142

کپتان صاحب اوور کم رنز زیادہ، ایسے نہیں چلےگا

Spread the love

(تحریر:…. زیڈ اے عباس )

تبدیلی کے نام پر عوام کے ووٹوں سے قائم ہوئی تحریک انصاف کی حکومت کو

آٹھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا، اس دوران واضح ہو گیا کہ عمران خان اور

پی ٹی آئی نے انتخابی جلسوں، پروگراموں اور منشور میں معاشی مسائل کے حل

کے لئے جو اقدامات تجویز کئے تھے وہ سراسر خود فریبی پر مبنی تھے۔ مثلا

اقتدار میں آئے تو اربوں ڈالرز کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے، بیرون ممالک

میں مقیم پاکستانی عمران خان کی حکومت کو اربوں ڈالرز بھیجیں گے، لوگ ٹیکس

دینا شروع کر دیں گے اور کرپشن کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کے

یہ سب دعوے سُن کر کوئی بھی شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ تحریک

انصاف معاشی اور دوسرے مسائل کے حل کے لئے جو نسخے تجویز کر رہی ہے

اس سب پر کیسے عمل ہو گا؟کیا دُنیا میں کوئی ایک بھی ایسا ملک ہے جہاں پر

بھرپور انقلابی اور جو ہری تبدیلیاں کئے بغیر یہ سب مقاصد حاصل کئے گئے

ہوں؟

آٹھ ماہ گزرنے کے بعد ملکی معیشت کی کیا صورتِحال ہے؟اس حوالے سے ملکی

اور عالمی اداروں کی جانب سے بہت سے اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں۔ اگر ہم

عالمی اداروں کے اعداد و شمار کو ایک طرف رکھتے ہوئے پاکستان کے اداروں

کے اعدداو وشمار ہی کو دیکھیں تو صورتحال بہت زیادہ خراب نظرآتی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گزشتہ ماہ کی رپورٹ کے مطابق مجموعی ملکی

پیداوار کی شرح 4 فیصد تک ہی رہے گی جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں

5.2فیصد کم ہے اسی طرح مہنگائی کی شرح بھی 6.5 سے7.5فیصد رہے گی،

یعنی اس میں اضافہ ہو گا ۔

معاشی ماہرین کی بات کریں تو ڈاکٹر فرخ سلیم کا شمار ایسے ماہرین میں ہوتا ہے

جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے دوران ان کی معاشی پالیسیوں

پر بھر پور تنقید کرتے رہے،بلکہ اکتوبر 2018ء میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ فرخ

سلیم معیشت اور توانائی کے امور پر پی ٹی آئی حکومت کے ترجمان ہوں گے۔

اب یہی فرخ سلیم اپنی تحقیق سے ثابت کر رہے ہیں کہ اگست 2018ء،یعنی پی ٹی

آئی کی حکومت آنے تک زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالرز تھے، دوست ممالک

سے قرضے ملنے کے باوجود ان میں اضافہ ہونے کی بجائے یہ کم ہو کر8.1ارب

ڈالرز تک پہنچ گئے۔اگست2018ء میں گردشی قرضہ1.1کھرب روپے تھا،اب یہ

1.4کھرب روپے سے زیادہ کا ہو چکا ہے۔ جنوری تا جولائی 2018ء میں غیر

ملکی سرمایہ کاری 4.1ارب ڈالر تھی اور جنوری 2019ء میں یہ کم ہو کر ایک

ارب ڈالر رہ گئی ۔یہ سب اعداد وشمار ثابت کر رہے ہیں کہ معاشی صورتِحال پی

ٹی آئی کی حکومت کے لئے بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے آ رہی ہے۔عمران خان کو

خود بھی اس چیلنج کا احساس ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت وزارتِ خزانہ،

اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیاں ہیں۔ کیا معاشی ٹیم کی

تبدیلی سے عمران خان مثبت نتائج حاصل کر پائیں گے؟اس اہم سوال کا جواب ہم

کسی اور سے نہیں، خود سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی طرف سے دیئے گئے

اعداد و شمار سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے استعفیٰ کے بعد 24

اپریل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے پیپلز پارٹی کے دور

(2008ء تا 2013ء) کے اہم معاشی اعدادو شمار پیش کئے۔اسد عمر کے مطابق

پیپلز پارٹی کے دور میں گروتھ ریٹ اوسط کے اعتبار سے 2.8 فیصد رہا، جو

ملکی تا ریخ کا کم ترین گروتھ ریٹ تھا۔اس وقت پاکستان میں افراط زر 6.8 فیصد

ہے، جبکہ پی پی پی کے دور میں افراطِ زر 12.3کی بلند شرح تک بھی پہنچا۔پی

پی پی کے دور میں قرضوں میں135فیصد تک اضافہ ہوا۔یہ بات انتہائی دلچسپ

ہے کہ اسد عمر پیپلز پارٹی کے جس پانچ سالہ دور کی معاشی کارکردگی کا ذکر

کر رہے ہیں ان میں سے تین سال تک عبدالحفیظ شیخ ہی معاشی معاملات کو دیکھ

رہے تھے، جن کو اب عمران خان نے اپنی معاشی ٹیم کا کپتان بنایا ہے۔ اب اس

سوال کا جواب جاننا مشکل نہیں کہ عمران خان کی معاشی ٹیم کی تبدیلی سے کوئی

مثبت نتا ئج نکلیں گے یا نہیں۔

1996ء سے2018ء تک، یعنی اپنی سیاست کے 22سال تک عمران خان آئی ایم

ایف سے قرض لینے کی سخت مخالفت کرتے رہے جب بھی کوئی حکومت آئی ایم

ایف سے رجوع کرتی تو عمران خان اپنے جلسوں میں دعویٰ کرتے کہ حکومت

اصلاحات نہیں کرنا چاہتی، کرپشن ختم نہیں کرتی ٹیکس کا نظام بہتر نہیں کرتی،

اِس لئے آئی ایم ایف کے پاس جا نا پڑتا ہے ورنہ اس کے پاس جانے کی ضرورت

ہی نہیں۔اب آٹھ ماہ تک وزیراعظم رہنے کے بعد عمران خان نے اپنی پوری معاشی

ٹیم ہی اِس لئے بدلی ہے تاکہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے میں آسانی رہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ سعودی عرب، چین اور متحدہ

