89

سٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان برقرار،سرمایہ کاروں کے مزید19ارب روپے ڈوب گئے

Spread the love

کراچی (کامر س رپورٹر)پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کا تسلسل جاری

،کاروباری ہفتے کے دوسرے روزبھی اتارچڑھائو کے بعدمندی رہی اور کے ایس

ای100انڈیکس33900کی نفسیاتی حدسے گرگیا،مندی کے نتیجے میںسرمایہ کاروں

کے مزید19ارب7کروڑروپے سے زائدڈوب گئے ،کاروباری حجم گذشتہ روز کی

نسبت12.79فیصدکم جبکہ63.66فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی

گئی۔حکومتی مالیاتی اداروں، مقامی بروکریج ہائوسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی

جانب سے توانائی،سیمنٹ،بینکنگ،فوڈزاور کیمیکل سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی

ہوئی قیمتوں پر خریداری کے باعث کاروبارکا آغاز مثبت رجحان میں ہواٹریڈنگ

کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100 انڈیکس34065پوائنٹس کی سطح پر بھی

دیکھاگیاتاہم نئے وفاقی بجٹ میں سخت اقدامات کے خدشات، آئی ایم ایف سے بیل

آئوٹ پیکیج میں روپے کی قدر مزید گھٹنے، ڈسکائونٹ ریٹ میں مزید اضافے کے

خدشات اور نئے مالی سال کے بجٹ میں700سے 750ارب روپے کے اضافی

ٹیکس عائد ہونے کی خبروں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو اپنی لپیٹ میں لیا،

جس سے مقامی سرمایہ کار گروپ تذبذب کا شکار نظرآئے اور اپنے حصص

فروخت کرنے کو ترجیح دی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100 انڈیکس دوران

ٹریڈنگ33692پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر دیکھاگیاتاہم غیرملکی سرمایہ

کاروں کی جانب سے منافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں

پرخریداری کی گئی ، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی اورکے ایس

ای100انڈیکس کی33800کی حد بحال ہوگئی تاہم اتارچڑھائو کا سلسلہ سارادن

جاری رہا،مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس15.29پوائنٹس کمی

سے33885.09 پوائنٹس پر بندہوا۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی معیشت کی

صورتحال آئی سی یو میں زیر علاج مریض کی سی ہے، آئی ایم ایف معاہدے کے

بعد صورتحال کا بہتر ہونا حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ماہرین کے

مطابق سرمایہ کاروں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئے وفاقی بجٹ میں کیپٹل

مارکیٹ کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں ملے گا، یہی منفی عوامل گزشتہ

روزسٹاک مارکیٹ کی نفسیات پر چھائے رہے اور مارکیٹ تنزلی سے دوچارہوئی۔