89

ادویات کی قیمتوں میں کمی سے انکار، حکومت کا فارما کمپنیوں کےخلاف ڈرگ کورٹ جانے کا فیصلہ

Spread the love

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) دوا ساز کمپنیوں نے 395 ادویات کی قیمتوں میں کمی

کرنے سے انکار کر دیا یہ انکشاف سیکرٹری قومی صحت نے گزشتہ روزسینیٹ

قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے اجلاس میں کیا اور مزید کہا دواساز کمپنیوں

نے قیمتوں میں کمی کے بجائے سندھ ہائیکورٹ سے اسٹے لے لیا ہے، حکومت

قیمتیں کم نہ کرنیوالی دواساز کمپنیوں کیخلاف ڈر گ کورٹ جائیگی اور دوا سا ز

کمپنیوں سے چار ماہ میں کمایا گیا منافع بھی واپس لے گی، ادویات کی قیمتوں کا

تعین ڈرگ پرائسنگ کمیٹی کر تی ہے اس میں سربراہ ڈریپ کا کوئی کردار نہیں

جبکہ کمیٹی نے ادویات کی قیمتو ں میں 2 سو فیصد سے زائد اضافہ کی وجوہات

پر بر یفنگ طلب کر نے سمیت ترجمان وزیر اعظم برائے انسداد پولیو پروگرام کو

سوشل میڈیا پر کئے گئے ٹوئیٹس پر وضاحت دینے کیلئے آئندہ اجلاس میں بلا لیا ،

چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا انہوں نے اپنے ٹویٹ میں سینیٹ کا ذکر کیا، اگر وہ اس

طرح کرینگے تو بات دور تک چلی جائیگی ، وہ وزیر اعظم ہیں نہ انہیں وز یر

اعظم کی طرح برتائو کرنا چاہیے، ہم نے ٹوئٹ کی جنگ نہیں لڑنی جس کی جو

غلطیاں ہیں ان کو وہ قبول کرے، ان کا جو بھی موقف ہے یہاں آکر بیان کریں ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی میاں عتیق شیخ کی

زیر صدارت پار لیمنٹ ہائوس اسلام آ باد میں ہواجسے وفاقی سیکرٹری قومی

صحت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا

ادویات کی قیمتوں میں گز شتہ اضافہ 2001ء میں کیا گیا تھا۔ 2013ء میں ادویات

کی قیمتوں میں اضافہ کر کے فیصلہ واپس لے لیا گیا جس پر دواساز کمپنیوں نے

عد لیہ سے رجوع کیا، سپریم کورٹ نے ادویات کی قیمتوں بار ے میں دس ہفتوں

میں فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کئے،ڈرگ ریگولیٹر ی اتھارٹی (ڈریپ) نے

دواساز کمپنیوں کو 395 ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے احکامات جاری کئے تھے

ڈریپ کی جانب سے ہارڈ شپ کو ٹہ والی 464 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا

گیا تھا جبکہ 30 ادویات کی قیمتوں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا۔ 40 ہزار ادویات

کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا، اجلاس کے دوران سینیٹر اسد اشرف نے

کہا ایک دم سے اتنے ایڈز کے کیسز کیسے سامنے آگئے؟ سینیٹر سراج الحق نے

کہا بجٹ سے پہلے بہت سارے واقعات سامنے آجاتے ہیں جیسے لاڑکانہ میں

سامنے آئے ہیں ، سینیٹر غوث محمد خان نیازی نے کہا سرنجوں کے دوبارہ

استعمال سے ایڈز پھیلتا ہے،چیئرمین کمیٹی نے وزارت صحت حکام سے کہا اس

حوالے سے جب رپورٹ آجائے تو کمیٹی سے شیئر کی جائے ، سیکرٹری صحت

نے کہا عدالت نے 16 اپریل کو اسٹے ختم کر لیا ، اصل جھگڑا464 ادویات کا ہے

،360 ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کا اضافہ ہوا، 52 ادویات کی قیمتیں 75

فیصد سے زیادہ بڑھیں ،قیمتوں میں کمی کا معاملہ کابینہ میں لے جا رہے ہیں،

کابینہ اس پر فیصلہ کرے گی ،چیئرمین کمیٹی نے کہا آپ کی بات سے ثا بت ہو گیا

دو سو فیصد سے زائد قیمتیں بڑھیں،آخر کن وجوہات پر قیمتیں بڑھیں اور کس نے

بڑھائیں، اس کو قانونی رنگ دیا گیا،فارما فیکٹر یوں نے کوئی کام غلط نہیں کیا ،

ثابت ہو گیا دوائیوں کی قیمت غلط دی گئی ،اجلاس میں اسلام آباد کے ایک نجی

ہسپتال کی چیریٹی کی زمین پر تعمیر کا معاملہ بھی زیر غور آیا ، سینیٹر میاں

عتیق شیخ نے کہا ہسپتال کو خاص مقصد کیلئے جگہ دی گئی، لیکن نہ تو وہ اس

ہسپتال کو چیرٹی ، نہ ٹیچنگ ہسپتال کے طور پر چلا رہے ہیں، اس موقع پرمتعلقہ

حکام کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا اس کی یونیورسٹی اور ہسپتال کے بورڈز

علیحدہ ہیں ، نہ تو اس کو کالج کے طور پر تسلیم کیا جا سکتا تھا نہ ہی یونیورسٹی

کے طور پر، مگر وہ کالج بھی بن گیا اور یونیورسٹی بھی بن گئی ، کمیٹی نے

معاملے پر پی ایم ڈی سی اور سی ڈی اے کو طلب کر لیا جبکہ ہسپتال کے پاس

موجود زمین کی تفصیلات بھی طلب کر لیں ، یاد رہے گزشتہ ہفتے وزیراعظم

عمران خان نے بنی گالہ میں نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کے اجلاس میں دواؤں کی

قیمتیں عام لوگوں کی پہنچ تک رکھنے کی ہدایت کی اور کہا ملک میں علاج کی

سہولتوں کو معیاری و آسان بنایا جائے، علاج معالجے کی سہولتیں عام آدمی کی

دسترس سے باہر نہ ہوں۔