عرب امارات سے قرضے اور امداد اِس لئے لے رہی ہے تاکہ آئی ایم ایف کی

سخت شرائط سے بچا جا سکے، مگر اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آئی ایم

ایف پاکستان کو قرض دینے کے لئے، جو شرائط عائد کر رہا ہے وہ بہت سخت ہیں

آئی ایم ایف کی کئی شرائط میں سے ایک، آدھ شرط کو ہی دیکھیں تو اس کا صاف

اندازہ ہوجائے گا جیسے پی ٹی آئی کی حکومت دو سال میں 700ارب روپے کی

ٹیکس چھوٹ ختم کرے، حکومت سیلز ٹیکس،انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد

میں 350 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کو ختم کرے۔ان شرائط کو ماننے خاص

طور پر سیلز ٹیکس میں ٹیکسوں کی چھوٹ ختم ہونے سے مہنگائی کا وہ طوفان

مچے گا کہ جس سے اسد عمر کے الفاظ میں عوام کی چیخیں نکل جا ئیں گی۔اسی

طرح آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ ’’ایف بی آر‘‘ اگلے بجٹ میں 5,500 ارب

روپے کا ٹیکس اکٹھا کرے۔کیا ’’ایف بی آر‘‘ اتنا ٹیکس اکٹھا کر سکتا ہے؟ معاشی

ماہرین کے مطابق ’’ایف بی آر‘‘ اگر جان بھی مار لے تو 3,950ارب روپے سے

زیادہ ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتا۔ آئی ایم ایف کی یہ چند شرائط ثابت کر رہی ہیں کہ

قرضہ ملنے کے با وجود معاشی صورتِحال میں بہتری کا امکان نظر نہیں آ رہا۔

آج پاکستان کی جو معاشی صورتِحال ہے اس کے لئے عمران خان اور پی ٹی آئی

کی حکومت کو ہی مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں یہ تو ہمارے حکمران طبقات کی

عشروں کی پالیسیاں ہیں جن کا نتیجہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔ عمران خان کا بنیادی

مسئلہ یہ ہے کہ وہ22سالہ سیاست کے دوران امراض کی تشخیص تو ضرور

کرتے رہے اور ان امر اض کے علاج کے حل کے لئے آسان سے ٹوٹکے بھی

تجویز کرتے رہے، مگر وہ یہ سمجھنے میں نا کام رہے کہ کسی نظام کو مکمل

طور پر تبدیل کئے بغیر جوہری اصلاحات نہیں لا ئی جا سکتیں اور نظام کو پرانے

ڈھانچے اور پرانے سیاسی و سماجی طبقات کے ساتھ مل کر بدلنا ناممکن ہوتا ہے۔

عمران خان کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ اگر حکمران خود ذاتی طور پر

ایماندار ہو تو ادارے اور سماج میں بھی سدھار آ جاتا ہے۔ آج عمران خان کے دور

میں تاریخ اور سیاسیات کے طالب علموں کو اس بات کا عملی ثبوت مل رہا ہے کہ

کسی سماج کو تبدیل کرنے کے لئے صرف حکمران کا ایماندار ہونا ہی ضروری

نہیں ہوتا،بلکہ اس ایماندار حکمران کو انتہائی اہلیت کے ساتھ پرانا ڈھانچہ توڑ کر

نئے ڈھانچے کی بنیاد رکھنی پڑتی ہے، مگر اس کے لئے بنیادی شرط ہی یہ ہوتی

ہے کہ پرانے، مفاد پرست اور آزمائے ہوئے طبقات پر بھروسہ نہ کیا جائے ورنہ

’’تبدیلی‘‘ کے نام پر وہی کچھ ہوتا ہے جو آج ’’نئے پاکستان ‘‘میں ہو رہا ہے۔

ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ عمران خان پہلے اپنے اندر موجود ان خامیوں کو

درست کریں جن کی بدولت ان کی حکومت کے انتہائی قیمتی آٹھ ماہ ضائع ہو چکے

ہیں،اگرانکا انداز حکمرانی یہی رہا کہ یہاں بھاشن دے دیا وہاں اپوزیشن پر بھڑاس

نکال لی تو ملک میں “تبدیلی” کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ ان ہی طبقات کو

مزید تقویت دینے کے مترادف ہوگا جنہیں عمران خان پہلے ہی ملک کی بد حالی کا

ذمہ دار قرار دیتے چلے آ رہے ہیں. اگر ہماری رائے سے اسلئے اتفاق نہ کریں کہ

قائد اعظم محمد علی جناح ٌ نے بھی کھوٹے سکوں کے ساتھ پاکستان قائم کر کے

دکھایا تھا تو بالکل بجا مگر انہوں نے تمام محاذوں پر خود ہی جا کر چومکھی لڑی

اس چومکھی اور آج کی چومکھی میں زمین و آسمان کا فرق ہے وہ بیگانوں کے

ساتھ تھی اور یہ اپنوں کےساتھ ہے اور گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کا محاورہ تو

آپ نے سن ہی رکھا ہوگا،