوادر میں آئل ریفائنری قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ سی پیک کی توسیع اور

اس میں تیسرے فریق کی شمولیت کا آغاز ہے اس کے بعد مزید ممالک بھی سی

پیک سے مستفید ہونے کے لئے آگے آسکتے ہیں اور یہ صحیح معنوں میں گم

چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔ اس لئے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کی کوشش

ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس منصوبے کو روکا جائے۔

گوادر پی سی پر تازہ ترین حملہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جسے ناکام بنا کر

سیکیورٹی فورسز نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ دہشت گرد جہاں کہیں سے بھی آئیں

، ان کو ناکام بنایا جائے گا، بروقت کارروائی کرکے سیکیورٹی فورسز نے تمام

دہشت گردوں کو ہلاک کردیا اور عملاً یہ پیغام بھی دے دیا کہ دہشت گردوں کو اگر

کہیں کامیابی ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سیکیورٹی فورسز ان کے

عزائم سے بے خبر ہیں یا ان کی سرگرمیوں پر ان کی نظر نہیں ، ایسے بروقت

اقدامات اپنی جگہ حوصلہ افزا ہیں۔ تاہم دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے

وسیع تر کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے انٹیلی جنس سرگرمیوں کو

زیادہ مربوط ہونا چاہئے تاکہ کسی دہشت گرد گروپ کو دہشت گردی کا موقع میسر

نہ آئے۔